logo logo
AI Search

سودی بینک کے فریڈم اکاؤنٹ کا شرعی حکم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سودی بینک میں فریڈم اکاؤنٹ (Freedom Account) کھلوانا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ  ایک سودی بینک نے ”فریڈم اکاؤنٹ“ متعارف کروایاہے۔ بینک نے اس اکاؤنٹ کی جو خصوصیات بیان کی ہیں،  وہ درج ذیل ہیں :

FEATURES

Avail the following FREE services on maintaining monthly average balance of Rs. 40,000 or above:

Free inter-city cheque clearing

Free stop payment of cheque

Free cheque book and duplicate account statement

Free HBL Debit Card (Individuals & Sole Proprietors)

Free Intercity Funds Transfer through HBL Freedom Account using HBL Network

Free Intercity cash deposit and withdrawal using HBL Network

Free SMS alert service available to individuals and sole proprietors for all transactions

Free unlimited cheque books

ان لائنوں میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہر ماہ اکاؤنٹ میں کم سے کم 40000 روپے موجود ہونے کی صورت میں  مذکورہ فوائد ملیں گے،اگر چالیس ہزار کے ذریعے اکاؤنٹ مینٹین نہ  ہوا تو یہ فوائد نہیں ملیں گے۔

                                                اس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

1.                              بیرون شہر چیک کلیئرنگ چارجز نہیں لئے جائیں گے۔

2.                              اسٹاپ چیک  کی سہولت  مفت دی جائے گی۔

3.                              چیک بک    اور اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ کی کاپی مفت ہوگی۔

4.                              مخصوص افراد کو ڈیبٹ کارڈ  سروس مفت ہوگی۔

5.                              مخصوص صورت میں اندرون شہر رقم بغیر  فیس کے ٹرانسفر  کی جائے گی۔

6.                              مخصوص صورت میں بیرون شہر کیش نکالنے اور جمع کروانے پر فیس نہیں لی جائے گی۔

7.                              مخصوص افرد کو ایس ایم ایس الرٹ  سروس مفت  دی جائے گی۔

8.                              ان لمیٹڈ چیک بکس کی سہولت دی جائے گی۔

                                                مجھے پوچھنا یہ ہے کہ کیا  یہ اکاؤنٹ کھلوانا ، جائز ہے؟ کیونکہ یہ کرنٹ اکاؤنٹ ہے،جس میں کسی قسم کا سود نہیں ملتا۔مدلل جواب دیتے ہوئے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

قوانین شرعیہ کی روشنی میں یہ اکاؤنٹ کھلوانا ، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سودی اکاؤنٹ ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بینک   اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو چالیس ہزار روپے اکاؤنٹ میں مینٹین رکھنے  کی شرط پر  سروس چارجز، ڈیبٹ کارڈ فیس اور ایس ایم  ایس فیس وغیرہ معاف کرکے نفع پہنچا رہا ہے  حالانکہ یہ چالیس ہزار روپے بینک  پر قرض ہیں اور قرض   پر  جو مشروط نفع لیا جائے  وہ سود ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ اکاؤنٹ ایک سودی اکاؤنٹ ہے جسے کھلوانا  حرام و گناہ ہے۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ یہ سودی اکاؤنٹ کھلوانے سے بچیں۔

جومشروط نفع قرض کی بنیاد پر دیا جائے،  وہ سود ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

”كل قرض جر منفعة فهو ربا“

یعنی قرض کی بنیاد پر جونفع حاصل کیا جائے وہ سودہے۔( کنزالعمال،  جلد6،صفحہ238، حدیث 15516، بیروت)

فریڈم اکاؤنٹ ہولڈر اپنے دیئے ہوئے   قرض کی بنیاد پر کئی  قسم کے مشروط منافع حاصل کرتا ہے اور یہ جائز نہیں ہے ۔علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں:

 ”إنه لا يحل له أن ينتفع بشیء منه بوجه من الوجوه و إن أذن له الراهن، لأنه أذن له فی الربا لأنه يستوفی  دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم“

یعنی قرض دینے والے کامقروض کی کسی چیز سے نفع اٹھانا حلال نہیں ہےاگرچہ رہن رکھوا نے والےکی اجازت سے ہو کیونکہ اس کا اجازت دینا سود کی اجازت دینا ہے۔وجہ یہ ہےکہ جب قرض لینے والااپناقرض مکمل وصول کرے گاتوحاصل ہونے والی منفعت اس کے لئے(عوض سے خالی ) اضافہ ہے جو کہ سودقرار پایا اور یہ بہت سخت معاملہ ہے۔(رد المحتار،جلد5،صفحہ166،مطبوعہ بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سےقر ض کی بنیاد پر مرہون شے سے نفع  حاصل کرنے کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کسی طرح جائزنہیں۔“(  فتاوی رضویہ،جلد25،صفحہ217،رضا فاؤنڈیشن  لاہور)

صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”یوہیں( قرض دینےوالا)کسی قسم کے نفع کی شرط کرے ناجائز ہے۔“ (بہار شریعت،جلد2،صفحہ759،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:IEC-708

تاریخ اجراء:04ربیع الاول1447ھ/29اگست2025ء