logo logo
AI Search

بلی کی خرید و فروخت پر حدیث کی وضاحت اور شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بلی بیچنے کی ممانعت پر حدیث کی وضاحت اور شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے  میں کہ بلی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ حدیث پاک میں بلی کی قیمت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔

جواب

بلی کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، رہی بات ان احادیث کریمہ کی جن میں بلی کی قیمت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے،  اس کے محدثین کرام نے چند جوابات دیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

پہلا جواب:

جس بلی کی خریدو فروخت ممنوع ہے وہ غیر نافع بلی ہے جیسے وحشی بلی ۔

دوسرا جواب:

یہ ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی کہ جب بلی کو ناپاک جانور قرار دیا گیا تھا ، بعد میں جب اس کے جھوٹے کی پاکی کا حکم دیا گیا تو اس کی قیمت حلا ل ہوگئی۔

تیسرا جواب:

یہاں جو ممانعت کی گئی ہے وہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے یعنی اس کا فروخت کرنا ، جائز تو ہے مگر غیر مناسب ہے،یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہیے۔

درمختار میں ہے: ’’(وصح بيع الكلب... والفهد)والفيل والقرد(والسباع) بسائر انواعها حتى الهرة وكذا الطيور‘‘ یعنی : کتے۔۔۔تیندوے،ہاتھی، بندر اور تمام اقسام کے درندے ،یہاں تک کہ بلی اور اسی طرح پرندوں کی خرید و فروخت صحیح ہے۔(درمختار مع رد المحتار،جلد07،صفحة505,506، مطبوعة  كوئٹه)

بہار شریعت میں ہے:” کُتا، بلی، ہاتھی، چیتا، باز، شکرا،بہری، ان سب کی بیع جائز ہے۔“ (بہار شریعت، جلد02،صفحة809،مطبوعه مکتبۃ المدینہ کراچی)

حدیث پاک اور ممانعت کی توجیہات

سنن ابن ماجہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الهرة وثمنها “   یعنی:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی  اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔(سنن ابن ماجة،جلد03،صفحة285، مطبوعة دار التاصيل)

علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ بلی کی قیمت کھانے کی ممانعت سے متعلق احادیث کریمہ کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” احدها:  ان الحديث ضعيف وهو مردود. والثانى: حمل الحديث على الهر اذا توحش... والثالث: ما حكاه البييهقى عن بعضهم انه: كان ذلك فى ابتداء الاسلام حين كان محكوما بنجاسته، ثم لما حكم بطهارة سؤره حل ثمنه والرابع: ان النهى محمول على التنزيه لا على التحريم ... وقال النووي: والجواب المعتمد انه محمول على ما لا نفع فيه، او: على انه نهى تنزيه حتى يعتاد الناس هبته واعارته “ یعنی:پہلا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے،یہ جواب مردود ہے۔ دوسرا جواب اس حدیث کو وحشی بلی پر محمول کیا گیا ہے ۔۔۔ تیسرا جواب جو کہ امام بیہقی  علیہ الرحمہ نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا کہ جب بلی کو نجس قرار دیا گیا تھا بعد میں جب اس کا جھوٹا  پاک ہونے کا حکم دیا گیا تو اس کی قیمت بھی حلال ہوگئی۔  چوتھا جواب یہ ہے کہ ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی ۔۔۔ اور امام نووی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ معتمد یہ ہے کہ ممانعت محض غیر نافع بلی سے متعلق ہے یا نہی کو تنزیہی پر محمول کیا جائے تاکہ لوگ اس کو فروخت کرنے کرنے کی بجائے ہبہ اور عاریت کے طور پر دینے کے عادی ہوں۔(عمدة القارى،جلد12،صفحة85، مطبوعة بیروت ملتقطا)

مرقاۃ المفاتیح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هذا محمول على ما لا ينفع، او على انه نهى تنزيه لكى يعتاد الناس هبته واعارته والسماحة به، كما هو الغالب، فان كان نافعا وباعه صح البيع وكان ثمنه حلالا، هذا مذهب الجمهور“ یعنی:یہ ممانعت اس بلی پر محمول ہے جو غیر نافع ہو یا اس پر محمو ل ہے کہ نہی تنزیہی ہےتاکہ لوگ اس چیز کو ہبہ کرنے ، عاریت دینے اور اس میں سخاوت کرنے کے عادی بن جائیں، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے۔ پس اگر بلی نافع ہو اور اسے بیچا جائے تو اس کی خریدو فروخت درست ہے اور اس کا ثمن حلال ہے، یہی جمہور کا مذہب ہے۔(مرقاة المفاتيح،جلد06،صفحة15، مطبوعة بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ”یا تو کتے بلی سے مراد غیر نافع کتے بلی ہیں جیسے دیوانہ کتا،وحشی بلی کہ اگر اسے باندھ کر رکھو تو چوہوں کا شکار نہ کرسکے اور اگر کھول دو تو بھاگ جائے اور یا مطلقًا کتا بلی مراد ہے اور نہی کراہت تنزیہی کے لیے ہے یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے،یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہئیں۔“ (مرآة المناجيح،جلد04،صفحة254، مطبوعة قادری پبلشرز)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-0551

تاریخ اجرا: 27شوال المکرم 1446ھ /26اپریل 2025ء