logo logo
AI Search

کاسمیٹک کمپنی کو مچھلی کے علاوہ سمندری جاندار بیچنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کاسمیٹک پروڈکٹس تیار کرنے والی کمپنی کو مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری جاندار بیچنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کسی حنفی کیلئے کاسمیٹک پروڈکٹس بنانے والی کمپنی کو مچھلی کے علاوہ سمندری جانورفروخت کرنا جائز ہے؟ اس حوالے سے قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمادیں۔شکریہ سائل(محمد عالم،انڈیا)

جواب

کسی حنفی کیلئے کاسمیٹک پروڈکٹس بنانے والی کمپنی کو مچھلی کے علاوہ سمندری جانورفروخت کرنا جائز ہے جبکہ وہ ایسے جانور ہوں جو لوگوں کے ہاں مال کی حیثیت بھی اختیار کرچکے ہوں یعنی مختلف مقاصد و فوائد کی خاطر ان کی طرف لوگوں کی طبیعت کا میلان ہو ، ان کو دِیا ، لِیا جاتا ہو اور ان کو ذخیرہ کرنا ، جمع کرکے رکھنا ممکن ہو۔

مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ :

فقہائے احناف کے نزدیک کسی حرام جانور کی خرید و فروخت کرنے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ حرام جانوروں میں سے جن سے کسی قسم کا جائز نفع حاصل کیا جا سکتا ہو اور وہ لوگوں کے ہاں مال کی حیثیت بھی رکھتے ہو ں یعنی ان کی طرف طبیعت کا میلان ہو ، ان کو دِیا ، لِیا جاتا ہو، دوسروں سے ان کی حفاظت کی جاتی ہو ، اور وقتِ ضرورت کے لیے انہیں جمع رکھنا ممکن ہو ، تو ایسے حرام جانوروں کی خرید و فروخت جائز ہے۔

اور احناف کے نزدیک مچھلی کے علاوہ تمام سمندری جانور(Sea Animal’s) اگرچہ حرام ہیں،یعنی انہیں کھانہیں سکتے،تاہم ان سے کھانے کے علاوہ دیگر جائز منفعت حاصل کرنا ممکن ہے۔ مثلا کاسمیٹک کی بیرونی استعمال کی اشیاء میں ان کا کوئی جزو شامل ہو تو یہ درست ہے ،کیونکہ تمام آبی جانور طاہِر(پاک) شمار کیے جاتے ہیں۔اور کسی بھی پاک چیز کا بیرونی استعمال (External Use)کرنا شرعا جائز ہے۔یونہی اس قسم کی پروڈکٹس بنانے کی خاطر بعض ایسے سمندری جانور وں کا مال کی حیثیت اختیار کر جانا بھی ممکن ہے اور یہ تب ہوگا جب اوپر مذکور مال کی تعریف صادق آئے گی۔ایسی صورت میں یہ مال متقوم بن جائے گا اور مال متقوم کی خرید و فروخت جائز ہوتی ہے۔

نوٹ:یادرہے کہ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ جب مچھلی کے علاوہ تمام سمندری جانور(Sea creatures) پاک ہیں تو ان کا کھانا بھی حلا ل ہوگا؟کیونکہ شرع شریف کا یہ اصول و ضابطہ ہے کہ طہارت (پاک ہونا) مستلزمِ حلت نہیں(یعنی ایسا ضروری نہیں کہ کسی چیز کے پاک ہونے سے اس کا حلال ہونا بھی ثابت ہوجائے)،بلکہ طہارت و حلت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

مسئلہ سے متعلق حوالہ جات درج ذیل ہیں:

فقہائے احناف کے نزدیک مچھلی کے علاوہ تمام سمندری جانور(Sea creatures) حرام ہیں،چنانچہ قرآن پاک میں ہے: ﴿ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ ﴾ ترجمہ کنزالایمان:ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا۔(پارہ 9،سورۃ الاعراف ،آیت نمبر157)

