اقساط پر بیچی چیز کم قیمت پر واپس خریدنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ادھار میں چیز بیچی پھر مکمل رقم وصول کرنے کے بعد کم قیمت میں خرید لی تو جائز ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنا ایک مکان ایک سال کی اقساط پر اپنے ایک دوست کو بیچا تھا اور اس نے مکمل اقساط بھی ادا کردی ہیں، لیکن اب اسے پیسوں کی ضرورت ہے تو وہ اپنا وہی مکان بیچ رہا ہے، تو کیا میں وہ مکان اپنے اس دوست سے کم قیمت میں خرید سکتا ہوں ؟ پراپرٹی کے ریٹ بھی اس وقت کے مقابلے میں اب کم ہو گئے ہیں، اور دوست بھی کم قیمت میں بیچنے پر راضی ہے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں خرید و فروخت کے شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آپ وہ مکان کم قیمت میں اپنے دوست سے خرید سکتے ہیں کیونکہ پچھلے سودے کی پوری قیمت وصول ہو چکی ہے تو اب اس سے کم میں بھی خریدنا شرعاً جائز ہے۔
چنانچہ ہدایہ مع فتح القدیر میں ہے: ” ( قوله ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع قبل نقد الثمن) بمثل أو أكثر جاز ، وإن باعها من البائع بأقل لا يجوز عندنا ۔۔۔قید بقولہ قبل نقد الثمن لان ما بعدہ یجوز بالاجماع باقل من الثمن“ یعنی جس نےنقد یا ادھار میں ہزار درہم کی باندی خریدی، پھر باندی پر قبضہ کر کے اسی بیچنے والے شخص کو رقم ادا کرنے سے پہلے خریدی گئی قیمت کے مثل یا زائد قیمت میں بیچ دی،تو جائز ہے اور اسی بائع کو کم قیمت میں بیچی تو ہمارے نزدیک جائز نہیں ۔ صاحب ہدایہ نے رقم ادا کرنے سے پہلے کی قید ذکر فرمائی ،کیونکہ رقم ادا کرنے کے بعد کم قیمت میں بیچنا بالاجماع جائز ہے ۔(ھدایہ مع فتح القدیر ، ج6، ص433، مطبوعہ بیروت، ملتقطاً )
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ولو اشتراه بأكثر من الثمن الأول قبل نقد الثمن أو بعده جاز۔۔۔ وفي الفتاوى العتابية ولو قبض الثمن ثم اشتراه بأقل جاز‘‘ یعنی اگر ثمن ادا کرنے سے پہلے یا بعد زیادہ قیمت میں خریدا، تو جائز ہے ۔۔۔ فتاوی عتابیہ میں ہے،ثمن پر قبضہ کرنے کے بعد کم قیمت میں خریدا ،تو جائز ہے ۔( فتاوی عالمگیری ، جلد 03، صفحہ 132،مطبوعہ پشاور، ملتقطاً)
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’جس چیز کو بیع کردیا ہے اور ابھی پوراثمن وصول نہیں ہوا ہے ،اُس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا، جائز نہیں اگرچہ اس وقت اُس کا نرخ کم ہوگیا ہو۔۔۔ بائع نے اُس سے خریدی جس کے ہاتھ مشتری نے بیع کردی ہے یا ہبہ کردی ہے یا مشتری نے جس کے لیے اُس چیز کی وصیت کی اُس سے خریدی یا خود مشتری سے اُسی دام میں یازائد میں خریدی یا ثمن پرقبضہ کرنے کے بعد خریدی،یہ سب صورتیں جائز ہیں۔‘‘ (بہار شریعت،جلد02،صفحہ708،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی، ملتقطاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-702
تاریخ اجرا: 25صفرالمظفر1447ھ/20اگست2025ء