logo logo
AI Search

موبائل ادھار بیچ کر سستا واپس خریدنا کیسا؟

موبائل ادھار بیچ کر کم قیمت میں واپس خریدنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو ایک نیا ڈبہ پیک موبائل قسطوں پر فروخت کیا۔ دونوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ بکر مقررہ قیمت زید کو چھ ماہ کے اندر قسطوں کی صورت میں ادا کرے گا۔کچھ دنوں بعد بکر کو فوری طور پر پیسوں کی ضرورت پیش آئی  توزید نے بکر سے   وہی موبائل نقد میں کم قیمت پر خرید لیا۔ دونوں کے مابین یہ طے پایا کہ پچھلے معاہدے  کے مطابق بکر اس کی قسطیں زید کو ادا کرتا رہے گا۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس طرح کا معاملہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ موبائل ابھی تک استعمال نہیں ہوا تھا، یعنی پہلی بیع کے وقت بھی ڈبہ پیک تھا اور اب جب دوبارہ زید نے بکر سے خریدا تو اس وقت بھی ڈبہ پیک ہی تھا۔سائل:رانا سجاد حسین

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جس چیز کو  بیچ دیا اور ابھی پورا ثمن وصول نہ کیا ہو، اسی چیز کو خریدار سے واپس کم قیمت میں خریدنا جائز نہیں اگرچہ اُس وقت مارکیٹ میں اُس کی قیمت کم ہوچکی ہو کہ یہاں بائع کم قیمت میں خرید کر جو نفع حاصل کررہا ہے یہ نفع اس ثمن پر حاصل ہورہا ہے جو اس کے ضمان میں داخل ہی نہیں ہوا ہے اور بغیر ضمان کے نفع حاصل کرنا ، جائز نہیں کیونکہ حدیث مبارک میں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔  نیز اس صورت میں یہ دوسری بیع فاسد شمار ہوگی، لہٰذا  پوچھی گئی صورت میں زید کا  وہ ڈبہ پیک موبائل بکر سے دوبارہ کم قیمت پر خریدنا ، جائز نہیں۔

فروخت شدہ چیز کو اسی مشتری سے کم ثمن پر خریدنا ، جائز نہیں۔  اس کے متعلق  در مختار میں علامہ حصکفی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:

”باع شیئاً بعشرۃ و لم یقبض الثمن ثم شراہ بخمسۃ لم یجز و ان رخص السعر للربا“

ترجمہ:کسی شخص نے دس روپے کی چیز بیچی اور ثمن پر ابھی قبضہ نہیں کیا، پھر  وہی چیز پانچ روپے کی خرید لی تو ایسا کرنا ، سود کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔اگرچہ مارکیٹ میں اس کی قیمت کم ہوگئی ہو۔

اسی طرح کے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے علامہ شامی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتےہیں:

 ”ای: سواء کان الثمن الاول حالاً او مؤجلاً ھدایۃ“

 یعنی چاہے  ثمنِ اول نقد ہو یا ادھار۔(ردالمحتار، جلد 7، صفحہ 268،مطبوعہ کوئٹہ )

شرح وقایہ میں صدر الشریعہ اصغر عبید اللہ المحبوبی البخاری الحنفی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

 ”وشراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد ثمنه الأول  أی باع شيئا بخمسة عشر ولم يأخذ الثمن، ثم اشتراه بعشرة، فيقاص العشرة بعشرة من خمسة عشر، فبقي للبائع على المشتري خمسة، فهي ربح ما لم يضمن: أي الثمن، وهو خمسة عشر؛ لأنه لما لم يقبضه البائع لم يدخل في ضمانه، وإنما الغنم بإزاء الغرم، فيكون الربح حراما، فيكون هذا البيع فاسدا “

ترجمہ: بیچی گئی چیز کو پہلی بار بیچنے کے ثمن سے کم میں خریدنا یعنی کوئی چیز 15 میں بیچی اور ثمن پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ 10 میں خرید لی تو 10 روپے 15 میں سے 10 کے برابر ہو  جائیں گے اور بائع کے لیے مشتری پر 5 اضافی بچ جائیں گے جو کہ ربح مالم یضمن ہوگا  جو کہ 15 روپے پر قبضہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ  بائع نے جب تک ثمن پر قبضہ نہیں کیا تب تک ثمن اس کے ضمان میں ہی داخل نہیں ہوا اور نفع، ضمان کے بدلے ملتا ہے تو یہ نفع حرام ہوگا اور بیع فاسد ہو گی۔ (شرح وقایہ، جلد4، صفحہ 36،مطبوعہ دار الوراق)

درر الحکام شرح غرر الاحکام میں اس کی علت بیان فرماتے ہوئے ملا خسرو علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’ولنا  ان الثمن لم یدخل فی ضمان البائع، فاذا وصل الیہ المبیع و وقعت المقاصۃ بقی لہ خمسمائۃ وھو بلا عوض‘‘

 ترجمہ:ہمارے نزدیک اس کی علت یہ ہے کہ ثمن بائع کے ضمان میں داخل نہیں ہوا تو جب مبیع اس کی طرف پہنچی اور  مقاصہ ہوا تو اس کے لیے پانچ سوروپے   باقی بچے جو کسی بھی عوض کے بغیر ہیں۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام ، جلد02،صفحہ172،بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علیہ اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں ہے:’’جس چیز کو  بیع کر دیاہے اور ابھی پورا ثمن وصول نہیں ہوا  ہے،  اس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا ، جائز نہیں اگرچہ اس وقت اس کا نرخ کم ہو گیا ہو۔“  (بہار شریعت،جلد02، صفحہ 708، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر :IEC-682

تاریخ اجراء :11صفرالمظفر1447ھ/06اگست2025ء