logo logo
AI Search

گاڑی کرائے پر دینا اور آمدنی برابر تقسیم کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گاڑی دے کر کہا  کہ کرائے پر چلاؤ ، آمدنی برابر تقسیم کریں گے، اس کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس گاڑی ہے لیکن میں خود کام نہیں کروں گا بلکہ  دوسرے شخص کو چلانے کے لیے دوں گا، پھر وہ جتنا ماہانہ کمائے گا اسے ہم دونوں آدھا آدھا کر لیں گے۔آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ  کیا ہمارا اس طرح شرکت کرنا درست ہے؟ اگر نہیں تو کوئی متبادل حل ارشاد فرمائیں۔

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق کسی شخص نے اپنا جانور دوسرے کو دیا تاکہ وہ اسےکرائے (Rent) پر چلائے  اور مالک نے  یہ شرط لگائی کہ وہ خود کام نہیں کرے  گا  پھر حاصل ہونے والی آمدنی  ان دونوں کے درمیان مشترک ہوگی تو یہ شرکتِ فاسدہ ہے ۔  لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا گاڑی چلانے کے لیے دینا اور حاصل ہونے والی آمدنی میں شرکت کرنا بھی شرکتِ فاسدہ ہی کی صورت ہے۔

البتہ اس کا متبادل جائز حل یہ ہے کہ آپ اجارے کی تمام تر شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی گاڑی یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر طے شدہ اجرت پر، اجارہ پر دے دیں۔ اس صورت میں وہ شخص آپ کو فقط طے شدہ اجرت دینے کا پابند ہوگا، اس کے علاوہ جو کچھ آمدنی ہوگی وہ ساری اُسی کی ہوگی۔

دوسرے شریک  کو جانور دیا تاکہ وہ اجرت پر چلائے اور حاصل ہونے والی آمدنی میں دونوں شریک ہوں،  اس طرح کی شرکت کے حوالے سے علامہ حصکفی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:

”لو دفع دابتہ لرجل لیؤجرھا والاجر بینھما، فالشرکۃ فاسدۃ

ترجمہ: اگر کسی شخص کو اجرت پر چلانے کے لیے جانور دیا تاکہ  اجرت ان دونوں کے درمیان مشترک ہو  تو یہ شرکت فاسد ہے۔

فالشرکۃ فاسدۃ کے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتےہیں:

”لأنه في معنى بع منافع دابتی ليكون الأجر بيننا فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح۔۔۔ ولا شك فی فسادها؛ لأن المنفعة كالعروض لا تصح فيها الشركة “

 ترجمہ: کیونکہ یہ اس معنی میں ہے کہ:  میری سواری کے منافع بیچو تاکہ کرایہ ہم دونوں کے درمیان مشترک  ہو تو سارا کرایہ سواری کے مالک کا ہی ہوگا؛ کیونکہ عاقدنے یہ عقد جانور کے مالک کے حکم سے اس کی ملکیت پر کیا  اور کام کرنے والے کو اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی، کیونکہ اس نے یہ کام بلا معاوضہ کرنے پر رضا مندی ظاہر نہیں کی۔ اور اس شرکت کے فاسد ہونے میں کوئی شک نہیں ، کیونکہ منفعت عروض کی طرح ہے اور عروض  میں شرکت صحیح نہیں ہوتی۔( رد المحتار علی الدر المختار، جلد04، صفحہ326، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت، ملتقطاً)

بہار شریعت میں ہے: ”ایک شخص نے اپنا جانور دوسرے کو دیا کہ اس کو کرایہ پر چلاؤاورکرایہ کی آمدنی آدھی آدھی دونوں لیں گے،  یہ شرکت فاسدہے۔ “(بہار شریعت، جلد2، حصہ10، صفحہ511، مکتبۃ المدینہ کراچی)

جانور یا سواری کو کرائے کے لیے دینا جائز ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

 ”تصح (اجارۃ الدابۃ للرکوب والحمل) “

   ترجمہ: جانور کو سوار ہونے اور بوجھ لادنے کے لیے کرائے پر لینا درست ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 55، مطبوعہ کوئٹہ)

اجارے کی شرائط کے متعلق مزید ارشاد فرماتے ہیں: ”اجارہ کے شرائط یہ ہیں : ۔۔۔اجرت کا معلوم ہونا ۔ منفعت کا معلوم ہونا ۔۔۔ جہاں اجارہ کا تعلق وقت سے ہو، وہاں مدت بیان کرنا ، مثلاً  ۔۔۔ جانور کرائے پر لیا، اس میں وقت بیان کرنا ہو گا۔۔۔ اور کام بھی بیان کرنا ہو گا کہ اس سے کون سا کام لیا جائے گا،مثلاً: بوجھ لادنے کے لیے یا سواری کے لیے۔۔۔ اجارہ میں ایسی شرط نہ ہو ، جو مقتضائے عقدکے خلاف ہو۔“(بہارِ شریعت، جلد 3،  صفحہ 108،109، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر: IEC-686

تاریخ اجراء: 14صفرالمظفر1447ھ/09اگست2025ء