زکوٰۃ کتنی ادا کی، یاد نہ ہو تو باقی زکوٰۃ کیسے ادا کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کتنی زکوٰۃ ادا کی ہے ؟ یاد نہ ہو تو کیا کرے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے ہی پیشگی تھوڑی تھوڑی کرکے زکوٰۃ کی ادائیگی کرتا رہا ، اب میری زکوٰۃ کا سال تو مکمل ہوگیا ہے۔ لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے کتنی رقم زکوٰۃ کی مد میں نکال دی ہے اور کتنی باقی ہے، میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اب کیا کرنا ہوگا؟
جواب
اگر کسی شخص کو اپنی ادا کی ہوئی زکوٰۃ کی مقدار یاد نہ ہو کہ کتنی ادا کی ہے اور کتنی باقی ہے؟ تو شرعاً اس پر لازم ہے کہ وہ تحری یعنی غور و فکر کرے۔ پھر جس مقدار پر غالب گمان ہو کہ اتنی مقدار زکوٰۃ کی مد میں ادا کر چکا ہے، وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی، اور باقی ادا کرے گا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ پر لازم ہے کہ آپ تحری کریں پھر جتنی مقدار کی ادائیگی کا غالب گمان ہو جائے اتنی مقدار زکوٰۃ آپ کے ذمہ سے ساقط ہوگئی ،باقی کی ادائیگی آپ پر لازم ہوگی۔
چنانچہ بحر الرائق میں ہے : ”وقعت حادثة هی أن من شك هل أدى جميع ما عليه من الزكاة أم لا بأن كان يؤدی متفرقا، ولا يضبطه هل يلزمه إعادتها ومقتضى ما ذكرنا لزوم الإعادة حيث لم يغلب على ظنه دفع قدر معين ؛ لأنه ثابت فی ذمته بيقين فلا يخرج عن العهدة بالشك“ ترجمہ:ایک واقعہ پیش آیا کہ جس شخص کو اس بات میں شک ہو کہ اس نے پوری زکوٰۃ ادا کر دی ہے یا نہیں؟ اس وجہ سے کہ وہ متفرق طور پر تھوڑی تھوڑی کرکے زکوٰۃ اد اکرتا رہا اور اب مجموعہ یاد نہ رہا تو کیا اس پر دوبارہ زکوٰۃ اداکرنا لازم ہوگا؟ جو جزئیات ہم نے ذکر کیے ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ معین مقدارِ زکوٰۃ ادا کرنے پر ظن غالب نہ ہو تو دوبارہ ادائیگی لازم ہو گی کیونکہ جو چیز یقینی طور پر ثابت ہو ، وہاں صرف شک کی بنا پر براءتِ ذمہ نہیں ہوگی۔
(مقتضى ما ذكرنا لزوم) کے تحت منحۃ الخالق میں ہے: ”قال الرملی: فرق بين هذا و بين ما تقدم فما تقدم شك فی الأداء وعدمه وها هنا فی مقدار المؤدى فينبغی التحري كما هو الأصل فی مثله.أي حيث غلب على ظنه قدر معين أما إذا لم يغلب كما هو فرض كلام المؤلف فما معنى التحری“ ترجمہ: علامہ رملی علیہ الرحمہ نے فرمایا: اس مسئلے اور گزشتہ مسئلے کے درمیان فرق ہے۔ گزشتہ مسئلے میں ادائیگی کے ہونے یا نہ ہونے میں شک تھا، جبکہ یہاں ادا شدہ زکوٰۃ کی مقدار میں شک ہے۔ لہٰذا تحری کرنی ہوگی کہ اس طرح کے مسائل میں یہی اصول ہے ۔ یعنی جب کسی معین مقدار کا غالب گمان ہوجائے (تو اتنی مقدار زکوٰۃ ذمہ سے ساقط ہوجائےگی )۔ لیکن اگر غالب گمان نہ ہو جیسا کہ مؤلف کے کلام میں فرض کیا گیا ہے ۔تو پھر تحری کا کیا معنی؟ (البحرالرائق مع منحۃ الخالق ، جلد 2، صفحہ 228، دار الكتاب الاسلامی)
ردا لمحتار میں ہے: ”حاصله انه يتحرى فی مقدار المؤدى كما لو شك فی عدد الركعات فما غلب على ظنه انه اداه سقط عنه وادى الباقی وان لم يغلب على ظنه شیء ادى الكل“ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ وہ ادا کی گئی مقدار کے بارے میں تحری کرے، جیسے رکعات کی تعداد میں شک ہو جانے کی صورت میں تحری کی جاتی ہے۔ پھر جس مقدار پر اس کا غالب گمان ہو کہ اس نے اسے ادا کر لیا ہے، وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی اور باقی ادا کرے گا۔ اور اگر کسی مقدار پر غالب گمان نہ ہوتو پوری زکوٰۃ ادا کرے گا۔(رد المحتار ، ج02 ،ص 295 ، مطبوعه مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-740
تاریخ اجرا: 03جمادی الاخریٰ 1447ھ / 25 نومبر 2025ء