logo logo
AI Search

گیسٹ پوسٹنگ پر کمیشن لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گیسٹ پوسٹنگ پر کمیشن لینے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے  میں کہ ہم گیسٹ پوسٹنگ / بلاگ پوسٹنگ (Guest Posting/Blog Posting) کا کام   کرتے ہیں ۔ ہماری ایک ویب سائٹ ہے جس کی رینکنگ (Ranking) اچھی ہے۔ اس ویب سائٹ پر ہم نے جائز مواد بھی اپلوڈ  (Upload) کیا ہوا ہے اور اس کے لئے الگ سے کمپیوٹر بھی کرایہ پر لیا ہوا ہے۔ جس ویب سائٹ کی رینکنگ (ساکھ)کم ہو ، اس کا مالک  ہمیں اپنی ویب سائٹ سے متعلق ایک آرٹیکل (تحریر)دیتا ہے، جس میں اس کی ویب سائٹ کا لنک (Link)بھی ہوتا ہے اور ہم سے کہتا ہے کہ مقررہ رقم کے عوض ایک سال کے لئے اپنی ویب سائٹ پر میرا یہ آرٹیکل  بھی شائع (Publish) کر دو،  ہم اس کا وہ آرٹیکل اپنی ویب سائٹ پر شائع (Publish) کر دیتے ہیں  اور اس کے عوض سالانہ رقم لیتے رہتے ہیں۔ کیا ہمارا یہ کام کرنا شرعاً جائز ہے؟سائل: امیر حمزہ(لاہور)

جواب

اگر مذکورہ آرٹیکل کسی غیر شرعی امر  پر مشتمل نہ ہو (مثلا جھوٹ یا ناجائز  مواد  پر مشتمل نہ ہو، بے حیائی و فحاشی پر مشتمل تصاویر نہ ہوں ، لنک جس ویب سائٹ کا ہو ، وہ ویب سائٹ بھی جائز  مواد و کام پر مشتمل ہو وغیرہ) تو اس آرٹیکل کو اپنی ویب سائٹ پر لگانا اور اس کے عوض سالانہ رقم  لینا جائز ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ اپنی ویب سائٹ پر مخصوص رقم کے عوض کسی کا آرٹیکل (Article) شائع کرنا  شرعاً عقد ِاجارہ  کی قبیل سے ہےکہ صورت مسئولہ میں ویب سائٹ  کے  مالک کا متعینہ رقم کے عوض مخصوص وقت (مثلاًایک سال ) کے لئے اپنی ویب سائٹ کی سپیس دینا، اس میں آرٹیکل  رکھنا اور لوگوں کو اسے پڑھنے کی سہولت و رسائی دینا،  دوسرے کو اپنی ویب سائٹ کے منافع  کا مالک بنانا ہے، جو کہ  فی زمانہ  قابلِ معاوضہ سروس ہے اور ویب سائٹ سے مقصود بھی ہوتی  ہے   اور اجارہ  بھی شرعاً  منافع کو بالعوض مالک بنانے کا نام ہے جو کہ جائز ہے  ، لہذا یہ عقد بھی شرعاً جائز ہو گا ۔

درمختار میں اجارے کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

ھی تمليك نفع مقصود من العين بعوض“

یعنی: کسی چیز کے عوض ایسے نفع کا مالک بنانا جو عین شے سے مقصود ہو اجارہ کہلاتا ہے۔(الدر المختار مع رد المحتارجلد6، صفحہ4 ،دار الفکر، بیروت)

الهداية فی شرح بداية المبتدی میں اجارہ کی تعریف کے بارے میں ہے:

’’الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع ‘‘

ترجمہ:اجارہ ایساعقدہے کہ کسی چیز کے عوض نفع کامالک بناناہےاس لئے کہ اجارہ لغت میں نفع کی بیع کوکہتے ہیں ۔ (الهداية فی شرح بداية المبتدی ،جلد3،صفحہ203،دار احياء التراث العربی،بيروت)

اس کی نظیر کتب فقہ میں فقہا کا بیان کردہ یہ مسئلہ ہے کہ  جہاں دیوار پر کیل ٹھونک کر ریشم کی اصلاح کرنے کے لئے دیوار  عقد اجارہ پر دی جاتی ہو ، اس جگہ پر ایسا عقد اجارہ کرنا درست ہے ؛ چنانچہ فتاوی ہندیہ  میں ہے:

” ولو استأجر حائطا ليتد فيها الأوتاد يصلح عليها الإبر يسملينسج به شعرا أو ديباجا ۔۔۔وفي عرف ديارنا ينبغي أن يجوز. كذا ذكره بعض مشايخنا لأن الناس تعاملوا ذلك “

ترجمہ: کسی نے دیوار کرائے پر لی اس لئے کہ اس میں کیل ٹھونک کر اس پر ریشم کو درست کرے تاکہ اس کے ذریعے ریشم کا کپڑا بن سکے تو ہمارے بلاد کے عرف کے مطابق یہ جائز ہونا چاہیے ۔ اسی طرح ہمارے بعض مشائخ نے ذکر کیا ہے کیونکہ اس پر لوگوں کا تعامل ہو چکا ہے۔ (فتاوى ہنديہ،جلد4، صفحہ442، مطبوعہ کوئٹہ)

ملک العلماءامام ابوبکر بن مسعود کاسانی (وفات:587ھ) بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں:

 ”الاستئجار علی المعاصی  أنہ لایصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح “

ترجمہ:ناجائزکاموں پراجارہ کرنا درست نہیں (یعنی ناجائز ہے )؛کیونکہ یہ ایسی منفعت پر اجارہ ہے جسے شرعی طور پر پورا کرنے پر قدرت نہیں(یعنی عدم اجازت کی بناء پر یہ انجام نہیں دے سکتا) جیسا کہ گانے والی سے گاناگانے اورنوحہ کرنے والی سے نوحہ  کرنے پراجارہ کرنا۔ (بدائع  الصنائع،فصل فی انواع شرائط رکن الاجارۃ،   جلد 4، صفحہ 189، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: NRL-0229

تاریخ اجراء:11شوال المکرم1446ھ/10اپریل2025ء