بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے کرایہ پر مکان لینے کے لیے ایک پراپرٹی ایجنٹ سے رابطہ کیا۔ اس نے مجھے دو تین مکان دکھائے بھی، لیکن ان میں سے کوئی مکان میری ڈیمانڈ کے مطابق نہیں تھا۔تبھی میں نے خود اپنی کوشش جاری رکھی اور بالآخر مجھے اپنی ڈیمانڈ کے مطابق ایک مکان مل گیا، جس میں مذکورہ ایجنٹ نے کسی بھی قسم کی معاونت یا رہنمائی نہیں کی۔ مکان تلاش کرنے، مالک مکان سے رابطہ کرنے اور معاملہ طے کرنے کا تمام عمل میں نے خود کیا۔ اب وہ ایجنٹ مجھ سے کمیشن کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ آپ نے مکان میرے ذریعے حاصل نہیں کیا، لیکن میں نے آپ کے لیے وقت صَرف کیا، آپ کو کئی مکانات دکھائے، محنت کی، اور اگر آپ کو مکان پسند نہ آیا تو اس میں میرا کیا قصور؟آپ مجھے میرا کمیشن دیں۔ کیا مجھ پر اسے کمیشن دینا شرعاً لازم ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمادیں۔
کمیشن ایجنٹ تب ہی کمیشن کا مستحق ہوتا ہے جب وہ واقعی دو پارٹیوں کو ملوانے میں محنت، کوشش، یا عملی معاونت کرکے سودا مکمل کروا دے۔ سودا مکمل کروانے سے پہلے کمیشن ایجنٹ کمیشن کا مستحق نہیں ہوتااگر چہ اُس نے محنت، کوشش، عملی معاونت کی ہو۔ کام کر کے دینے پر یہاں اجرت دی جاتی ہے ، محض کوشش پر اجرت لازم نہیں ہوتی۔
پوچھی گئی صورت میں ایجنٹ کی کوششوں کے باوجود آپ کو مطلوبہ گھر کرایہ پر نہ مل سکا، پھر بعد میں اپنی ذاتی کوشش و تلاش کے ذریعہ آپ نے مطلوبہ گھر کرایہ پر لے لیا ، جس میں ایجنٹ کا کوئی کردار نہیں تھا، تو ایسی صورت میں ایجنٹ شرعاً کمیشن کا مستحق نہیں ہوا، لہٰذا آپ پر اسے کمیشن دینا لازم نہیں ۔ البتہ اگر آپ بطورِ انعام اُسے کچھ دے دیتے ہیں تو اس میں شرعاً کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
ایجنٹ جب تک سودا مکمل نہ کروادے وہ کمیشن کا حق دار نہیں ہوتا، جیسا کہ نور العین ، مجمع الضمانات اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے،
والنظم للاول: ”سئل بعضھم عمن قال للدلال اعرض ارضی علی البیع و بعھا و لک اجر کذا فعرض و لم یتم البیع ثم ان دلالاً آخر باعھا فان للدلال الاول اجرا بقدر عملہ و عنائہ قال (ث) و ھذا قیاس و لا اجر لہ استحسانا اذ اجر المثل یعرف بالتجار وھم لا یعرفون لھذا الامر اجراً و بہ ناخذ،محیط :وعلیہ الفتوی“
یعنی: بعض فقہائے کرام سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کمیشن ایجنٹ سے کہا تو میری زمین لوگوں کو دکھا کر بیچ دے تو تجھے اتنا کمیشن ملے گا۔ اس نے لوگوں کو جگہ دکھائی لیکن سودا نہ ہوا پھر دوسرے کمیشن ایجنٹ نے وہ زمین بکوا دی تو پہلے والے بروکر کو اس کے عمل اور مشقت کے مطابق اجرت دی جائے گی ، یہ عقلی تقاضا ہے جبکہ استحساناً یہ حکم ہے کہ اس کو کوئی اجرت نہیں ملے گی ، کیونکہ اجرت مثل سودا ہونے پر ہوتی ہے اور تاجر حضرات اس کام کی کوئی اجرت نہیں سمجھتےاور اسی قول کو ہم لیتے ہے۔محیط میں ہے اسی قول پر فتوی ہے۔(نور العین فی اصلاح جامع الفصولین ، ج03 ،ص 322 ، مطبوعہ بیروت)
الملتقط فی الفتاوی الحنفیہ میں ہے :
”أمر دلالاً ليعرض ضيعته على أن فيه كذا، فلم يقدر على إتمام البيع، ثم إن دلالاً آخر باع ضيعته من آخر، إن ذهب الأول في شغله دون الثاني فله أجر مثله بقدر عمله قياسًا، وفی الاستحسان لا شیء للأول للعرف، وبه آخذ“
یعنی: دلال (کمیشن ایجنٹ) کو کسی نے اپنا سامان لوگوں کو دکھا کر بیچنے کا کہا اس شرط پر کہ اتنی اجرت ہو گی ، لیکن وہ اسے بیچنے میں کامیاب نہ ہو سکا، پھر دوسرے ایجنٹ نے وہ سامان کسی اور کو بیچ دیا۔ اگر پہلاکمیشن ایجنٹ اس کام میں دوسرے سے زیادہ لگا رہا، تو قیاس کے مطابق اسے اس کی محنت کے مطابق اجرتِ مثل دینی چاہیے تھی لیکن استحساناً، پہلے کمیشن ایجنٹ کے لیے کوئی اجرت نہیں ہے، کیونکہ عرف یہی ہے، اور یہی قول میں اختیار کرتا ہوں ۔(الملتقط فی الفتاوی الحنفیہ ، ص348 ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
کمیشن ایجنٹ اجیرِ مشترک ہوتا ہے۔جیسا کہ الذخیرۃ البرہانیہ میں ہے:
’’الدلال اجیر مشترک‘‘
یعنی کمیشن ایجنٹ اجیر مشترک ہوتا ہے۔ (الذخیرۃ البرہانیہ،ج12،ص256،دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
اجیرِ مشترک کام مکمل کرنے کے بعد ہی اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: ”اجیر مشترک اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب کام کرچکے مثلاًدرزی نے کپڑے کے سینے میں سارا وقت صَرف کردیا مگر کپڑا سی کر طیار نہیں کیا یا اپنے مکان پر سینے کے لیے تم نے اُسے مقرر کیا تھا دن بھر تمہارے یہاں رہامگر کپڑا نہیں سیا اُجرت کا مستحق نہیں ہے۔“(بہارِ شریعت،ج3،ص155،مکتبہ المدینہ ،کراچی)
اجرت کا استحقاق نہ ہو مگر مؤجر بطورِ انعام کچھ دے دے، تو یہ جائز ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: ” جس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہے اُس نے اعلان کیاکہ جو اُس کا پتا بتائے گا اُس کو اتنا دوں گا تو اجارہ باطل ہے۔ اور بطور انعام دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ “(بہارِ شریعت،ج02،ص483،مکتبہ المدینہ ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر: IEC-685
تاریخ اجراء: 16صفرالمظفر1447ھ/11اگست2025ء