logo logo
AI Search

ایفیلیٹ مارکیٹنگ کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Affiliate Marketing کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایفیلیٹ(Affiliate) مارکیٹنگ کرنا کیسا؟

ایفیلیٹ مارکیٹنگ یہ ہوتی ہے کہ کسی کمپنی کو اپنا سامان بکوانا ہوتا ہے تو کمپنی اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کرنے والوں کو یہ آفر دیتی ہے کہ آپ ہماری پروڈکٹ کی تشہیر کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ وغیرہ پر اس کا لنک لگائیں تو ایفیلیٹ(Affiliate) مارکیٹنگ کرنے والے حضرات (Affiliate Marketers) اپنی ویب سائٹ بناتے ہیں، پیج بناتے ہیں، کمپنیز کی پروڈکٹ بِکوانے کے لئے ترغیبی و معلوماتی مواد پر مشتمل کونٹینٹ (Content) تیار کرتے ہیں، یہ کونٹینٹ (Content) آرٹیکل، تصاویر یا ویڈیوز کی صورت میں ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ان کی ویب سائٹ پر آنے والا کسٹمر متاثر ہوکر ان کے دیے گئے لنک کے ذریعے کمپنی کی ویب سائٹ پر جا کر مختلف چیزیں خریدتا ہے۔ اس طریقے سے کمپنی کی جو بھی پروڈکٹ فروخت ہوتی ہے اس کا مخصوص کمیشن، ایفیلیٹ(Affiliate) مارکیٹنگ کرنے والے حضرات (Affiliate Marketers) کو ملتا ہے، کیا اس طرح تشہیر کرنا اور لنک لگاکر کمیشن حاصل کرنا، جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ایفیلیٹ(Affiliate) مارکیٹنگ کے ذریعے کمپنیز کی جائز اشیاء بِکوا کر کمیشن حاصل کرنا، درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

اس کام میں کسی قسم کا(1) جھوٹ، (2)دھوکہ،(3) میوزک اور(4)بے حیائی پرمشتمل تصاویر، ویڈیوز یا(5)کوئی اور غیر شرعی چیزنہ ہو۔ (6) کسی قسم کی جھوٹی مبالغہ آرائی نہ ہو۔(7)جس کمپنی کے لیے کام کیاجائے ،اس کمپنی کاکام شرعی اصولوں کے مخالف نہ ہو۔(8) کمیشن کے اصولوں کوبھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے یعنی پہلے سے ہی یہ طے ہو کہ ہر پیس پر یا کس چیز پرکتنے فیصد یا کتنے روپے کمیشن دیا جائے گا۔ (9)یہ بھی ضروری ہے وہ کمیشن اجرتِ مثل یعنی مارکیٹ میں رائج کمیشن سے زائد نہ ہو۔

یہ بھی ذہن میں رہے کہ شرعی اصولوں کے مطابق اپنی محنت و کوشش سے کسی کی چیز بکوانا، قابلِ معاوضہ کام ہے، ایفیلیٹ (Affiliate) مارکیٹنگ میں اگرچہ فزیکلی (Physically) بھاگ دوڑ نہیں ہوتی لیکن ڈیجیٹل ذرائع مثلاً فیس بک پیج یا ویب سائٹ وغیرہ پر آرٹیکل، تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے کونٹینٹ (Content) لگا کر محنت کی جاتی ہے، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اس طرح کے کام بھی شرعاً و عرفاً قابلِ معاوضہ کام ہیں اور اس پر کمیشن لینے دینےپر عرف وتعامل بھی ہے، لہٰذا اوپربیان کردہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے ایفیلیٹ(Affiliate) مارکیٹنگ کرنا اور طے شدہ کمیشن حاصل کرنا، جائز ہے۔

ایفیلیٹ مارکیٹنگ کرنے والا سودا کروانے پر عرف کے مطابق کمپنی سے کمیشن لینے کا مستحق ہے جیساکہ العقود الدریہ میں ہے: ”سئل فى دلال سعى بين البائع والمشترى وباع المالك المبيع بنفسه والعرف ان الدلالة على البائع فهل تكون على البائع الجواب : نعم... لو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف الى العرف ان كانت الدلالة على البائع فعليه وان كانت على المشترى فعليه وان كانت عليهما فعليهما ‘‘ یعنی:ایسے کمیشن ایجنٹ کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بائع اور مشتری دونوں کے درمیان بیع کروانے کی کوشش کی اور مالک نے اپنا سامان خود فروخت کیا اور عرف یہ ہے کہ بروکری بائع دیتا ہے تو کیا بروکری دینا بائع پر ہی لازم ہے؟ جواب دیا گیا کہ جی ہاں۔۔۔ اگر کمیشن ایجنٹ نے دونوں کے درمیان سودا کروانے میں کوشش کی اور سامان کے مالک نے خود اپنا سامان بیچا تو اب عرف کا اعتبار کیا جائے گا اور عرف میں اگر بروکری بائع پر ہوتی ہے تو بائع پر لازم ہو گی ، اگر عرف میں بروکری مشتری پر لازم ہوتی ہے تو مشتری دے گا اور اگر عرف میں دونوں دیتے ہیں تو دونوں پر لازم ہو گی۔(العقود الدرية،جلد1،صفحہ247،بيروت ملتقطا)

در مختار و رد المحتار میں ہے: ’’(وان سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع او المشترى او عليهما بحسب العرف“ یعنی: اگر کمیشن ایجنٹ نے دونوں کے درمیان سودا کروانے میں کوشش کی اور سامان کے مالک نے خود اپنا سامان بیچا تو اب عرف کا اعتبار کیا جائے گا اور اسی عرف کے اعتبار سے کبھی فقط بائع پر، کبھی فقط مشتری پر اور کبھی دونوں پر بروکری لازم ہوگی۔(رد المحتار على الدرالمختار، جلد7، صفحہ 93،مطبوعہ بيروت ملتقطا)

فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بائع سے معاہدہ کرنے والے کمیشن ایجنٹ کی اجرت کے متعلق فرماتے ہیں: ”اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صَرف کیا تو صرف اجرِ مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوطِ زیادت پر خود راضی ہوچکا۔“ (فتاوی رضویہ،جلد19،صفحہ453، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اسی طرح بہار شریعت میں ہے:”دلال کی اُجرت یعنی دلالی بائع کے ذمہ ہے جب کہ اُس نے سامان مالک کی اجازت سے بیع کیا ہواور اگر دلال نے طرفین میں بیع کی کوشش کی ہواور بیع اس نے نہ کی ہوبلکہ مالک نے کی ہو تو جیسا وہاں کا عرف ہو یعنی اس صورت میں بھی اگر عرفاًبائع کے ذمہ دلالی ہو تو بائع دے اور مشتری کے ذمہ ہو تو مشتری دے اور دونوں کے ذمہ ہو تو دونوں دیں۔“(بہار شریعت،جلد2،صفحه639،مطبوعه مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-0264

تاریخ اجرا: 15ذوالحجۃ الحرام 1445ھ22جون2024ء