دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شر عِ متین اس مسئلے میں کہ میرے شوہر، جن کا نام زید تھاان کی وفات ہوچکی ہے، ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔جس فلیٹ میں ہم رہائش پذیر ہیں اس کے علاوہ ایک اور چھوٹا فلیٹ میرے شوہر زید کا تھا۔ وہ یہ فلیٹ فروخت کر کےاس کی رقم مجھے دینا چاہتے تھے تاکہ میں یہ رقم اوراپنی جمع شدہ رقم ملا کرایک دوسرا فلیٹ خریدسکوں، جسے کرائے پر دے کر اپنی زندگی کے اخراجات آسانی سے چلا سکوں۔
انہوں نےوہ فلیٹ 40 لاکھ روپے میں فروخت کیا، جس میں سے 5 لاکھ روپے وصول ہوچکے تھے، جو انہوں مجھے دے کر مالک بنا دیا تھا۔ باقی 35 لاکھ روپےابھی وصول نہیں ہوئے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہوگیا۔
میرا کہنا یہ ہے کہ چونکہ انہوں نےاپنی زندگی میں یہ رقم مجھے دینا طے کرلیا تھا اور زبانی کہہ بھی دیا تھا کہ بقیہ 35 لاکھ روپے جو آئیں گے وہ تمہارے ہیں، تم ہی اس کی مالکہ ہو، اس لیے وہ 35 لاکھ روپے صرف میرے ہیں، ان میں کسی دوسرے وارث کا حق نہیں ہے البتہ دیگر ترکے سے وارث اپنا حق لیتے ہیں تو اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا میرایہ دعو یٰ درست ہے؟ یا 35 لاکھ روپے کی رقم بھی وراثت میں شامل ہوکر ورثاء میں تقسیم ہوگی ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں فلیٹ کے بقیہ 35لاکھ روپے پر صرف مرحوم کی بیوہ کا حق نہیں ہے بلکہ یہ 35لاکھ روپےبھی دیگر مالِ وراثت کی طرح تمام ورثاءمیں ان کے شرعی حصے کے مطابق تقسیم ہوں گے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ فلیٹ خریدنے والے شخص پر مرحوم زید کے 35لاکھ روپے بطور دَین واجب الاداتھے ، اورمرحوم زید نے اس دَین کا اپنی بیوی کو زبانی طور پر مالک بنا دیا تھا،حالانکہ بیوی مدیون نہیں ہے، اور مدیون کے علاوہ کسی دوسرے کو دَین کا مالک بنانا شرعاً باطل ہے، شوہر کا ایساکرنادرست نہ ہوا۔ نہ یہاں حوالہ کی صورت ہے، نہ ہی وصیت کے الفاظ ہیں اور وصیت ہوتی تو بھی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں، نہ ہی یہاں دَین کاتسلط یا قبضہ دینا پایا گیا ہے۔ لہٰذا ان 35 لاکھ روپوں کی مالکہ صرف مرحوم زید کی زوجہ نہیں ہے۔ ان پیسوں پر مرحوم زید ہی کی ملکیت ہے جس کی وجہ سے ان پیسوں پر بھی وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔
علامہ زين الدين بن ابراہیم بن محمد، المعروف بابن نجیم المصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفى: 970ھ) ”الاشباہ و النظائر“ میں لکھتے ہیں:
”تمليك الدين من غير من عليه الدين باطل“
یعنی: مدیون کے سواکسی دوسرے کو دَین مالک کردینا باطل ہے۔( الاشباہ و النظائر ،صفحہ223،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
علامہ محمد بن علی المعروف بعلاء الدين الحصكفی الحنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفى: 1088ھ) ”در مختار“ میں لکھتے ہیں:
”(تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا) في ثلاث: حوالة، وصية، و (إذا سلطه) أي سلط المملك غير المديون (على قبضه) أي الدين (فيصح) حينئذ“
یعنی:مدیون کے سواکسی دوسرے کو دَین کا مالک کردینا باطل ہےمگر تین صورتوں میں صحیح ہے: (1) حوالہ، (2)وصیت اور(3) وہ جسے مدیون کے سوامالک بنایا ہے اسے دَین کےقبضہ کرنے پر مسلط کردے۔ (در مختار معہ رد المحتار،جلد08،صفحۃ603-604،مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ” بہار شریعت“ میں لکھتے ہیں: ”دَین کا اُسے مالک کردینا جس پر دَین نہیں ہے یعنی مدیون کے سواکسی دوسرے کو مالک کردینا باطل ہے مگر تین صورتوں میں۔ اول حوالہ کہ اپنے دائن کو اپنے مدیون پر حوالہ کردے۔ دوسری وصیت کہ کسی کو وصیت کردی کہ فلاں کے ذمہ جو میرا دَین ہے میرے مرنے کے بعد وہ دَین فلاں کے لیے ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جس کو مالک بنائے اُسے قبضہ پر مسلَّط کردے۔ یوہیں عورت کا شوہر کے ذمہ جو دَین تھا اُسے اپنے بیٹے کو جو اُسی شوہر سے ہے ہبہ کردیا، یہ بھی صحیح ہے جبکہ اسے قبضہ پر مسلط کردیا ہو۔ “(بہار شریعت،جلد03،صفحہ101-102،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اسی طرح اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ”فتاوی رضویہ “میں لکھتے ہیں : ”یہ غیر مدیون کو دَین کا ملک کرنا ہو گا اور وہ صحیح نہیں۔“(فتاوی رضویہ ،جلد18،صفحہ263،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
نوٹ :فتوی میں چند مشکل الفاظ استعمال ہوئے، ان کا معنی یہ ہے:
دَین : سے مراد وہ نقدی یعنی کیش یا مثلی چیز ہے جو کسی سبب ِالتزام(مثلاً خریداری، کرایہ داری وغیرہ) کے تحت ذمہ پر لازم ہوجائے۔
مدیون: وہ شخص جس کے ذمہ کسی بھی سبب سے دَین لازم ہو۔
غیر مدیون: وہ شخص جس کے ذمہ متعلقہ دائن کا دَین لازم نہ ہو۔
حوالہ:یہ ایک فقہی اصطلاح ہے، اس سے مرادیہ ہے کہ ایک شخص کے ذمہ سے دَین ہٹا کر کسی دوسرے شخص کے ذمہ منتقل کر دیا جائے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر :IEC-679
تاریخ اجراء :12صفرالمظفر1447ھ/07اگست2025ء