میوزک فیچر والے شیشے فروخت کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Bluetooth Mirror فروخت کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم شیشوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں، آج کل مارکیٹ میںBluetooth Mirror بھی فروخت ہوتے ہیں جو کہ موبائل فون سے Connect ہوجاتے ہیں،نیز اس میں لائٹ کی سہولت اور اینٹی فاگ(Anti Fog) کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے ، عام طور پرلوگ نہاتے وقت Bluetooth کو میوزک سننے اور دیگر گناہوں بھری چیزیں سننے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ان کو بیچنا جائز ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں کسٹمر کا Bluetooth Mirror کو خرید کر اسے گناہ کے کاموں میں استعمال کرنا متعین نہیں، اس کے دیگر جائز استعمالات بھی موجود ہیں نیز Bluetooth استعمال کرنے والے کے لئے بھی اسے میوزک وغیرہ کے علاوہ جائز چیزوں میں استعمال کرنا ممکن ہے مثلاً ممکن ہے آنے والی کسی ضروری فون کال کو اس اسپیکر کے ذریعے سن سکتا ہے اگرچہ بیت الخلا میں کلام کرنا بہت معیوب بات ہے لیکن ایسا کرنا گناہ نہیں ہے۔
لہٰذا اس شیشے کو فروخت کرنا ایسا ہی ہے جیسے ٹی وی، چھری چاقو وغیرہ فروخت کرنا، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے جائز کاموں میں استعمال کرے یا ناجائز کاموں میں اور جس طرح استعمال کرے گا اس کا ذمہ بھی اسی پر ہوگا۔
گناہ کے کاموں پر تعاون کی ممانعت سے متعلق قرآن کریم میں ہے: ’’وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَان‘‘ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(پارہ:06، سورۃ المائدہ،آيت:02)
معصیت جب عین شے کے ساتھ قائم ہو تو گناہ کے لئے متعین ہونے پر اس کو بیچنا،گناہ پر براہ راست معاونت ہونےکے سبب جائز نہیں۔ جیسا کہ فتنہ پرور لوگوں کو ہتھیار بیچنے کے عدم جواز کی وجہ بحر الرائق میں یہ بیان کی گئی ہے: ”لان المعصية تقوم بعينه فيكون اعانة لهم وتسببا وقد نهينا عن التعاون على العدوان والمعصية“ یعنی: کیونکہ معصیت ہتھیاروں کے عین کے ساتھ قائم ہے لہٰذا انہیں ہتھیار بیچنا ان کی گناہ پر مدد کرنا اور سبب بننا ہےحالانکہ ہمیں تو گناہ اور معصیت کے کاموں میں مدد کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔(البحر الرائق،جلد8،صفحہ371،بيروت)
معصیت جب عین شے کے ساتھ قائم ہوسکتی ہو مگر گناہ کے لئے متعین نہ ہو تو محض شک کی بناء پر اس شے کا بیچنا منع نہیں۔ جیسا کہ ہدایہ میں ہے: ”وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة لا باس بذلك، لانه يحتمل أن لا يستعمله فى الفتنة فلا يكره بالشك“ یعنی: جس شخص کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ یہ اہل فتنہ میں سے ہے تو اسے ہتھیار بیچنے میں کو ئی حرج نہیں کیونکہ ممکن ہے وہ اسے فتنہ پروری کے کاموں میں استعمال نہ کرے لہٰذا محض شک کی بناء پر ایسے شخص کو ہتھیار بیچنا مکروہ نہیں۔ (الهداية،جلد6،صفحہ506،مطبوعۃدار السراج، استنبول)
فتاوی رضویہ میں افیون بیچنے سے متعلق امام اہلسنت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”افیون نشہ کی حدتک کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج مثلاً ضمادوطلاء میں استعمال کرنا یاخوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتک نہ پہنچے توجائزہے اور جب وہ معصیت کے لئے متعین نہیں تو اس کے بیچنے میں حرج نہیں مگر اس کے ہاتھ جس کی نسبت معلوم ہوکہ نشہ کی غرض سے کھانے یاپینے کولیتاہے، لان المعصیۃ تقوم بعینھا فکان کبیع السلاح من اھل الفتنۃ یعنی: کیونکہ اس صورت میں گناہ عین شے کے ساتھ قائم ہے ،لہٰذا یہ فتنہ پروروں کو ہتھیار بیچنے کی طرح ہوا۔“ (فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ574،رضا فانڈیشن،لاہور)
