دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بروکر ہے جو طے شدہ اجرت پر لوگوں کے گھر بکواتا ہے۔ اسے ایک شخص نے کہا ہے کہ میرا گھر بکوا دو، آپ کو اس کا کمیشن دوں گا۔ اس گھر کی ویلیو ایک کروڑ ہے ، اس گھر کو خریدنے کے لئے بروکر کے پاس ایک پارٹی ہے، وہ یہ کہہ رہی ہے کہ وہ ایک کروڑ میں اس بروکر کے ذریعے گھر خریدنے کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس بروکر کو جو کمیشن گھر کے مالک کی طرف سے ملے گا، اس میں سے آدھا کمیشن اس بروکر کو گھر خریدنے والی پارٹی کو دینا پڑےگا۔
سوال یہ ہے کہ اس پارٹی کا بروکر سے اس طرح کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ اوراگر بروکر اس پر راضی ہوجاتا ہے تواس بروکر کا اس پارٹی سے یہ ڈیل کرنا اور اسے ملنے والا آدھا کمیشن دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بروکر جب کسی چیز کو بکوانے میں محنت وبھاگ دوڑ کرے اوراس چیز کو بکوا دے تو وہ اجرتِ مثل کامستحق ہوتا ہے اور چونکہ پوچھی گئی صورت میں بروکر، سیلر کی طرف سے بروکری کر رہا ہے اور اس کا گھر بکوا رہا ہے تو اس صورت میں بروکر کو سیلر کی طرف سے جو اُجرت ملے گی یہ اس بروکر کا حق ہے ، اس رقم میں دوسرے کسی شخص کا کوئی حق نہیں۔
بیان کردہ صورت پر رشوت کی تعریف صادق آ رہی ہے کیونکہ کام نکلوانے اور اپنا مفاد حاصل کرنے کےلیے جو رقم دی جائے ، وہ رشوت کہلاتی ہے ۔ یہاں اس بروکر پر آدھی بروکری خریدار کو دینے کے لزوم کا کوئی شرعی سبب نہیں پایا جا رہا۔ بروکر محض اسی لیے خریدار کو رقم ادا کرے گا کہ خریدار اس بروکر کے ذریعے ہی گھر خریدے اور بروکر کا کام بن جائے ، اسے بروکری مل جائے۔ رشوت ہونے کی وجہ سے بروکر اور خریدار، دونوں پر لازم ہے کہ اس طریقہ کو اپنا کر ہرگز ڈیل نہ کریں۔
یہاں مطلوبہ رقم کا حصول جائز طریقے سے یوں ہو سکتا ہے کہ بروکر چونکہ اپنی آدھی بروکری دینے پر راضی ہے تو وہ اس طرح کرے کہ جب سودا طے ہو جائے تو اس کے بعد بروکر، مکان فروخت کرنے والے کو کہے کہ میں اپنی آدھی بروکری مثلاً 50 ہزار روپے آپ کو اس شرط پر چھوڑ سکتا ہوں کہ آپ 50 ہزار روپے اصل قیمت سے کم کردیں ۔ یوں فروخت کرنے والا اپنے مکان کی قیمت 50 ہزار کم کر دے اوربروکر کو اس سے جو بروکری لینی تھی وہ 50 ہزار کم کر دے۔جب مکان کی قیمت 50 ہزار کم ہو جائے گی تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خریدار کو 50 ہزار کا جو فائدہ بروکر سے چاہیے تھا وہ مکان کی قیمت میں کمی کی صورت میں اسے مل جائے گا۔
بروکر کواس کے کام کی جو اُجرت ملے گی وہ اسی کا حق ہےچنانچہ فتاوی قاضی خان میں ہے:
’’ان کان الدلال عرض و تعنی و ذھب فی ذلک روزکارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ و عملہ‘‘
یعنی اگر روزگار کے سلسلہ میں بروکر نے محنت کی اور آیا گیا تو اس بروکر کے لیے اس کی محنت اور عمل کے مطابق اجرت مثل ہوگی۔(فتاوی قاضی خان،جلد2،صفحه229،مطبوعہ بیروت، ملتقطا)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”(بروکرنے) اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوا دوش میں اپنا زمانہ صَرف کیا ،تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا،یعنی ایسے کام ، اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے۔“(فتاوی رضویہ،جلد19،صفحه453،رضا فاؤنڈیشن لاھور)
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ، رشوت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”الرشوۃ بالکسر:ما یعطیہ الشخص الحاکم وغیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید“
یعنی:رشوت کسرہ کے ساتھ اس چیز کا نام ہے ، جوآدمی حاکم یا اس کے غیر کو دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کردے یا رشوت دینے والے کے مقصود کام کرنے پر ابھارے ۔(رد المحتار،جلد5،صفحہ362،مطبوعہ بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے، کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے رشوت ہے ، یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے، رشوت ہے ۔“(فتاوی رضویہ،جلد23،صفحه597،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”رشوت کے معنی اپنے مفاد کے لئے یا کسی کی حق تلفی کے لئے رقم دے کر وہ کام کرنا ہے۔“(وقار الفتاوی،جلد3،صفحہ314،مطبوعہ بزم وقار الدین کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر :IEC-460
تاریخ اجراء :01شعبان المعظم1446ھ/31جنوری 2025ء