مالِ مضاربت سے مشین خرید کر کرائے پر دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مالِ مضاربت سے مشین خرید کر کرائے پر دینے کی شرعی حیثیت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم مختلف مشینیں کمپنیوں کو کرائے پر دیتے ہیں،وہ ان مشینوں کو لے کر خود ہی چلاتے ہیں، ہمارا کام فقط کرائے پر دے کر اس کا کرایہ وصول کرنا ہے۔ کیا ہم اس میں اس طور پر مضاربت کرسکتے ہیں کہ ایک انویسٹر ہمیں مشین کے پیسے دے اور ہم اس رقم سے مشین خرید کر آگے کرائے پر دے دیں، پھر جو کرایہ حاصل ہو، اسے معاہدے کے مطابق بطور نفع آدھا آدھا تقسیم کرلیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا انویسٹر سے پیسے لے کر مشین خرید کر کرائے پر دینا جائز ہے۔
مسئلےکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ شرعی اصولوں کےمطابق مضارب کو مالِ مضاربت سے ہر وہ کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے جو تاجر حضرات عرفاً نفع کمانے کے لئے کرتے ہیں اور ہمارے عرف میں سامان کرائے پر دے کر نفع کمانا تاجروں میں معروف ہے نیز فقہائے کرام نے واضح طورپر مالِ مضاربت کو کرائے پر دینے کی اجازت عطا فرمائی ہے لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مضاربت کے تمام اصول و قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے مضاربت کی جائے تو آپ کا بطور مضارب انویسٹرسے رقم وصول کرنا اور اس سے مشین خرید کر آگے کرائے پر دینا اور ملنے والے کرائے کو طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم کرنا، جائز ہے۔
مضارب کو مالِ مضاربت کرائے پر دینے کی اجازت ہوتی ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’يملك بمطلق المضاربة التوكيل بالبيع والشراء للحاجة والاجارة والاستئجار‘‘
یعنی:مضاربتِ مطلقہ میں مضارب بوقتِ ضرورت بیع و شرا کا وکیل بنا سکتا ہے، مالِ مضاربت کو کرائے پر دے سکتا ہے اور کسی سامان کو کرائے پر لے سکتا ہے۔ (فتاوی عالمگیری،ج04،ص291-292،بيروت، ملخصا)
مضارب کو مالِ مضاربت سے ہر وہ کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے جو تاجر حضرات نفع کمانے کے لئے عموماً کرتے ہیں جیساکہ مضارب کے مالِ مضاربت سے زمین کرائے پر لینے اور اس میں کھیتی باڑی کرنے سے متعلق بدائع الصنائع میں ہے:
”وله ان يستاجر ارضا بيضاء، ويشترى ببعض المال طعاما فيزرعه فيها، وكذلك له ان يقلبها ليغرس فيها نخلا او شجرا او رطبا، فذلك كله جائز والربح على ما شرطا“
یعنی:مضارب کو اس بات کی اجازت ہے کہ خالی زمین کرائے پر لے اور مالِ مضاربت کے کچھ مال سے بیج خریدے پھر انہیں اس زمین میں بو دے، اسی طرح مضارب کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس خالی زمین میں درخت یا کھجورکے درخت یا سبزیاں اُگانے کے لیے ہل چلائے ، یہ تمام کا م جائز ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا نفع ان دونوں کے درمیان طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”لان الاستئجار من التجارة، لانه طريق حصول الربح وكذا هو من عادة التجار فيملكه المضارب“
یعنی:کیونکہ کسی چیز کو کرائے پر لینا تجارتی امور سے ہے کہ یہ نفع کے حصول کا ایک طریقہ اور عادتِ تجار میں سے ہے لہٰذا مضارب کو اس کا بھی اختیار ہوگا۔(بدائع الصنائع،ج06،ص88،دارالکتب العلمیۃ)
مجلۃ احکام العدلیہ میں ہے:
”له ايداع مال المضاربة...والايجار“
یعنی:مضارب کے لئے مالِ مضاربت کو ودیعت رکھوانا اور کرائے پر دینا جائز ہے۔ (مجلة احكام العدلية، ص273، مطبوعه کراچی ملتقطا)
بہار شریعت میں ہے:”مضارب۔۔۔ کسی چیز کو اجارہ پر دے سکتا ہے کرایہ پر لے سکتا ہے۔“(بھار شریعت،ج3،ص06،مطبوعه مکتبۃ المدینہ کراچی ملتقطا)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-107
تاریخ اجرا: 24 ربیع الآخر 1445ھ/09نومبر 2023ء