کھلا آئل کمپنی کی پیکنگ میں ڈال کر بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کھلا آئل ،کمپنی کی پیکنگ میں ڈال کر بیچنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک آئل شاپ میں ملازمت کرتا ہوں جہاں عموماً کھلا آئل فروخت کیا جاتا ہے۔ چند دن قبل ہمارے سیٹھ نے یہ طریقہ شروع کیا ہے کہ کھلے آئل کو مختلف کمپنیوں کے ڈبوں میں ڈال کر اسے کمپنی کے اصلی آئل کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ خریدار یہ سمجھ کر خریدتے ہیں کہ یہ کمپنی کا اصلی آئل ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور ہماری طرف سے بھی خریدار کو یہ وضاحت نہیں کی جاتی کہ یہ آئل کمپنی کا نہیں بلکہ کھلا آئل ہے۔کیا شریعتِ مطہرہ اس طرح کاروبارکرنے کی اجازت دیتی ہے؟ نیز ایسی جگہ ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے سیٹھ کا کھلے آئل کو مختلف کمپنیوں کے ڈبوں میں بھر کر کمپنی کے اصل آئل کے نام سے فروخت کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ اس میں متعدد شرعی قباحتیں پائی جارہی ہیں؛ جیسے خریدار سے مال کے عیب کو چھپانا ،دھوکہ دیناوغیرہ اور یہ تمام امور شریعت میں سخت ناجائز، حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔اس گناہ کے کام میں معاونت جائز نہیں۔ لہٰذا آپ اس کام میں ہرگز معاونت نہ کریں اور اس کام میں معاونت نہ کرنے کی وجہ سے اگر مالک نوکری پر نہ رکھے تو کسی اور جگہ نوکری کریں۔
دھوکہ دہی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من غش فلیس منی“ ترجمہ : جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ دار الطباعۃ العامرۃ، ترکیا)
غش کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ حسين بن محمود بن حسن شیرازی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”ستر حال شیء على أحد؛ يعنی:إظهار شیء على خلاف ما يكون ذلك الشیء فی الباطن“ ترجمہ: (غش کا معنی ہے )شے کی حالت کسی سے چھپانا، یعنی کسی شے کو اس کے خلاف ظاہر کرناجواس شے کی حقیقت ہے۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح،جلد 3، صفحہ 438،دار النوادر)
ناجائز کام کرنے کی ملازمت کے بارے میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ”ملازمت جس میں سود کا لین دین ،اس کا لکھنا پڑھنا تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو ایسی ملازمت خود حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کا حساب لکھنا ، یا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔ قال تعالی ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔“(فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 522، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-737
تاریخ اجرا: 25جمادی الاولٰی1447ھ / 17 نومبر 2025ء