logo logo
AI Search

ادھار پر مال خریدنے کی ایک ناجائز صورت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ادھار مال خریدنے کے ذریعے شرکت کا ایک ناجائز طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اپنے جاننے والے دکاندار سے ادھار پر پرفیوم خریدوں گا، اور اس پرفیوم کا نفع و نقصان بھی میرا ہی ہوگا۔ ادھار پر پرفیوم خریدنے کے بعد ان پرفیوم کا دوکاندار سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔البتہ ادھار قیمت طے کرنے کا طریقہ دو حصوں پر مشتمل ہوگا:

پہلا حصہ:جس قیمت پر وہ پرفیوم دوکاندار کو پڑا ہے، اس پر مارکیٹ سے کم نفع رکھ کر مجھے دے گا۔ مثال کے طور پر اگر وہ پرفیوم دکاندار کو ایک لاکھ کا پڑا ہے تو وہ مجھے ایک لاکھ پانچ ہزار میں دے گا حالانکہ اس کی مارکیٹ پرائس ایک لاکھ پچیس ہزار بنتی ہے ۔

دوسرا حصہ: میں آگے جس ریٹ پر وہ پرفیوم بیچوں گا، اس کے آدھے نفع کو بھی ثمن میں شامل کیا جائے گا۔ یعنی جب پرفیوم بک جائے گا تو دوکاندار کو قیمت ِخرید پلس پروفٹ اور میں نے جس ریٹ پر بیچا اس کاآدھا نفع بھی دینا ہوگا۔تو کیا اس طرح ادھار پر پرفیوم خریدنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

سوال میں بیان کیا گیا طریقہ کار نہ تو پارٹنرشپ کے اصولوں کے مطابق ہے اور نہ ہی خریدو فروخت کے، لہٰذا اس طرح کام کرنا شرعاً جائز نہیں۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس طریقہ کار کو خرید وفروخت کے طور پر مانیں تو خرید و فروخت میں ثمن کا اس طرح معلوم ہونا ضروری ہے کہ عاقدین کے درمیان جھگڑا پیدا نہ ہو۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں پرفیوم کا ثمن مجہول ہے ، کیونکہ آگے جس ریٹ پر آپ بیچیں گے، اس کا ہونے والا آدھا نفع کتنا ہوگا؟ یہ مجہول ہے، اور ثمن کا مجہول ہونا بیع کو فاسد کر دیتا ہے۔ لہٰذا آپ کا یوں ادھار سامان خریدنا ،جائز نہیں۔اور اگراس طریقہ کار کو مضاربت مانیں تو مضاربت کی بنیادی شرائط میں سے راس المال کا نقدی ہو نا ضروری ہے ورنہ مضاربت فاسد ہو جاتی ہے اور چونکہ پوچھی گئی صورت میں راس المال نقد نہیں بلکہ سامان یعنی پرفیوم ہیں، لہذا یہ مضاربت فاسد ہو گی۔

ثمن کی جہالت جوازِ عقد کو مانع ہے چنانچہ اس کے متعلق شرح زیادت میں ہے: ”جهالة المبيع أو الثمن تمنع جواز العقد؛ لمكان الإفضاء إلى المنازعة“ ترجمہ:مبیع اور ثمن کی جہالت عقد کے جائز ہونے سے مانع ہے کیونکہ یہ جھگڑے کی طرف لے جانے والی ہوتی ہے۔(شرح الزیادات، جلد03، صفحہ999، مطبوعہ بیروت)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: ”فإن الجهل بالثمن مؤد إلى النزاع فإذا كان الثمن مجهولا فالبيع فاسد …. إذا قال إنسان لآخر: بعتك هذا المال برأس ماله أو بقيمته الحقيقية أو بالقيمة التي يقدرها المخمنون أو بالثمن الذي شرى به فلان فإذا لم تقدر القيمة ويعين ثمن المبيع في المجلس فالبيع فاسد“ ترجمہ:ثمن کی جہالت نزاع کی جانب لے جاتی ہے، لہٰذا جب ثمن مجہول ہو تو بیع فاسد ہوتی ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے: میں نے یہ مال تمہیں اس کے رأس المال پر بیچا ، یا اس کی حقیقی قیمت پر بیچا یا اس قیمت پر جو ماہرینِ تخمینہ لگائیں گے یا اُس قیمت پر بیچا جس پر فلاں نے خریدا تھا تو جب تک قیمت طے کرکے ثمنِ مبیع کو مجلسِ عقد ہی میں متعین نہ کر لیا جائے، بیع فاسد ہو گی۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، جلد01، صفحہ 218، مطبوعہ دار عالم الکتب ریاض،ملتقطاً)

بہار شریعت میں ہے:’’مبیع وثمن دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع(جھگڑا)پیدا نہ ہوسکے، اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہو سکتی ہو ،تو بیع صحیح نہیں، مثلاً:اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچی یا اس چیز کو واجبی دام پر بیچا یا اس قیمت پر بیچا جو فلاں شخص بتائے۔(بہارِشریعت،جلد2،صفحہ 617،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

مالِ مضاربت کا نقدی ہونا ضروری ہے،سامان میں مضاربت صحیح نہیں جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے: ”( منها ) أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء فلا تجوز المضاربة بالعروض“ ترجمہ: یعنی مضاربت کی شرائط میں سے ایک شرط راس المال کا اَز قبیلِ دراہم و دنانیر ہونا ہے عامۃ العلماء کے نزدیک لہٰذا سامان کے ذریعے مضاربت جائز نہیں۔(بدائع الصنائع،جلد6،صفحہ82، مطبوعہ دار الكتب العلمية،بیروت)

کمال الدرایہ میں ہے: ”فإن قال خذ عبدی هذا أو عروضی هذا مضاربة بالنصف على أن رأس مالی قيمته فالمضاربة فاسدة“ یعنی:اگر کہا کہ میرا یہ غلام لو یایہ سامان لو آدھے نفع کے بدلے مضاربت پر۔ اس شرط پر کہ میرا راس المال اس کی قیمت ہوگی ، تواس صورت میں مضاربت فاسد ہے۔ (کمال الدرایۃ، جلد 8، صفحہ321، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بہارِ شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مضاربت کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”راس المال ازقبیل ثمن ہو، عروض کے قسم سے ہوتو مضاربت صحیح نہیں۔“ (بہارِ شریعت،جلد3،صفحہ1،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جائز صورت:

اس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ آپ وہ پرفیوم دکاندار سے ایک معینہ رقم کے بدلے مقرر ہ مدت کے ادھار پرخرید لیں مثال کے طور پر وہ پرفیوم کا مال پانچ لاکھ کا دکاندار کو پڑا ہے تو آپ مثلاً ساڑھے پانچ لاکھ میں ایک ماہ یا طے شدہ مدت کے ادھار پر خرید لیں تو اس طرح ادھار پر خرید وفروخت کرنا، جائز ہوگا،جبکہ بیع کی دیگر شرائط کی رعایت رکھی گئی ہو۔دکاندار کو صرف مال کی قیمت ادا کریں، آپ کو نفع ہو یا نقصان اس کا دکاندار سے کوئی تعلق نہ ہو ۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: IEC-742

تاریخ اجرا: 06جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28 نومبر 2025ء