اسی طرح بہار شریعت میں ہے: ” افیون وغیرہ جس کا کھانا، ناجائز ہے، ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہوں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اِعانت ہے۔“ (بهار شریعت،جلد3،صفحہ481، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت کلام کرنے سے منع فرمایا،چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ فرماتے ہیں: ”سمعت رسول صلى اللہ عليه وسلم يقول: لا يخرج رجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان، فان اللہ عزوجل يمقت على ذلك“ یعنی: میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو شخص اس حال میں قضائے حاجت نہ کریں کہ ستر کھولے ہوئے باتیں کريں ، کیونکہ اس حال میں باتیں کرنے کو اللہ پاک سخت نا پسند فرماتاہے ۔(سنن ابو داؤد ،جلد 1، صفحہ 12، رقم الحدیث 15، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ)
مذکورہ حدیثِ پاک میں وعید دونوں باتوں یعنی کسی کے سامنے ستر کھولنے اور باہم کلام کرنے کے بیک وقت پائے جانے کی صورت میں ہے، جیساکہ علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”فان الجمع بمعنى المجموع وهو الموجب للمقت الذى هو اشد الغضب ولذا قال:(فان اللہ يمقت): اى:يغضب (على ذلك) أى: على ما ذكر وهو المركب من محرم وهو كشف العورة بحضرة الآخر، ومكروه وهو التحدث وقت قضاء الحاجة“ یعنی : دونوں باتوں کا اکٹھے پایا جانا غضب و جلال ِ الٰہی کا سبب ہے، اسی وجہ سے حدیث پاک میں فرمایا:اللہ پاک اس پر غضب فرماتا ہے، یعنی مغضوب علیہ بات جس پر غضب فرماتاہے وہ دو چیزوں سے مرکب ہے ، ایک حرام یعنی کسی کی موجودگی میں ستر کھولنا اور دوسری مکروہ یعنی قضائے حاجت کے وقت باتیں کرنا ۔(مرقاة المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 386، مطبوعہ دار الفکر، بیروت )
جب قضائے حاجت کے وقت صرف کلام کرنا پایا جائے ، کسی کے سامنے بے ستری نہ ہو ، تب بھی حکمِ کراہت ہے،مگر کراہتِ تحریمی نہیں چنانچہ ذکرکر دہ حدیث پاک میں” یمقت “کے تحت علامہ طاہر حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”استدلوا به لكراهة الكلام عنده، ولا يدل المقت على الحرمة“ یعنی: فقہائے کرام نے اس حدیث پاک سے قضائے حاجت کے وقت کلام کرنے کے مکروہ ہونے پر استدلال کیا ہے اور حدیث پاک میں مذکور لفظ ” یمقت “ (قضائے حاجت کے وقت کلام کرنے کی )حرمت پر دلالت نہیں کرتا ۔(مجمع بحار الانوار ، جلد4 ، صفحہ 599، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ )
بیت الخلا میں خاموشی مستحب ہے اور مستحب کا ترک گناہ نہیں ہوتا ہے ، چنانچہ مراقی الفلاح اور حاشیہ طحطاوی میں ہے: ”(ویستحب ان لایتکلم بکلام معہ ولو دعاء ، لانہ فی مصب الاقذار، ويكره مع كشف العورة) ولوکان فی مکان لا یراہ فیہ احد“ یعنی: مستحب ہےکہ بیت الخلا میں کسی طرح کا کلام نہ کرے،اگرچہ دعا ہی ہو، کیونکہ وہ گندگی کی جگہ پر موجود ہے اور ستر عورت کھلا ہونےکی صورت میں باتیں کرنا مکروہ ہے،اگرچہ وہ ایسی جگہ ہو جہاں اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ (طحطاوی علی المراقی، صفحہ 106، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ )
بیت الخلا میں کلام کرنا مکروہ ہے جیسا کہ درمختار میں ہے: ’’يكره ۔۔۔ التكلم عليهما“ یعنی:پیشاب پاخانہ کرتے وقت کلام کرنا مکروہ ہے۔
قضائے حاجت کے علاوہ بھی بیت الخلا میں کلام کرنا مکروہ ہے جیسا کہ مذکورہ عبارت کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ بستان ابی اللیث کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’ يكره الكلام فى الخلاء. وظاهره انه لايختص بحال قضاء الحاجة‘‘ یعنی: بیت الخلاء میں کلام کرنا مکروہ ہے، مراد یہ ہے کہ گفتگو کرنے کی ممانعت حالت استنجاء کے ساتھ خاص نہیں بلکہ استنجاء خانے میں کلام کرنا مکروہ ہے۔(درمختار مع رد المحتار،جلد1،صفحہ344،مطبوعہ دار الفکر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-0084
تاریخ اجرا: 25ربیع الاول1445ھ/12اکتوبر 2023ء