آن لائن سہولیات فراہم کرنے پر چارجز لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سروسز فراہم کر کے فیس لینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل سروسز آن لائن ہو چکی ہیں، جیسے شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس ری نیو کے لیے اپلائے کرنا، یا لرنر لائسنس اپلائے کرنا، کسی جاب یا کلاس میں آن لائن ایڈمیشن کے لیے فارم فل کرنا، گاڑی کی بائیو میٹرک کرنا یا آن لائن بینک اکاؤنٹ کے لیے اپلائی کرنا ، سی وی بنانا وغیرہ۔چونکہ کچھ افراد آن لائن پروسس سے یا تو واقف نہیں ہوتے یا واقف تو ہوتے ہیں لیکن اپلائے کرنا نہیں جانتے۔ ایسے میں بعض دکاندار یہ آن لائن سروسز فراہم کرتے ہیں اور مکمل پروسس(فارم فل کرنا، متعلقہ ادارے کو آن لائن رقم ٹرانسفر کرنا ، لرنر لائسنس کارڈ بنانا وغیرہ) کر دیتے ہیں اور اپنے کسٹمر سے اس کے بدلے میں وہ 100 یا 200 روپے بطور فیس وصول کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا دکاندار کا اس طرح آن لائن سروسز فراہم کرنا اور اس کے عوض فیس چارج کرنا، جائز ہے؟
جواب
سوال میں بیان کی گئی آن لائن سروسز کا مکمل پروسس کرنا اور اس کے عوض کسٹمر سے طے شدہ اجرت وصول کرنا شرعاً جائز ہے، جبکہ متعلقہ ادارے کو دھوکہ دہی یا غلط معلومات دینے کا کوئی عنصر نہ پایا جائے۔سوال میں درج ذمہ داریاں باقاعدہ قابلِ اجارہ کام ہیں اور جو منفعت شریعت اورعقل وشعور رکھنے والے لوگوں کی نظر میں قابل اجارہ ہو، اس منفعت کے بدلے اجرت لی جاسکتی ہے۔
چنانچہ اجارے کی تعریف میں منفعت مقصودہ کے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(ھی تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) ملتقطاً “ ترجمہ:ایسی منفعت جو عین شےسے مقصود ہو ،اس کا عوض کے بدلے مالک بنادینا اجارہ کہلاتا ہے ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ در مختار کی عبارت ”مقصود من العين“ کے تحت فرماتے ہیں: ”اى فى الشرع ونظر العقلاء“ یعنی شریعت اور عقلاء کی نظر میں وہ منفعت ، منفعتِ مقصودہ ہو۔(در مختار مع رد المحتار ،جلد 6،صفحہ 4 ،مطبوعہ مصر)
بدائع الصنائع میں ہے: ”ومنها ان تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الاجارةويجري بها التعامل بين الناس“ ترجمہ:اجارے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ منفعت مقصودہ ہو کہ عادتا ً عقد اجارہ سے اس منفعت کا حصول کیا جاتا ہو اور لوگوں کے مابین اس پر عمل جاری ہو۔(بدائع الصنائع ،کتاب الاجارۃ، جلد 4، صفحہ 192، دار الكتب العلمية، بیروت)
اجارے میں منفعت اور اجرت کا معلوم و متعین ہونا ضروری ہے اور یہ اجارے کی شرائط میں سے ہے، چنانچہ درمختار میں ہے: ”وشرطھا: کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھا لتھما تفضی المنازعۃ“ ترجمہ: اجارہ صحیح ہونے کی شرط منفعت اور اجرت دونوں کا معلوم ہونا ہے،کیونکہ ان دونوں کی جہالت جھگڑے کی طرف لے جاتی ہے۔(در مختار مع رد المحتار،جلد 6،صفحہ 5،مطبوعه مصر)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”کسی شے کے نفع کاعوض کے مقابل کسی شخص کو مالک کردینا اجارہ ہے۔مزدوری پر کام کرنا اور ٹھیکہ اور کرایہ اور نوکری، یہ سب اجارہ ہی کے اقسام ہیں۔۔۔اجارہ کے شرائط یہ ہیں۔۔۔ اجرت کا معلوم ہونا۔ منفعت کا معلوم ہونا،اور ان دونوں کو اس طرح بیان کردیا ہو کہ نزاع کا احتمال نہ رہے۔“(بہارشریعت ،جلد3،حصہ 14،صفحہ108-107،مکتبۃ المدینہ کراچی، ملتقطا )
مکتوب لکھنے پر اجارہ کرنا، جائز ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے: ”استأجر رجلا ليكتب كتاباً إلى حبيبه، فإنه يجوز إذا بين قدر الخط والكاغد“ ترجمہ: کسی شخص کو اجارے پر رکھا تاکہ وہ اس سے اپنے دوست کے لیے خط لکھوائے،تو اگر خط اور کاغذ کی مقدار بیان کردے،تو یہ اجارہ جائز ہوگا۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار، جلد6،صفحہ93، مطبوعہ مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-729
تاریخ اجرا: 14جمادی الاولٰی1447ھ / 06 نومبر 2025ء