بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایمازون پر FBA کے طور پر کام کرنا کیسا ؟
FBA یعنی Fulfillment by Amazon کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جیسے میں ایک ٹریڈر ہوں،میں مال کی خریداری کرتا ہوں مثلاً موبائل کیسز وغیرہ خریدتا ہوں اور پھر اس مال کو کسی کے ذریعے ایمازون کے وئیر ہاؤس میں پہنچاتا ہوں یا خود ایمازون میرا وکیل بن کر میرا خریدا ہوا مال خریداری کے مقام سے اٹھاکر اپنے وئیر ہاوس میں اسٹور کرلیتی ہے ۔ ایمازون مال کو اسٹور کرنے کا کرایہ لیتی ہے۔ پھر جب مجھے ایمازون کی ویب سائٹ کے ذریعے آرڈر ملے گا تو میرے مال کو پیک کرنا،لوڈ کرنا اور شپمنٹ کرنا، یہ سب ایمازون کی ذمہ داری ہوگی کیونکہ FBA کا مطلب ہی یہی ہے کہ Fulfillment کی ذمہ داری ایمازون کی ہوگی لہٰذا ایمازون میرا مال خریدار کو پہنچادے گی اور مال کی پیکنگ ،لوڈنگ اور شپنگ کے ایک متعین چارجز مجھ سے وصول کرے گی۔ کیا میرا اس طرح کام کرنا اور ایمازون کو یہ سب چارجز دینا جائز ہے ؟
سوال میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ایمازون پر FBA کر نا اور اپنا مال بیچنا جائز ہے ۔
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ FBA کی صورت مرچنٹ اور ایمازون کے درمیان ایک عقدِ اجارہ ہےاور چونکہ سوال میں بیان کردہ دونوں ہی صورتوں میں ایمازون کے پاس مال آنے پر مرچنٹ کا قبضہ کہلائے گا کیونکہ ایمازون مرچنٹ کا نمائندہ ہے، اس کا قبضہ مرچنٹ کا قبضہ ہے۔ لہٰذا خریدار کے حق میں قبضہ ثابت ہونے پر وہ مال کو فروخت بھی کر سکتا ہے۔
اجارہ کی بنیادی شرائط میں سےہے کہ جس کام پر اجارہ ہو وہ کام شریعت کی نظر میں قابلِ اجارہ اور کار آمد منفعت ہو۔ مال کو وئیر ہاؤس میں رکھنا، پیک کرنا، لوڈ نگ کروانا اور خریدار تک ڈیلیور کرنا، یہ سب قابلِ اجارہ کام ہیں اور ان کاموں کے عوض معلوم اجرت لینا بھی جائز ہے۔ لہٰذا سوال میں جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق ایمازون پر FBA کا کام کرنا شرعاً جائز ہے۔
جو منفعت شریعت کی نظر میں قابلِ اجارہ ہواس منفعت کے بدلےاجرت لی جاسکتی ہے،چنانچہ اجارےکی تعریف سے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
”(ھی تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) ملتقطا“
یعنی :ایسی منفعت جو عین شے سے مقصود ہو، اس کا عوض کے بدلے مالک بنادینا اجارہ کہلاتا ہے ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختارکی عبارت’’مقصود من العين‘‘کے تحت فرماتے ہیں:
’’اى فى الشرع ونظر العقلاء“
یعنی شریعت اور عقلاء کی نظر میں وہ کار آمد منفعت ہو۔(در مختار مع رد المحتار،کتاب الاجارۃ،جلد 6،صفحہ 4،دار الفکر،بیروت)
اجارہ شرعاً درست ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اُجرت معلوم ہو جیسا کہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
”يشترط ان تکون الاجرۃ معلومۃ“
یعنی: صحتِ اجارہ کی ایک شرط یہ ہے کہ اُجرت معلوم ہو۔ (مجلۃ الاحکام العدلیہ، صفحہ86، مطبوعہ کراچی)
ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے بھیجنے پر اجرت کے بارے سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہاں عقدِ اجارہ کا تحقق اور ان داموں کا اُجرت ہونا اصلاً محلِ تردد نہیں، اگر کہئے کا ہے کی اجرت؟ ہاں مرسل الیہ کے گھر تک جانے اور اسے روپیہ دینے اور وہاں سے واپس آنے اور اس سے رسید لانے کی ،کیا یہ منفعت مقصودہ مباحہ نہیں؟ جس پر شرعاً ایراد وعقدِاجارہ کی اجاز ت ہو، او ر جب ہے، بیشک ہے، تو عجب عجب ہزار عجب کہ عاقدین ایک منفعتِ مقصودہ جائزہ پر قصدِ اجارہ کریں، عوض منفعت جو کچھ دیں اور اسے اجرت ہی کہیں، اجرت ہی سمجھیں او رخواہی نخواہی ان کے قصدِ جائز کو باطل کرکے، اس اجرت کو معاوضہ قرض و رِبا قرار دیں،شرع مطہر میں معاذاللہ اس حکم کی کوئی نظیر ہے؟ “ (فتاوی رضویہ،جلد19، صفحہ566،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
صدر الشریعہ،مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :” کسی شے کے نفع کاعوض کے مقابل کسی شخص کو مالک کردینا اجارہ ہے۔ مزدوری پر کام کرنا اور ٹھیکہ اور کرایہ اور نوکری، یہ سب اجارہ ہی کے اقسام ہیں۔۔۔جس نفع پر عقدِ اجارہ ہو وہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس چیز سے وہ نفع مقصود ہو ۔۔۔ اجارہ کے شرائط یہ ہیں۔۔۔ اجرت کا معلوم ہونا۔ منفعت کا معلوم ہونا،اور ان دونوں کو اس طرح بیان کردیا ہو کہ نزاع کا احتمال نہ رہے۔“(بہارشریعت، جلد3 ،صفحہ107-108،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر: IEC-680
تاریخ اجراء: 13صفرالمظفر1447ھ/08اگست2025ء