logo logo
AI Search

عیب والی چیز بغیر عیب بتائے بیچنا کیسا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عیب والی چیز بغیر عیب بتائے بیچنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کراچی کی بڑی ہول سیل مارکیٹ میں جب کسی دکاندار کا مال اترتا ہے تو چیکنگ یا اترائی چڑھائی کے دوران بوریوں میں سوراخ ہونے کی وجہ سے اناج زمین پر گر رہا ہوتا ہے ۔  بعد میں دوکاندار گرا ہوا  اناج جمع کر کے سوئپنگ والوں کو مارکیٹ ویلیو سے بہت  کم قیمت پر بیچ دیتا ہے۔ اس کے بعد سوئپنگ والے اس اناج کو صاف کر کے اپنا نفع رکھ کر دکانداروں کو  یا  پھر عام افراد کو مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر   بیچتے ہیں ۔

آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم سوئپنگ والا مال کسٹمرز کو بتائے بغیر بیچ سکتے ہیں ؟ویسے یہ مال کسٹمر کے سامنے ہوتا ہے،  کوئی چیز اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتی ، وہ اسے چیک کرکے ریٹ طے کرکے اپنی خوشی سے ہی لے کر جاتا ہے، بس صرف اتنا ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ یہ سوئپنگ کا مال ہے ۔

جواب

ہر وہ چیز جو تاجروں کے عرف میں قیمت میں کمی لائے ،  وہ عیب ہے، اور سائل کی بیان کردہ وضاحت کے مطابق سوئپنگ والا مال تاجروں کے عرف میں فریش مال کے مقابلے میں کم قیمت کا ہوتا ہے۔ لہٰذا سوئپنگ والا مال اگر ایسے دوکاندار یا ان لوگوں کو بیچا جنہیں  اس مال کی نوعیت کا علم ہو، تو ایسے لوگوں کو بغیر بتائے بیچنا بھی شرعا ًجائز ہے کہ وہ اس مال کے عیب پر مطلع ہیں ۔ البتہ وہ افراد  جن کو اس مال کے سوئپنگ  والا ہونے کا علم نہ ہو اور وہ اس مال کو فریش سمجھ رہے ہوں تو ان پر عیب ظاہر کرنا واجب ہوگا۔  ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ مال اگر اس کوالٹی کا ہو اور اس کی ایسی صفائی کردی گئی ہو کہ تاجروں کی نظر میں اس مال کی قیمت میں کمی نہیں ہوتی تو چونکہ اس میں عیب باقی نہ رہا تو اس صورت میں اُسے بغیر بتائے  بیچنا بھی جائز ہوگا۔

فتاویٰ عا لمگیری میں عیب کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 ’’قال القدوری  فی كتابه: كل ما يوجب نقصانا فی الثمن فی عادة التجار فهو عيب وذكر شيخ الإسلام خواهر زاده :ان ما يوجب نقصانا فی العين من حيث المشاهدة والعيان كالشلل فی اطراف الحيوان، والهشم فی الاوانی او يوجب نقصانا فی منافع العين فهو عيب وما لا يوجب نقصانا فيهما يعتبر فيه عرف الناس ان عدوه عيبا كان عيبا والا لا، هكذا فی المحيط‘‘

 یعنی امام قدور ی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ ہر وہ چیز جو  تاجروں کی  عادت میں ثمن میں کمی کا سبب ہو، تو وہ عیب ہے اور شیخ الاسلام خواہر زادہ نے بیان کیا کہ ہر وہ چیز جو دیکھنے میں عین کے اندر نقصان  کو لازم کرے جیساکہ حیوان کے اعضاء کا بیکار ہونا اور برتنوں کا ٹوٹا ہوا ہونا،یا پھر عین کے منافع میں نقصان کا سبب ہوتو وہ عیب ہے اور جو اِن دونوں میں نقصان کا سبب نہ ہو، تو اس میں لوگوں کے عرف کو دیکھا جائے گا، اگر لوگ اس کو عیب شمار کرتے ہیں، تو وہ عیب ہو گا، ورنہ نہیں، ایسے ہی محیط میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب البیوع،جلد3،صفحہ67،مطبوعہ بیروت)

ملاوٹ والی چیز بیچنے کے حوالے سے علامہ حصکفی علیہ الرحمہ در مختار میں ارشاد فرماتے ہیں:

 ”ولا بأس ببيع المغشوش إذا بين غشه أو كان ظاهرا يرى، وكذا قال أبو حنيفة  رحمه الله تعالى فی حنطة خلط بها الشعير والشعير يرى لا بأس ببيعه، وإن طحنه لا يبيع. وقال الثانی فی رجل معه فضة نحاس: لا يبيعها حتى يبين“

 ترجمہ: ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ ملاوٹ کو بیان کردے یا ملاوٹ ایسی ظاہر ہو کہ دکھائی دیتی ہو۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسی گندم  جس میں جَو مکس ہو  اور واضح نظر آ رہی ہو ، اس کے متعلق فرمایا کہ ایسی گندم بیچنے  میں مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تو نہ  بیچے، اور امام ابویوسف علیہ الرحمہ  نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔

وإن طحنه لا يبيع کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:

أی إلا أن يبين لأنه لا يرى“

ترجمہ:  یعنی الا یہ کہ وہ بیان کردے کیونکہ یہ ملاوٹ نظر نہیں آ رہی ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد05، صفحہ238، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ملاوٹ والاگھی بیچنے کے متعلق سوال ہوا تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا: ”اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہو، نہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدر میل سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے،  نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائے، خلاصہ یہ کہ جب خریداروں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہے۔ آخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی۔اور عدمِ جواز صرف بوجہ غش وفریب تھا، جب حال ظاہر ہے غش نہ ہوا، اور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے اور باوصف علم خریدتے ہیں، یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے، اور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہبِ امام عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مطلقاً جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدِ بیان فریب نہ رہا۔۔۔ بالجملہ:  مدار کارظہورِ امر پرہے خواہ خود ظاہر ہو جیسے گیہوں میں جَو، چنو ں میں کسا، یا بجہت عرف و اشتہار مشتری پرواضح ہو جیسے دودھ کا معمولی پانی، خواہ یہ خو دحالتِ واقعی تمام و کمال بیان کرے۔“(فتاوی رضویہ،جلد  17، صفحہ  150،رضا فاؤنڈیشن،لاہور، ملتقطاً)

عیب زائل ہونے کے بعد مشتری کو مبیع لوٹانے کا اختیار نہیں رہتا چنانچہ اس کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے:

”إذا زال العيب قبل رد المشترى لم يكن له أن يرد بعد ذلك“

ترجمہ:جب عیب مشتری کے رد کرنے سے پہلے زائل ہو جائے تو عیب زائل ہونے کے بعد اسے لوٹانے کا اختیار نہیں ۔(مبسوط سرخسی، جلد05، صفحہ195، مطبوعہ دار المعرفہ)

گندم یا اناج وغیرہ میں اتنی مٹی ہو جتنی گندم میں ہوتی ہے تو یہ عیب نہیں ہاں اگر عرف سے زیادہ ہے تو یہ عیب ہے اس کے متعلق محیط برہانی، فتاوٰی عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں ہے:

وفی «فتاوى أبی الليث»: اشترى خمسمائة قفيز حنطة فوجد فيها ترابًا إن كان ذلك التراب مثل ما يكون فی مثل تلك الحنطة لايعده الناس عيبًا ليس له أن يرجع بنقصان العيب فإن ذلك ليس بعيب“

  ترجمہ:فتاوٰی ابو لیث میں ہے کہ کسی نے پانچ سو قفیز گندم خریدی اور اس میں مٹی پائی تو اگر اتنی مٹی ہے جتنی اس طرح کی گندم میں ہوتی ہے  جس کو لوگ عیب شمار نہیں کرتے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ عیب کا نقصان لے کیونکہ یہ عیب نہیں ہے۔(محیط برہانی،جلد06، صفحہ549، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:” گیہوں وغیرہ غلہ خریدا اُس میں خاک ملی ہوئی نکلی، اگر خاک اُتنی ہی ہے جتنی عادۃً ہوا کر تی ہے،  واپس نہیں کرسکتا۔“(بہار شریعت، جلد02، حصہ 11،صفحہ684،مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:IEC-696

تاریخ اجراء:16صفرالمظفر1447ھ/11اگست2025ء