مذکورہ بالاآیت کے تحت "تفسیرات احمد یہ "میں ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " وفيه دليل على حرمة ما سوى السمك من حيوان البحر لان كلها خبیث " یعنی: اس آیت پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ مچھلی کے علاوہ پانی کے تمام جانور حرام ہیں، کیونکہ وہ تمام خبیث ( ناپاک ) ہیں۔ (تفسیرات احمدیه، صفحه 421، تحت آیت :157،مطبوعه کراچی)

اللباب فی شرح الکتاب،در مختار،فتح باب العنایہ اورہدایہ وغیرہ کتب فقہ میں ہے: واللفظ للاول "ولا يؤكل من حيوان الماء إلا السمك لقوله تعالى ويحرم عليهم الخبائث وما سوى السمك خبيث" ترجمہ سمندری مخلوق میں سے فقط مچھلی کھانا حلال ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے سبب کہ وہ تم پر خبیث چیزیں حرام کرتے ہیں اور مچھلی کے علاوہ تمام سمندری مخلوق خبیث ہے ۔(اللباب فی شرح الکتاب ،جلد 3، صفحہ 231، مطبوعہ مکتبۃ العلمیہ بیروت)

المبسوط للسرخسی میں ہے: " أن محل البيع عين هو مال متقوم " ترجمہ: بے شک بیع کا محل ایسی شے ہے کہ جو " مالِ متقوم " ہو۔(المبسوط للسرخسی، کتاب اختلاف ابي حنيفة و ابن ابي ليلي ، جلد 30 ، صفحة 135، دار المعرفة، بيروت)

مالِ متقوم سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے البحر الرائق میں ہے : " المال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة والمالية إنما ثبت بتمول الناس كافة أو بتمول البعض والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع له شرعا " ترجمہ : مال کی تعریف یہ ہے کہ وہ چیز جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور بوقتِ ضرورت جمع کر کے رکھا جا سکتا ہو۔ کسی شے کا مال ہونا یوں ثابت ہوتا ہے کہ تمام لوگ یا بعض لوگ اسے مال کی حیثیت دے دیں اور متقوم ہونا یوں ثابت ہوتا ہے کہ مال کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے شرعی طور پر نفع اٹھانا بھی جائز ہو۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، كتاب البيع ، جلد 5 ، صفحة 277، دار الكتاب الإسلامي)

جن حرام جانوروں سے جائز منفعت ممکن ہو اور وہ مال کی حیثیت بھی رکھتے ہوں تو ان کی بیع جائز ہے۔جیساکہ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے : " الحق أن كل منتفع به شرعا في الحال، أو في المآل وله قيمة نحو الجحش ۔۔۔ جاز بيعه، وإلا فلا " ترجمہ : حق یہ ہے کہ ہر وہ جانور جس سے فی الحال یا آئندہ کوئی جائز نفع حاصل کرنا ممکن ہو اور اس کی قیمت بھی ہو جیسا کہ گدھی کا بچہ ، تو اس کی خرید و فروخت جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔ ملتقطا (تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق ، جلد 4، صفحة 126، المطبعة الكبرى الأميرية )

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ "رد المحتار " میں لکھتے ہیں: " يجوز بيع العلق في الصحيح لتمول الناس، واحتياجهم إليه لمعالجة مص الدم من الجسد اهـ. قلت: وعليه فيجوز بيع دودة القرمز، لأنها من أعز الأموال وأنفسها في زماننا وينتفع بها " یعنی: صحیح قول کے مطابق جو نک (Leech) کی خرید و فروخت جائز ہے ، کیونکہ لوگوں نے اسے "مال" کی حیثیت دے دی ہے اور بطور ِعلاج جسم سے خون چوسنے کے لیے انہیں اس کی حاجت پڑتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کے پیش نظر تو قرمز (چٹانی کیڑوں سے حاصل ہونے والے عرق) کے کیڑوں کی بیع بھی جائز ہو گی ؟ کیونکہ ہمارے زمانے میں اس کاشمار قیمتی اور اعلی قسم کے اموال میں ہوتا ہے اور اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 5، صفحة 277، دار الفکر، بیروت)

