logo logo
AI Search

فاریکس ٹریڈنگ کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلے میں کہ فاریکس ٹریڈنگ کاشرعی حکم کیا ہے؟ آج کل کئی پلیٹ فارم فاریکس ٹریڈنگ کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں کہ وہاں جاکرٹریڈنگ کا ارادہ رکھنے والا شخص اپنااکاؤنٹ بناکر کام کرتاہے ۔ اس ایپلی کیشن میں مختلف چیزوں کے ریٹ آرہے ہوتے ہیں مثلاًآئل ،سونا، چاندی اتنے ڈالرز کے بدلے ۔ نیز یہ فیگرہروقت بدل رہے ہوتے ہیں ۔ یہاں آئل،سونا،چاندی وغیرہ خریدنے والے افرادسونا،چاندی ، وصول بھی نہیں کرتے اورپیچھے اتنی مقدارمیں یہ چیزیں موجودبھی نہیں ہوتیں ۔

جواب

فاریکس ٹریڈنگ کا عمومی طریقہ کارشرعی اعتبار سے کئی خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائزوحرام ہے۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ عام طور پر فاریکس ٹریڈنگ میں حقیقۃً کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی اور جس چیزکو مبیع فرض کرکے ٹریڈنگ کی جاتی ہے خارج میں اس کا وجودہی نہیں ہوتابلکہ صرف نمبرزکاآپس میں تبادلہ ہوتاہے ، اس طرح کہ ٹریڈنگ کرنے کے بعد بائع کے نمبرزمیں کمی اور خریدار کے نمبرز میں اضافہ ہوجاتا ہے، شریعت مطہرہ کے اصولوں کے مطابق مبیع کا مال اور متقوم ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں اصلاً مال کی خرید و فروخت مقصودہی نہیں بلکہ صرف نمبرنگ کاگیم ہوتاہے، اس لیے یہ فرضی خریدوفروخت ناجائزوگناہ ہے۔

اگربالفرض حقیقت میں مال کی خریدوفروخت بھی اسے تسلیم کرلیاجائے تو یہاں مبیع معدوم ہونے کے سبب شرعاً بیع سلم کے ذریعے اس خریدوفروخت کا جوازبن سکتاہے لیکن بیع سلم کی کثیرشرائط کالحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے یہ سوداناجائزوگناہ ہے ۔ اگربالفرض یہ پہلو نہ بھی ہواور بائع کی ملکیت میں مال موجودمان لیاجائے تب بھی یہاں کم ازکم یہ خرابی ضرورموجودہوتی ہے کہ یہ خریدوفروخت قبضہ سے پہلے کی جائے گی اور حدیث پاک میں بیع قبل قبض کی ممانعت ہے لہٰذا یہ ٹریڈنگ اس صورت میں بھی ناجائزوگناہ ہے۔

امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند سے حدیث بیان کرتے ہیں:”عن حكيم بن حزام قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، يأتيني الرجل، فيسألني البيع ليس عندي أبيعه منه، ثم أبتاعه له من السوق، قال: «لا تبع ما ليس عندك»“یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے پاس ایک شخص آ کر مجھے وہ چیز بیچنے کا کہتا ہے، جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو میں اسے بیچ دیتا ہوں اور پھر اس کے لیے بازار سے خرید لیتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز تمہارے پاس نہ ہو، اُسے مت بیچو ۔“ (سنن النسائی،جلد 7،صفحہ 289، مطبوعہ حلب)

قبضہ کرنے سے پہلے کوئی چیز بیچنا منع ہے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:”أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم «فهو الطعام أن يباع حتى يقبض»، قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله “یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کی ممانعت فرمائی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے گمان میں ہر چیز کا حکم ایسا ہی ہے۔(صحیح البخاری،جلد 3، صفحہ68،مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

مبیع کا مال متقوم ہونا بیع کی بنیادی شرائط میں سے ہے۔علامہ شامی رحمہ اللہ تعالیٰ بیع کی شرائط کے تحت فرماتے ہیں: ”كونه موجودا مالا متقوما“ یعنی بیع کی شرائط میں سے مبیع کا موجود اور مال متقوم ہونا بھی ہے۔ (رد المحتار،جلد4،صفحہ505،دار الفکر،بیروت)

بحر الرائق اور بدائع الصنائع میں ہے،والنظم للثانی:”(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي“ترجمہ: خریدار کا منقولی (یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے قابل) چیز کو آگے بیچنے کے لیے اس پر قبضہ کرنا بھی بیع کےدرست ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، لہٰذا قبضے سے پہلے اس کو آگے بیچنا درست نہیں، کیونکہ روایت کیا گیا کہ جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہواس کو بیچنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور کسی کام سے ممانعت اس عقد کے فاسد ہونے کو لازم کر تی ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب البیوع، جلد 5، صفحہ 180، مطبوعہ بیروت)

محیط برہانی اور بنایہ شرح ہدایہ میں ہے: والنظم للآخر:” بيع المنقول قبل القبض لا يجوز بالإجماع“ ترجمہ: منقولی چیز کو قبضہ سے پہلے بیچنا، بالاجماع ناجائز ہے۔(البنایہ شرح الھدایہ، کتاب البیوع، باب الاقالۃ، جلد 8، صفحہ 229، مطبوعہ بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں:”مبیع اگر منقولات کی قسم سے ہے تو بائع کا اُس پر قبضہ ہونا ضرور ہے، قبل قبضہ کے چیز بیچ دی، بیع ناجائزہے۔“(بہار شریعت،جلد2،صفحہ625،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-262

تاریخ اجرا: 07ذوالحجۃ الحرام 1445ھ14جون2024ء