logo logo
AI Search

قسطوں پر سونا خریدنے کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کرنسی کے بدلے سونا قسطوں میں خریدنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک خالص سونا (گولڈ بسکٹ) خریدنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی پوری قیمت یکمشت ادا کر سکوں۔ میرے ایک قریبی عزیز جو گولڈ کا کاروبار کرتے ہیں، ان سے میں نے بات کی تو انہوں نے پیشکش کی کہ آپ یہ گولڈ بسکٹ مجھ سے 10 ماہ کی قسطوں پر خرید لیں۔ فی الحال ڈھائی لاکھ روپے ایک ساتھ دے دیں اور باقی رقم قسطوں میں ادا کر دیجئےگا۔گولڈ کی موجودہ قیمت تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار روپے ہے، جبکہ وہ مجھے قسطوں میں 4 لاکھ 70 ہزار روپے میں قسطوں پر دینے کو تیار ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح قسطوں (ادھار) پر سونا خریدنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کاطے شدہ مدت پر کرنسی نوٹ کے بدلے سونے کا بسکٹ ادھار قسطوں میں خریدنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں البتہ یہ ضروری ہے کہ خریداری کی مجلس میں سونا خریدنے والے کے حوالے کردیا جائے تاکہ دونوں طرف سے ادھار لازم نہ آئے۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کرنسی نوٹ ،قدیم زمانے میں چلنے والے تانبے پیتل کے سکے (فلوس) کے حکم میں ہیں، یعنی اگر ان فلوس کے بدلے سونے چاندی کی خرید و فروخت ہوتو مجلس عقد میں ان میں سے کسی ایک چیز پر ایک طرف کا قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے،تاکہ دونوں چیزوں کے ادھار ہونے کی خرابی پیدا نہ ہو۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بیع کی دیگر شرائط کی رعایت کرتے ہوئے آپ کا کرنسی نوٹوں کے بدلے سونے کو معینہ مدت پرقسطوں میں ادھار خریدنا شرعاً جائز ہے جبکہ عقد کرتے وقت اس پر قبضہ ہو جائے۔

سونے کو فلوس کے بدلے بیچنے سے متعلق بحر الرائق اور حاشیۃ الطحطاوی میں ہے، واللفظ للاول: ”لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما، كذا فی الذخيرة “ ترجمہ:اگر چاندی کو فلوس کے بدلے یا سونے کو فلوس کے عوض بیچا جائے تو فریقین کے جدا ہونے سے پہلے دونوں عوضوں کا قبضہ شرط نہیں، بلکہ صرف ایک عوض پر قبضہ کر لینا کافی ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں مذکور ہے۔ (البحر الرائق، جلد06، صفحہ211، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی)

فلوس کے بدلے سونے کو ادھار بیچنے سے متعلق خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: سئل الحانوتی عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفی التقابض من أحد الجانبين قال: ومثله ما لو باع فضة أو ذهبا بفلوس كما في البحر عن المحيط“ ترجمہ: حانوتی سے سوال کیاگیا کہ کیا سونے کو فلوس کے بدلے اُدھار بیچنا جائز ہے؟انہوں نے جواب دیا: جائز ہے، بشرطیکہ دونوں میں سے کسی ایک عوض پر قبضہ ہوجائے۔ کیونکہ بزازیہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص سو فلوس ایک درہم کے بدلے خریدے تو صرف ایک طرف سے قبضہ کر لینا کافی ہے۔ اور اسی کے مثل وہ صورت بھی ہے جب کوئی شخص چاندی یا سونا فلوس کے بدلے بیچے، جیسا کہ بحر نے محیط سے نقل کیا ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار، جلد05،صفحہ180، مطبوعه مصر)

کرنسی نوٹ فلوس کے حکم میں ہیں۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:” بنائے کاغذ اصل آفرینش میں ثمن نہیں اور صَرف وہی کہ ثمنِ خلقی، ثمنِ خلقی سے بیع کی جائے، یہ صرف سونا یا چاندی ہے وبس ، ہاں ازانجا کہ فلوس ونوٹ اصطلا حاً ثمن ہیں ایک جانب سے قبضہ ضرور ہے کیلا یلزم الافتراق عن دین بدین (تاکہ دَین کے بدلے میں دَین سے جدا ہونا لازم نہ آئے۔ ت) لہٰذا اگر روپیہ کے پیسے خریدے روپیہ دے دیا اور پیسے پھر دئیے جائیں گے تو مذہبِ راجح ومعتمد میں کچھ مضائقہ نہیں، بعینہٖ یہی حال کلابتوں اور پیسوں یانوٹ کی ہے کہ صرف ایک طرف سے قبضہ ہوجانا کافی اگرچہ دوسری جانب قرض ہو۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد17، صفحہ 629، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

قسطوں کی صورت میں بیع کرنے سے متعلق مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ”البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطہ صحیح ، یلزم ان تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتاجیل والتقسیط“ یعنی ثمن ادھار ہونے اور قسطیں مقرر کرنے کے ساتھ بیع صحیح ہے اور ادھار یا قسطوں میں بیچنے کی صورت میں مدت معلوم ہونا ضروری ہے۔(مجلۃ الاحکام العدلیۃ، صفحہ50، مطبوعہ کراچی)

قسطوں میں خرید وفروخت بھی ادھار بیچنے کی ایک قسم ہے۔جیساکہ فتاوٰی رضویہ میں ہے: ”التأجیل جائز کما حققنا کل ذالک و ما التنجیم الا نوع من التأجیل“ ترجمہ: ثمن کا ادھار کرنا، جائز ہے جیسا کہ ہم سب باتوں کی تحقیق بیان کرآئے اور قسط بندی بھی ایک قسم کی مدت معین کرنا ہی ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد 17، صفحہ 493، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے:” اگر پیسوں سے چاندی خریدی تو مجلس میں ایک کا قبضہ ضروری ہے ، دونوں جانب سے قبضہ ضروری نہیں کیونکہ اُن کی ثمنیت منصُوص نہیں جس کا لحاظ ضروری ہو ۔ عاقدین اگر چاہیں تو ان کی ثمنیت کو باطل کرکے جیسے دوسری چیزیں غیرِثمن ہیں اُن کو بھی غیرِ ثمن قرار دے سکتے ہیں۔ مجلس بدلنے کے یہاں یہ معنٰے ہیں کہ دونوں جدا ہو جائیں ایک ایک طرف چلا جائے اور دوسرا دوسری طرف یا ایک وہاں سے چلا جائے اور دوسرا وہیں رہے اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو مجلس نہیں بدلی، اگر چہ کتنی ہی طویل مجلس ہو، اگر چہ دونوں وہیں سوجائیں یا بے ہوش ہوجائیں بلکہ اگر چہ دونوں وہاں سے چل دیں مگر ساتھ ساتھ جائیں، غرض یہ کہ جب تک دونوں میں جدائی نہ ہو، قبضہ ہو سکتا ہے۔“(بہار شریعت ،جلد02، صفحہ822،مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-738

تاریخ اجرا: 27جمادی الاولٰی1447ھ / 19 نومبر 2025ء