آن لائن چاندی کی انگوٹھی بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انگوٹھی بنا کر آن لائن فروخت کرنا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں آن لائن آرڈر لے کر چاندی کی مردانہ انگوٹھی بناکر بیچتا ہوں جو کہ شرعی وزن کے مطابق ہوتی ہے ۔کسٹمر مجھ سے آرڈر پر مخصوص ڈیزائن کی مختلف انگوٹھیاں بنواتے ہیں ، میں انگوٹھی کی مکمل تفصیلات ( وزن، ڈیزائن وغیرہ) طے کر لیتا ہوں ، اور قیمت بھی متعین ہوجاتی ہے۔ نیز کس جگہ پہنچانی ہے ؟ یہ بھی آرڈر لیتے وقت ہی طے ہوجاتا ہےاور ڈیلیوری فیس بھی بتادی جاتی ہے، لیکن کبھی کسٹمر مکمل پیمنٹ مجھے ٹرانسفر کردیتا ہے اور کبھی کسٹمر کچھ رقم دیتا ہے اور بقیہ رقم انگوٹھی مکمل ہونے کے بعد کیش آن ڈیلیوری کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ تو کیا اس طرح چاندی کی مردانہ انگوٹھی تیار کرکے دینا شرعاً جائز ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا چاندی کی شرعی وزن کے مطابق مردانہ انگوٹھی بنا کر آن لائن سیل کرنا شرعاً جائز ہے ۔
اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ آرڈر پر انگوٹھی بنانا ’’ بیعِ استصناع ‘‘ کہلاتا ہے اور بیعِ استصناع صرف ان ہی چیزوں میں جائزہے ،جن چیزوں کو آرڈر پر تیار کروانا لوگوں میں معروف ہو۔اور یہ ضروری ہے کہ جو چیز آرڈر پر تیار کی جا رہی ہے اس کی جنس ،نوع اور صفت اس طرح معلوم ہوں کہ کسی قسم کی کوئی جہالت باقی نہ رہے ،نیزیہ بھی ضروری ہے کہ اس چیز کی قیمت بھی معین ہو خواہ قیمت کی مکمل ادائیگی پہلے کی جائے یا کچھ قیمت پہلے دی جائے اور کچھ بعد میں البتہ جب بعض یا کل قیمت ادھار ہو تو اس صورت میں قیمت کی ادائیگی کا وقت پہلے ہی طے کرناضروری ہے،ادائیگی کاوقت مجہول ہونے سے عقدفاسدہوجاتاہے۔اور چونکہ سامان پہنچا کر دینا طے ہے ،اس لئے سامان کس جگہ پہنچایا جائے گا؟ یہ بھی معلوم ہو۔ڈیلیوری چارجز اگر الگ سےلاگو ہوں گے ،تو وہ بھی پہلے سے طے ہوں ۔ چونکہ بیعِ استصناع کی یہ تمام شرائط بیان کردہ صورت میں پائی جا رہی ہیں لہٰذا آپ کا سوال میں درج طریقے کے مطابق مردانہ انداز والی چاندی کی شرعی وزن کے مطابق انگوٹھی بنا کر بیچنا جائز ہے۔
آرڈر پر کسی چیز کو تیار کروانا بیعِ استصناع کہلاتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے : ’’ الاستصناع طلب الصنعة وهو أن يقول للصانع خف أو مكعب أو أواني الصفر اصنع لي خفاً طوله كذا وسعته كذا أو دستاً، أي برمته تسع كذا ووزنها كذا على هيئة كذا بكذا ويعطي الثمن المسمى أو لا يعطي شيئاً فيعقد الآخر معه جاز استحساناً‘‘ ترجمہ: استصناع کا مطلب کسی چیز کو تیار کرنے کا مطالبہ کرناہے۔ جیسے کوئی شخص کسی کاریگر سے کہے کہ میرے لیے موزہ ، ڈبہ یا پیتل کے برتن بنا دو، اورجو موزہ میرے لئے بناؤ وہ اتنی لمبائی چوڑائی کا ہو، یا دیگ (بڑی ہانڈی) بنادو جو اتنی وسیع ہو اور اتنے وزن کی ہو، اور اس ہیئت کی ہو، اتنی قیمت کے عوض ۔ خواہ وہ مقررہ ثمن اس وقت دے یا نہ دے ۔ اور کاریگر اس سے عقد کر لے تو یہ استحسانا ً، جائز ہے۔(فتح القدیر ، ج 07 ،ص 114 ،دار الفکر ،بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے :’’کبھی ایسا ہوتا ہے کاریگر کو فرمایش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصناع کہتے ہیں۔‘‘(بہارِ شریعت ، ج 02 ، ص 807 ، مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
