کمیٹی کی قسط تاخیر سے جمع کروانے پر جرمانے کی شرط کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بیسی تاخیر سے جمع کروانے پر جرمانہ لینے کی شرط رکھنا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلےکے بارے میں کہ زید اپنے پاس کمیٹی ڈالنا چاہتا ہے،اس نے ممبران کو وقت پر قسط دینے کا پابند بنانے کے لیے تحریری طور پریہ شرط رکھی ہے کہ اگر کوئی ممبر مقررہ تاریخ (مثلاً بیس تاریخ) کے بعد اپنی قسط ادا کرے گا تو اسے ہر دن کے حساب سے دو سو روپے جرمانہ دینا ہوگا، تمام ممبران کو اس تحریر پر دستخط بھی کرنے ہوں گے۔البتہ زید کی نیت یہ ہے کہ وہ حقیقت میں کسی سے جرمانہ نہیں لے گا بلکہ یہ شرط محض ممبران کو وقت پر کمیٹی کی قسط اداکرنےکی ترغیب دینے کے لیے لگائی گئی ہے۔ کیا اس طرح کی شرط لگاناجبکہ جرمانہ لینے کا کوئی ارادہ نہ ہو شرعاً جائز ہے؟
جواب
کمیٹی ممبران پر تاخیر سے کمیٹی جمع کروانے کی صورت میں اضافی رقم کی شرط لگانا، جائز نہیں اگر چہ زید کی نیت اضافی رقم لینے کی نہ ہو۔
اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کمیٹی کی رقم جمع کروانے والے کی دو صورتیں بنتی ہیں :
(1) ایک صورت یہ ہے کہ اس کی کمیٹی نکلی نہیں ہے، ایسی صورت میں تاخیر سے جمع کر وانے پر اضافی رقم کی شرط مالی جرمانہ ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔
(2)دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے کچھ کمیٹیاں بھریں اور کمیٹی نکل آئی،ایسی صورت میں اس کو جمع شدہ رقم سے زائد جو رقم ملی وہ اس پر قرض ہے ، اب یہ جو قسطیں ادا کر رہا ہے، وہ اپنا قرض اتار رہا ہے ، ایسی صورت میں تاخیر سے کمیٹی جمع کروانے پر اضافی پیسے لینے کی شرط سود ہے کہ یہ قرض پر مشروط اضافی نفع لینا ہے اور سود حرام و گناہ ہے ۔
کمیٹی کی قسط تاخیر سے جمع کروانے والے پر اضافی رقم کی شرط لگانے کی صورت میں سود اورمالی جرمانہ دونوں کا احتمال موجود ہے اور دونوں غیر شرعی عمل ہیں ۔ لہٰذازید کااس طرح کی شرط لگانا اور باقی افراد کا اس غیر شرعی کام پر رضا مندی ظاہر کر نا حرام فعل ہےاگرچہ زید کی نیت اضافی رقم وصول کرنے کی نہ ہو۔
کمیٹی جمع کرنے والے کاقسط کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی پیسے لینا سود ہے چنانچہ مبسوط میں ہے: ’’مقابلة الأ جل بالدراهم ربا، ألا ترى أن فی الدين الحال لو زاده فی المال ليؤجله لم يجز‘‘ یعنی: مدت کے مقابلے میں دراہم لینا سود ہے ،کیا تو نہیں دیکھتا کہ جس قرض کی ادائیگی کی مدت پوری ہو چکی ہو، اس میں اگر مدیون نے مال میں زیادتی کردی تاکہ دائن اسے ادائیگی کی مزید مہلت دے دے تویہ جائز نہیں ہے۔ (المبسوط،جلد13،صفحہ126 ،مطبوعہ بیروت)
النتف فی الفتاویٰ میں ہے: ”ان يبيع رجلا متاعا بالنسيئة فلما حل الاجل طالبه رب الدين فقال المديون زدنی فی الاجل ازدك فی الدراهم ففعل فان ذلك ربا“ یعنی:کسی شخص کو ادھار سامان بیچا ، جب ادھار کی مدت پوری ہوگئی اور دائن نے مدیون سے دَین کا مطالبہ کیا تو مدیون نے کہا کہ مجھے مزید مہلت دے دو میں دراہم کی تعداد بڑھا دوں گا اوردائن نے اس کو قبول کر لیا تو یہ زیادتی سود ہے۔(النتف فی الفتاوی ،صفحہ 485،مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت)
مالی جرمانہ اسلام میں منسوخ ہو چکا ہے چنانچہ رد المحتارمیں ہے: ”التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ و الحاصل ان المذھب عدم التعزیر باخذ المال“ یعنی:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا اور حاصل یہ ہے کہ مذہب کی رُو سے مالی جرمانہ نہیں لیا جا سکتا ۔(ردالمحتار،جلد6، صفحہ 98،مطبوعہ دار المعرفة، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں:”مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ273،مطبوعہ رضا فانڈیشن لاہور)
سودی معاہدہ کرنے سے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”سودی دستاویز لکھانا سود کا معاہدہ کرنا ہے اور وہ بھی حرام ہے۔۔۔ جب اس کا تمسک لکھنا موجبِ لعنت اور سود کھانے کے برابر ہے تو خود اس کا معاہدہ کرنا کس درجہ خبیث و بدتر ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد06،صفحہ546،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ دستاویز میں سود تحریر کرانا اگر چہ اس کے لئے نیت نہ ہو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:’’نا درست کہ جھوٹی تہمتِ گناہ اپنے اوپر لگانی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ322،مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)
مفتی حبیب اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ باغات لگانے کے سلسلے میں گورنمنٹ کی امدادی اسکیم یہ ہے کہ رقم باغ لگانے والے کو دی جاتی ہے اور پانچ فیصدی سود اس پر لکھ لیا جاتا ہے۔ مدت مقررہ میں بالاقساط اصل رقم وصول کر لی جاتی ہے اور سود نہیں لیا جاتا ہے بلکہ یہ کہہ د یا جاتا ہے کہ جو کچھ سود ہوا یہ بطور امداد کے تمہیں معاف کردیا گیا۔ شرعاً ایسا قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ یہ یقینی ہے کہ سود نہیں لیا جائے گا بلکہ معاف کر دیا جائے گا۔ صرف دستاویز میں ذکر آجاتا ہے اور اس کو امداد کے نام سے کاغذات میں درج کیا جاتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: ”اس طرح کا قرض ہرگز نہ لیا جائےجس میں سود کی شرح لکھی جاتی ہو اور بعد میں سود کی رقم کو معاف کردیا جائے یا اس کو بطور امداد بحق رعایا کاغذات میں درج کردیا جائے۔۔۔ ان دونوں باتوں کو عملاً کاغذات میں تسلیم کرنا یا اس پر رضامندی کا اظہار کرنا، جائز نہیں ۔ حدیثِ صحیح میں سود کھانے والے، دینے والے اور سود کے کاغذ لکھنے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے۔“(حبیب الفتاوی،جلد3،صفحہ381،مطبوعہ شبیر برادرز، ملتقطا)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-701
تاریخ اجرا: 27صفرالمظفر1447ھ/22اگست2025ء