دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیرونِ ملک میں ایک شخص کار واش کا کام کرتا ہے۔ اس نے مجھے آفر دی ہے کہ میں اس کی طرف سے تشہیر کرکے آرڈر لوں، اور اسے بتادوں کہ کہاں سے کار واش کا آرڈر آیا ہے؟ پھر وہ کار واش کرکے پیمنٹ وصول کرلے گا اور مجھے20% دے گا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں اُس شخص کے ساتھ مل کر یہ کام کرسکتا ہوں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
کوئی سودا کروانے کے لئے بروکر مقرر کرنا اور اس سے معاوضہ طے کرنا، جائز امر ہے البتہ اس میں دو چیزیں بہت اہم ہیں:
ایک یہ کہ بروکر زبانی جمع خرچ سے کام نہ لے بلکہ گاہک کو لانے کے لئے محنت و کوشش ہر مرتبہ شامل ہو۔
دوسری اہم چیز یہ ہے کہ جو معاوضہ اور کمیشن طے ہو، وہ مارکیٹ میں رائج اجرت سے زیادہ نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ کار واش کرنے والے شخص کے لیے گاہک تلاش کریں، اور اس کے بدلے وہ آپ کو 20 فیصد کمیشن دے گا، تو یہ عمل شرعاً جائز ہےبشرطیکہ 20 فیصد کمیشن یا تو مارکیٹ میں رائج ہو یا مارکیٹ میں رائج کمیشن سے کم ہو۔اور اگر یہ مارکیٹ میں رائج کمیشن سے زیادہ ہو تو اس صورت میں آپ کو اس کام کی اجرتِ مثل ملے گی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”وفی الواقعات للناطفی إذا قال لرجل بع هذا المتاع ولك درهم أو قال اشتر لی هذا المتاع ولك درهم ففعل فله أجر مثله لا يجاوز به الدرهم وفی الدلال والسمسار يجب أجر المثل“
یعنی واقعات ناطفی میں ہے جب کسی سے کہا کہ یہ سامان بیچو تو تمہیں ایک درہم ملے گا یا کہا کہ یہ سامان خریدو تو ایک درہم تمہارا۔ پھر اس نے وہ کام کر لیا تو اسے اجرتِ مثل ملے گی جو درہم سے زائد نہ ہو اور بروکر اور کمیشن ایجنٹ کو اجرتِ مثل ہی ملتی ہے۔(فتاوی ہندیہ، جلد 4، صفحہ 450، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:”اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صَرف کیا تو صرف اجرِ مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام، اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجرِ مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوطِ زیادت پر خود راضی ہوچکا۔“(فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 453، مطبوعہ رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر :IEC-678
تاریخ اجراء :11صفرالمظفر1447ھ/06اگست2025ء