بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سپلائر ہوں، عموماً کمپنی میں مال پہنچانا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماری ڈیل مثلاً 6 ہزار میں ہوئی لیکن کمپنی کا نمائندہ مجھے کہتا ہے کہ کمپنی کی طرف سے آپ کے اکاؤنٹ میں 8ہزار آئیں گے، آپ اپنے پیسے رکھ کر بقیہ اضافی رقم میرے پرسنل اکاؤنٹ میں بھیج دینا۔ میں نے کمپنی میں صرف اپنا اکاؤنٹ دیا ہوا ہے، کمپنی میں مال سپلائی کرنے کے علاوہ میرا اور کوئی کام نہیں ہوتا، ڈیل کی رسید بنانا یا اُس پر دستخط کرنا میرے ذمے نہیں ، یہ سارا کام کمپنی کا نمائندہ خود کرتا ہے ، وہ آگے زائد رقم بتاکر کمپنی سے وصول کرتا ہے۔
آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا اضافی رقم کمپنی کے نمائندے کو ٹرانسفر کرنا کیسا؟ کہیں میں بھی اس گناہ میں شریک تو نہیں کہلاؤں گا؟
جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے ناحق دوسروں کا مال کھانا بلاشبہ ناجائز و حرام ہے۔ پوچھی گئی صورت میں کمپنی کے نمائندے کا جھوٹ بول کر کمپنی سے اضافی رقم وصول کرنا، ناجائز و گناہ ہے، یہ رقم اُس کے حق میں خالصتاً مالِ حرام ہے اور آپ چونکہ وہ حرام رقم اُس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرکے براہِ راست اس حرام کام میں اُس کے معاون و مددگار بن رہے ہیں، اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی گناہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے خود کو بچائیں۔ نیز حکمتِ عملی کے ساتھ کمپنی کے نمائندے کو بھی اس حرام کام سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ نے ناجائز کاموں میں مدد کرنے سے منع فرما یا ہےچنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
”وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى۪- وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ‘‘
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔(پارہ06،سورۃ المائدہ ،آیت نمبر02)
اس آیت کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کی مدد کرنا بھی گناہ ہے چوری کرنا، چوری کرانا، چوری کا مال گھر میں رکھنا، سب جرم ہیں۔“(تفسیر نور العرفان، صفحہ 169، مطبوعہ لاہور)
مبسوط سرخسی میں ہے:
”والإعانة على المعصية معصية فقد سمى رسول الله صلى الله عليه وسلم المعين شريكا“
یعنی گناہ کے کام پر مدد کرنا بھی گناہ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مددگار کو شریک قرار دیا۔(المبسوط، جلد 4، صفحہ 96، مطبوعہ بیروت)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”برتقدیر اول جبکہ یہ جانتا تھا کہ وہ نالش دروغ کے لئے کاغذ لیتاہے، تو اسے اس کے ہاتھ بیچنا معصیت پر اعانت کرنا ہوا جس طرح اہل فتنہ کے ہاتھ ہتھیار۔ اور معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت۔ قال اللہ عزوجل(اللہ تعالیٰ فرماتاہے )
﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾
آپس میں ایک دوسرے کی مددنہ کرو گناہ اور حد سے بڑھنے پر۔“(فتاوٰی رضویہ ،جلد17،صفحہ149،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:IEC-719
تاریخ اجراء:23ربیع الاول1447ھ/17ستمبر2025ء