logo logo
AI Search

دورانِ مضاربت نفع کا تناسب بدلنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دورانِ مضاربت نفع کا تناسب بدلنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا مضاربت میں رب المال (انویسٹر) اور مضارب کے درمیان نفع کی تقسیم سے متعلق جو فیصد طے ہوئی تھی، اسے باہمی رضامندی سے دورانِ مضاربت تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

جواب

جی ہاں! رب المال اور مضارب باہمی رضامندی سے نفع کی فیصد کو تبدیل کرسکتے ہیں، خواہ مضارب کام شروع کرچکا ہو یا اُس نے ابھی کام شروع نہ کیا ہو، خواہ مضاربت کو ایک عرصہ گزرچکا ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ فقہائے کرام نے نفع کی فیصد کو مقرر کرلینے کے بعد اس میں ہونے والی تبدیلی کو اصل عقد کے ساتھ لاحق کیا ہے یعنی جیسے ابتدائے عقد میں فریقین نفع کی تقسیم کاری پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں اور وہ عقدِ مضاربت منعقد ہوتا ہے، اسی طرح بعد میں نفع کی فیصد میں تبدیلی کرنے سے بھی عقدِ مضاربت درست ہی رہے گا۔

کتاب الاصل لامام محمد میں ہے:

وإذا دفع الرجل إلى الرجل مالاً مضاربة بالنصف، فاشترى به وباع، فربح ربحاً، أو لم يربح شيئاً، أو لم يشتر به شيئاً منذ دفع إليه المال، أو اشترى به عرضاً، فلم يبعه حتى زاده رب المال في الربح السدس، فجعل للمضارب الثلثين، ولرب المال الثلث، أو كان المضارب حط عن رب المال من الربح السدس، فصار لرب المال الثلثان، وللمضارب [الثلث] ، ثم ربح المضارب بعد ذلك ربحاً، فإن هذا جائز لازم لهما جميعاً على ما حط المضارب، أو زاد رب المال

یعنی:جب ایک شخص نے دوسرے کو نصف نفع کی شرط پر مضاربت کے لیے مال دیا پھر مضارب نے اس مال سے نیا مال خریدا اور بیچا اور نفع کمایا یا نفع نہ ہوا یا رقم دینے کے بعد سے کچھ بھی نہ خریدا ہو یا اس سے سامان خرید لیا ہو لیکن بیچ نہ پایا ہو کہ رب المال نے نفع میں چھٹا حصہ زیادہ کر کے مضارب کے لیے دو تہائی نفع اور رب المال کے لیے ایک تہائی نفع مقرر کر لیا ہو یا مضارب نے رب المال سے ایک تہائی نفع کم کر کے دو تہائی نفع رب المال کے لیے اور ایک تہائی نفع مضارب کے لیے کر لیا ہو پھر مضارب نے نفع کمایا تو ان دونوں پر مضارب کی کمی یا رب المال کی زیادتی کے مطابق نفع تقسیم کرنا ، لازم ہے۔ (کتاب الاصل ، جلد04،صفحہ 248،مطبوعہ بیروت)

مبسوط للسرخسی میں ہے:

”واذا دفع الرجل الى الرجل مالا مضاربة بالنصف فاشترى به وباع وربح او لم يربح، او لم يشتر به شيئا منذ دفع المال اليه، او اشترى به عرضا ولم يبعه حتى زاد رب المال من الربح السدس ... ثم ربح المضارب بعد ذلك ربحا فهذا جائز على ما فعلا ويقتسمان على ذلك … لان العقد قائم بينهما ما لم يصل الى رب المال راس ماله، والزيادة والحط فى العقود اللازمة تثبت على سبيل الالتحاق بالاصل ففيما ليس بلازم اولى، واذا التحق باصل العقد وصار كانهما شرطا فى الابتداء ان يكون الربح بينهما على الثلث والثلثين“

یعنی: جب ایک شخص نے دوسرے شخص کو 50 فیصد نفع کی شرط کے ساتھ مضاربت کے طور پر مال دیا تو مضارب نے اس مالِ مضاربت سے کچھ خریدا اور بیچاہو، چاہے نفع ہوا ہو یا نہ ہواہو یاجب سے اسے مال مضاربت دیا ہے اس نے کچھ نہ خریداہو یا ابھی فقط سامان خریدا ہواوراسے آگے فروخت نہ کیاہو اور اسی دوران رب المال نے مضارب کے نفع میں چھٹے حصے کا اضافہ کردیا ۔۔۔ اس کے بعدمضارب کو نفع ہواتو یہ صورتیں جائزہیں اور یہ دونوں طے شدہ تناسب سے ہی نفع تقسیم کریں گے۔ کیونکہ جب تک راس المال رب المال تک نہ پہنچے اس وقت تک عقدِ مضاربت قائم ہے۔ جب عقودِ لازمہ میں بعد میں کی جانے والی کمی زیادتی اصل عقد کے ساتھ لاحق ہوتی ہے تو عقودِ غیر لازمہ میں تو بدرجہ اولیٰ اصل عقد سے لاحق ہوگی اور جب یہ کمی زیادتی اصل عقد کے ساتھ لاحق ہوگئی تو یہ گویا ایسے ہوگیا کہ دونوں نے ابتداء ہی میں ایک ثلث اور دوثلث کی شرط پر اتفاق کیا تھا۔(مبسوط للسرخسى، جلد22،صفحہ 108،مطبوعہ بیروت ملتقطا)

بہارِ شریعت میں ہے:”نفع کے متعلق جو قرارداد ہو چکی ہے مثلاً نصف نصف یا کم و بیش اس میں کمی زیادتی کرنا ، جائز ہے مثلاً رب المال نے نصف نفع لینے کو کہا تھا اب کہتا ہے میں ایک تہائی ہی لوں گا یعنی مضارِب کا حصہ بڑھا دیا یوہیں مضارِب اپنا حصہ کم کردے، یہ بھی جائز ہے۔“(بهار شریعت،جلد3،صفحہ21،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-169

تاریخ اجرا: 22 شعبان المعظم 1445ھ/04مارچ 2024ء