logo logo
AI Search

کیا Influencer کی کمائی حلال ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Influencer کی کمائی کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا فیس بک کا ایک اکاؤنٹ ہے جس پر اچھی تعداد میں ویور شپ( viewership) ہوتی ہے۔ لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں تو میں ان کے کاروبار کی ویڈیوز بناکر اپنے فیس بک پیج پر ڈال کر ان کے کاروبار کی پروموشن کرتا ہوں اور اس کے عوض میں ان سے طے شدہ انکم لیتا ہوں۔ کیا میرا اس طرح انکم حاصل کرنا حلال ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا مختلف جائز کاروبار کی ویڈیوز بنانا اور ان ویڈیوز کو بطور پروموشن اپنے فیس بک پیج پر ڈالنا شرعاً ایک قابلِ اجارہ کام ہے جس کے بدلے طے شدہ اجرت لینا جائز ہے۔ البتہ چند شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

1. جس پروڈکٹ کی تشہیر کی جارہی ہو، وہ پروڈکٹ حلال ہو یعنی بذاتِ خود اس کی خرید و فروخت جائز ہو۔

2. تشہیری ویڈیو میں کوئی غیر شرعی مواد(Content) نہ ہو مثلاً بے پردہ عورت کی تصویر یا ویڈیو نیز کسی قسم کا میوزک بھی نہ ہو۔

3. تشہیری ویڈیوز میں پروڈکٹ سے متعلق جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا نہ پایا جارہا ہو۔

4. تشہیری ویڈیو کم از کم کتنے عرصے تک اپنے پیج پر رکھیں گے ، یہ مدت بھی طے ہو تاکہ یہ ڈیجیٹل خدمت دائمی نہ رہے اور دوسرے فریق کو بھی معلوم ہو کہ کم از کم اتنے عرصے تک اس ویڈیو کا آپ کے پیج پر رہنا ضروری ہوگا۔ البتہ اس مدت کے بعد بھی اگر آپ اپنی مرضی سے وہ ویڈیو ڈیلیٹ نہ کریں تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

5. اس کام کی اجرت پہلے سے مقرر ہو ۔

6. ایسی تمام چیزیں پہلے ہی طے کرلی جائیں جن کے طے نہ ہونے سے تنازع کا اندیشہ ہو جیسے ویڈیو کس تاریخ کو اپلوڈ ہوگی ؟ وغیرہ۔

اگر مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھ کر آپ جائز تشہیری ویڈیوز بناکر اپنے پیج پر اپلوڈ کرتے ہیں اور اس پر طے شدہ معاوضہ لیتے ہیں تو ایسا کرنا، جائز ہے اور یہ آمدنی حلال ہوگی۔ کیونکہ جائز پروڈکٹ کی تشہیر کرنا شریعت کی نظر میں ایک جائز اور قابلِ اجارہ کام ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اجارے کا جواز خلافِ قیاس اور لوگوں کی حاجت کی وجہ سے ہے لہٰذا جن چیزوں کے اجارے کا عرف ہو ان کا اجارہ جائز ہوتا ہے اور کاروباری کمپنی کا کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جائز کانٹینٹ کے ساتھ اپنے کاروبار کی تشہیرکروانا بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر عرف بھی جاری ہے اور کئی صورتوں میں لوگوں کی حاجات بھی اس سے وابستہ ہیں، یہ منفعتِ مقصود ہ ہے لہٰذا اجارے کی شرائط کا خیال رکھتے ہوئے اس پر اجرت کا لین دین کرنا بالکل جائز ہے۔

جو منفعت شریعت کی نظر میں قابلِ اجارہ ہو، اس منفعت کے بدلےاجرت لی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اجارےکی تعریف سے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(ھی تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) ملتقطا“ یعنی :ایسی منفعت جو عین شے سے مقصود ہو ،اس کا عوض کے بدلے مالک بنادینا اجارہ کہلاتا ہے۔

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختارکی عبارت ”مقصود من العين“ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اى فى الشرع ونظر العقلاء“ یعنی شریعت اور عقلاء کی نظر میں وہ کار آمد منفعت ہو۔(در مختار مع رد المحتار،کتاب الاجارۃ،جلد 6،صفحہ 4،مطبوعہ مصر)

اجارہ درست ہونے کے لئے اجرت طے ہونا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ”يشترط ان تکون الاجرۃ معلومۃ“ یعنی: صحتِ اجارہ کی ایک شرط یہ ہے کہ اُجرت معلوم ہو۔ (مجلۃ الاحکام العدلیہ، صفحہ86، مطبوعہ کراچی)

بحر الرائق میں ہے: ”ان الاجارۃ اجیزت علی خلاف القیاس للحاجۃ“ ترجمہ: اجارے کو خلافِ قیاس لوگوں کی حاجت کی وجہ سے جائز قرار دیا گیا ہے۔(بحر الرائق، جلد 8، صفحہ28، مطبوعہ دار الکتب الاسلامی)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: ”والاجارۃ انما جوزت استحساناً علی خلاف القیاس لدفع حاجات الناس فما لیس من اجاراتھم لم یکن من حاجاتھم“ ترجمہ: اجارہ کا جواز خلافِ قیاس لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے ہے اور لوگوں میں جو اجارہ مروج نہیں وہ لوگوں کی حاجت نہیں ہے۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ532، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

نوٹ : اگر مذکورہ شرائط کا خیال نہیں رکھا گیا تو ایسی صورت میں معاہدہ شرعا ً ناجائز ہوگا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-735

تاریخ اجرا: 13صفر المظفر1447ھ/08اگست 25 20ء