مچھلی کے علاوہ سمندری جانوروں(Sea Animal’s) کی خرید و فروخت کے متعلق رد المحتار میں ہے: " وبيع غير السمك من دواب البحر، إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز، وإلا فلا كالضفدع والسرطان " یعنی مچھلی کے علاوہ سمندری جانوروں کی اگر کوئی قیمت ہے جیسے سقنقور (ایک جانور جس کا تیل بطور دوا استعمال ہوتا ہے) یا خز(ایک جانور ہے جسے انگلش میں Mink/Martesکہا جاتا ہے) وغیرہ کی کھالیں، تو ان کی بیع جائز ہے۔ ورنہ نہیں جیسے مینڈک اور کیکڑا۔(رد المحتار،جلد5 ،صفحہ68، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

عندالشرع جن چیزوں میں دم مسفوح(بہتا ہوا خون) نہ ہو وہ طاہر(پاک) شمار کی جاتی ہیں ۔جیساکہ کتاب الاصل میں امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "أرأيت إن وقع في إنائه ذباب أو زنبور أو عقرب أو خنفساء أو جراد أو نمل أو ‌صراصر فمات فيه أو وجد ذلك في الحب ميتا هل يفسد ذلك الماء ؟ قال: لا. قلت: لم؟ قال: لأنه ليس له دم، فلا بأس بالوضوء منه. قلت: وكذلك كل شيء ليس له دم؟ قال: نعم" یعنی:آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر برتن میں مکھی، بِھڑ، بچھو، بھنورا، ٹڈی ، چیونٹی یا کھٹمل گر جائے اور اُسی میں مر جائےیا اِن میں سے کوئی چیز "حب"(برتن کی ایک قسم) میں مری ہوئی پائی جائے، تو کیا وہ پانی کو ناپاک کر دے گی؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا:کیونکہ اُس میں خون نہیں، لہذا اُس پانی سے وضو کرنےمیں بھی کوئی حرج نہیں۔ میں نے پوچھا: کیا ہر غیر دَمْوِی کا یہی حکم ہے؟ فرمایا: جی ہاں۔ (کتاب الاصل، جلد1، صفحہ28، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ، کراچی)

حرام اشیاء اگر پاک ہوں تو ان کا بیرونی استعمال کرنا جائز ہے ،چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں سیدی اعلیٰ حضرت،امام اہلسنت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں :"شراب حرام بھی ہے اورنجس بھی،اس کاخارجِ بدن پربھی لگانا،جائزنہیں اورافیون حرام ہے،نجس نہیں، خارج ِبدن پر اس کااستعمال جائزہے۔" (فتاوی رضویہ،جلد24،صفحہ198،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

طہارت (پاک ہونا) مستلزمِ حلت نہیں،یعنی ایسا ضروری نہیں کہ کسی چیز کے پاک ہونے سے اس کا حلال ہونا بھی ثابت ہوجائے۔ جیساکہ فتاوی رضویہ شریف میں سیدی اعلی حضرت ،امام اہلسنت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں:"طہارت مستلزم ِحلت نہیں جیسے سنکھےیا بقدر مضرت اور انسان کا دودھ بعدِ عمر ِرضاعت(بچے کی عمر اڈھائی ہوجانے کے بعد) اور مچھلی کے سوا جانورانِ دریائی کا گوشت وغیر ذلک کہ سب پاک ہیں اور باوجودِ پاکی حرام۔ (فتاوی رضویہ ،جلد 4،صفحہ93، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری

مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتویٰ نمبر: NRL-0376

تاریخ اجرا: 26ربیع الاول 1447 ھ/20ستمبر2025ء