عقدِ استصناع کے جائز ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤا لدین ابو بکر بن مسعود کاسانی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ وأما شرائط جوازه (فمنها) : بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته؛ لأنه لا يصير معلوما بدونه. (ومنها) : أن يكون مما يجري فيه التعامل بين الناس ‘‘ ترجمہ:عقدِ استصناع کے جائز ہونے کی چند شرائط ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آرڈر پر تیار کروائی جانے والی چیز کی جنس،نوع ، مقدار ،اور صفت معلوم ہو کیونکہ ان کے بغیر مصنوع کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکتا،اور انہیں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ چیز بنوانے کا لوگوں میں تعامل بھی ہو۔ (بدائع الصنائع ، ج 05 ،ص 03 ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’ وصورته أن يقول للخفاف اصنع لي خفا من أديمك يوافق رجلي ويريه رجله بكذا أو يقول للصائغ صغ لي خاتما من فضتك وبين وزنه وصفته بكذا ‘‘ یعنی: استصناع کی صورت یہ ہے کہ کو ئی شخص موزہ بنانے والے کو اپنا پاؤں دکھاتے ہوئے کہے کہ تم اتنے پیسوں کے عوض اپنے پاس موجود چمڑے سے میرے اس پاؤں کے مطابق موزہ بنا دو یا سنار کو کہے اپنی چاندی سے مجھے ایک انگوٹھی بنا دو اور اس کا وزن و صفت وغیرہ بیان کر دے۔(فتاوی ھندیہ، ج3، ص207، دار الفکر، بیروت)
آرڈر پر چاندی کی انگوٹھی بنوائی اورمکمل پیمنٹ نہ دی یا کچھ پیمنٹ دی ، کچھ نہ دی تب بھی بیع ِاستصناع جائز ہے۔ جیسا کہ بنایہ ،وکفایہ شرح ہدایہ وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے، واللفظ للاخر: ’’یقول للصانع اصنع لی خاتما من فضتک و بین وزنہ و صفتہ و یسلم الثمن کلہ او بعضہ او لا یسلم‘‘ یعنی: ( بیع استصناع کی صورت یہ ہے کہ ) کوئی شخص صانع کو کہے کہ میرے لیے اپنی چاندی سے ایک انگوٹھی بنا دو اور پھر اسے انگوٹھی کا وزن اور صفت وغیرہ بیان کر دےاور ثمن پورا دے دے یا کچھ ادا کرے یا کچھ بھی ادا نہ کرے۔ (کفایہ مع فتح القدیر، ج7، ص30، مطبوعہ کوئٹہ)
درر الحكام شرح مجلۃ الاحكام میں ہے: ’’ لا يلزم فيه تعجيل الدفع وقد بين في المادة (387) أن تعجيل دفع الثمن شرط في السلم لا في الاستصناع. وعلى كل فكما يكون الاستصناع صحيحا بالتعجيل يكون صحيحا بتأجيل بعض الثمن، أو كله ويجوز أن يكون الأجل فيه لشهر، أو أكثر، أو أقل ولا يقاس على السلم ‘‘ یعنی : بیعِ استصناع میں فوراً ثمن کی ادائیگی کرنا ضروری نہیں۔ اور یہ بات مجلہ کی دفعہ(387) میں بیان ہوچکی ہے کہ فوراً ثمن کی ادائیگی بیعِ سلم میں شرط ہے، نہ کہ بیعِ استصناع میں۔ بہرحال جس طرح فوراً ثمن کی ادائیگی کرنے سے بیعِ استصناع صحیح ہوتی ہے، اسی طرح بعض یا کُل ثمن کو مؤجل کرنے کی صورت میں بھی بیعِ استصناع صحیح ہوتی ہے۔ اور بیعِ استصناع میں ایک ماہ ، اس سے زیادہ ،یا کم کی مدت مقرر کرنا بھی جائز ہے، اس کو بیع سلم پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام ،ج01،ص 424،دار الجیل)
امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیں:’’ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سےاتنی قیمت کو بنادے،یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے۔۔تو یہ عقد شرعاً جائز ہوتا ہے۔اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلاً روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجود رہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا۔“ (فتاوی رضویہ،ج17،ص 597تا598،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-710
تاریخ اجرا: 02ربیع الاول1447ھ/27اگست2025ء