logo logo
AI Search

اصل مالک کے انتقال کے بعد کرایہ کا معاہدہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصل مالک کا انتقال ہو گیا تو سابقہ معاہدہ کرایہ داری کی شرعی حیثیت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ زید کا وصال ہو چکا ہے۔ان کے والدین ان سے پہلے فوت ہو گئے تھے، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ ،تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو کہ سب عاقل و بالغ ہیں۔ زید نے اپنی زندگی میں اپنی زمین کرائے پر دی ہوئی تھی۔ زید کے انتقال کے بعد بھی زمین کرائے پر چلتی رہی اور پرانا کرایہ دار جس کا معاہدہ زید سے ہوا تھا وہی کرایہ دار باقی رہا۔ تمام عاقل و بالغ ورثاء اس معاہدے پر راضی رہے اور کسی نے بھی اسے ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ اب تقریباً چھ ماہ کا کرایہ جمع ہو چکا ہے۔ یہ رہنمائی فرمائیں کہ اس کرائے کی آمدنی کا مالک کون ہو گا؟

جواب

زید کے وصال کے بعد اس کی زمین سابقہ معاہدے کے تحت اسی کرائے پر چلتی رہی، سب عاقل بالغ ورثاء اس پر راضی رہے اور کسی نے بھی زمین فروخت کرنے یا نئے سرے سے اجارہ کرنے کا مطالبہ نہ کیا تو زید کے وصال کے بعد تعاطی کے طور پر ورثاء اور سابق کرائے دار کے درمیان اسی سابقہ اجرت پر نیا اجاره قائم ہوگیا۔ اس بنا پر ترکے میں ہر وارث کا جو حصہ بنتا ہے، جمع شدہ کرائے میں بھی وہی تناسب جاری ہوگا۔ اصولِ وراثت کے مطابق چونکہ زید کی جائیداد کے کل64 حصے بن رہے ہیں جس میں سے اس کی بیوہ کو 8حصے، ہر بیٹے کو الگ الگ 14 حصے اور ہربیٹی کو 7 حصے دئیے جائیں گے لہٰذا اسی تناسب سے کرائے کے بھی64 حصے کر کے بیوه کو 8 حصے، ہر بیٹے کو الگ الگ 14 حصے اور ہربیٹی کو 7 حصے دئیے جائیں گے بشرطیکہ مرحوم پر واجب الادا قرض اور وصیت وغیرہ کے معاملات میں شرعی احکام پر عمل کیا جائے۔

مؤجر کے انتقال کے بعد ورثاءنے کرائے دارسے نہ ہی زمین واپسی مانگی ،نہ ہی نیا کرایہ مقرر کیا تو تعاطی کے طورپر پہلاعقدِ اجارہ باقی رہتا ہے ۔علامہ علائی علیہ الرحمہ، درمختارمیں لکھتے ہیں:

”وينبغى ان لا يظھر الانفساخ هنا مالم يطالب الوارث بالتفريغ او بالتزام أجر آخر“

یعنی جب تک وارث کی جانب سے خالی کرنے یا نیا کرایہ مانگنے کا مطالبہ نہ ہو تو عقد اجارہ فسخ ہونے کا ظہور نہیں ہونا چاہیے۔(در المختار جلد9 ،صفحہ142 ، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ حصکفی علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں:

”لو رضی الوارث وھو کبیر بقاء الاجارة و رضى به المستأجر جازانتھی۔ ای فیجعل الرضا بالبقاء انشاء عقد ای لجوازها بالتعاطى“

یعنی( مالک کے انتقال کے بعد) بالغ وارث اور مستاجر اجارہ باقی رکھنے پر راضی ہوں تو جائز ہے، یعنی سابقہ عقد کو باقی رکھنے پر رضامندی کو انشاءِ عقدبنادیاجائے گا کیونکہ اجارے کا انعقاد تعاطی سے بھی ہوجاتاہے۔

لجوازها بالتعاطى کے تحت علامہ سید ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ، ردالمحتارمیں لکھتے ہیں:

”لان ظاھرہ انہ لم یصدر لفظ من کل منھما ولذا قال فی البدائع: و یکون بمنزلۃ عقد مبتدأ“

یعنی کیونکہ ظاہریہ ہے کہ یہاں مستاجر اور بالغ وارثوں نے کوئی لفظ نہیں بولا، اسی لیے بدائع الصنائع میں فرمایا کہ یہ نئے عقدکے مرتبے میں ہے ۔ (ردالمحتار، جلد 9، صفحہ143 ،مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، بہار شریعت میں لکھتےہیں :” مالک کے مرنے کے بعد کرایہ دار مکان میں رہتا رہا تو جب تک وارث مکان خالی کرنے کے لیے نہ کہے گا یا دوسری اجرت کا مطالبہ نہ کرے گا ، اجارے کا فسخ ہونا ظاہر نہ ہوگا۔“(بہار شریعت، جلد ٗ3، صفحہ 175 ،مكتبة المدينہ،کراچی)

آپ مزید لکھتے ہیں: ”مالک کے مرنے کے بعد وارث اور مستاجر اجارہ سابقہ کے باقی رہنے پر راضی ہو جائیں ، یہ جائز ہے یعنی تعاطی کے طور پر ان کے مابین اسی اجرت سابقہ پر جدید اجارہ قرار پائے گا۔“(بہار شریعت جلد ٗ3، صفحہ 175، مكتبة المدينہ، کراچی )

مجموعہ کرایہ کی تقسیم ہر شریک کے حصے کے مطابق ہوگی۔چنانچہ فتاوی امجدیہ میں سوال ہوا: ”دو ہزار روپیہ میں تین شریک ہیں دو بھائی اور بہن، تو بہن کا کتنا روپیہ نکلتا ہے۔اور اس دو ہزار روپیہ کا ایک مکان زید نے بنوایا ہے جس کا کرایہ سولہ روپیہ ماہوار آتا ہے، اس کرایہ میں بہن کا کتنا حصہ نکلتا ہے؟“ تو اس کا جواب دیتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا:” ہر ایک شریک اپنے حصہ کے مطابق کرایہ کا مستحق ہے۔“ (فتاوی امجدیہ ،جلد3،صفحہ373،مکتبہ رضویہ کراچی )

واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-761

تاریخ اجرا: 24جمادی الاخریٰ 1447ھ / 16 دسمبر 2025ء