logo logo
AI Search

ڈیجیٹل تشہیر کر کے کمیشن لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ڈیجیٹل تشہیر کر کے کمیشن لینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی جائز پروڈکٹ یا جائز سروس کی ڈیجیٹل تشہیر کرکے اس پر کمیشن لینے کا کام جائز ہے؟

جواب

شرعی اصول پر عمل کرتے ہوئے محنت و کوشش کرکے چیز بکوا نے پر مارکیٹ میں رائج کمیشن لینا جائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں بھی اس طریقے سے کام کرکے روزی حاصل کی جاتی تھی، اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے یہ کام کرنے والے افراد کو ”معشر التجار“ یعنی تاجروں کے گروہ کے لقب سے نوازا۔

فی زمانہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے باقاعدہ تشہیر کرکے پروڈکٹ یا سروس بکوانے میں محنت کرنا قابل معاوضہ کام سمجھا جاتا ہے، اور اس پر کمیشن لینے دینے کا عرف بھی ہے، لہٰذا شرعی اصول پورے کرتے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جائز پروڈکٹ یا سروس بکوانے پر طے شدہ کمیشن لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ عملی جدو جہد کے ساتھ ساتھ مالی اخراجات کر کے یہ سب کام کر رہا ہوتا ہے لہٰذا یہ ایک قابلِ اجرت کام ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ طے شدہ کمیشن، مارکیٹ میں رائج کمیشن سے زائد نہ ہو۔

واضح رہے کہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر تشہیر کرتے ہوئے تشہیری پکچرز یا ویڈیوز میں کسی قسم کی خلاف ِشرع چیز ہرگز نہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں کمیشن پر کام کرنے والوں کو ” سماسرۃ “ کہا جاتاتھا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں ”معشر التجار“ یعنی ’’تاجروں کے گروہ‘‘ کے لقب سے نوازا۔ چنانچہ حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”كنا في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نسمى السماسرة فمر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو أحسن منه، فقال: «يا معشر التجار، إن البيع يحضره اللغو والحلف، فشوبوه بالصدقة» “ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں ہمیں سوداگر کہا جاتا تھا، ہمارے پاس سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم گزرے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیں اس سے بہتر نام سے پکارا اور فرمایا: اے تاجروں کے گروہ! تجارت میں فضول باتیں اور جھوٹی قسمیں آجاتی ہیں لہٰذا اسے خیرات سے ملادو۔(سنن ابی داؤد،ج03،ص242،مطبوعہ بیروت)

یہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد علامہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”السمسار اسم لمن یعمل للغیر بالاجر بیعا وشراء، ومقصوده من ايراد الحدیث بيان جواز ذلك“ یعنی: سمسار، اس شخص کو کہتے ہیں جو خرید و فروخت کروانے کے لیے اجرت کے بدلے کسی دوسرے کے لیے کام کرتا ہے، اس حدیث پاک کو ذکر کرنے سے مقصود اس کے جواز کو بیان کرنا ہے۔(المبسوط للسرخسی،ج15،ص115،مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

کمیشن کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃ السمسار فقال ارجو ان لاباس بہ“ یعنی: امام محمد بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ سے کمیشن ایجنٹ کی اجرت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ردالمحتار،ج9،ص107،مطبوعہ پشاور)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے۔۔۔ اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوادوش میں اپنا زمانہ صَرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام،اتنی سعی پرجو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا، اگرچہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجرمثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوطِ زیادت پر خود راضی ہوچکا۔“(فتاویٰ رضویہ،ج19،ص453،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-185

تاریخ اجرا: 17رمضان المبارک1445ھ28مارچ2024ء