عورتوں کے لیے سونے یا چاندی کے فریم والی عینک بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عورتوں کی بناوٹ والی سونے چاندی کی عینک بیچنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک سوسائٹی میں عینکوں کی دوکان ہے۔ بعض اوقات لوگ سونے یا چاندی کے فریم والی عینک بنانے کا آرڈر دیتے ہیں ۔ مردو ں کے لئے سونے چاندی کی عینک کے ناجائز ہونے کاتو ہمیں علم ہے،لہذ اہم مردوں کے لئے ایسی عینک نہیں بناتے۔ آپ یہ راہنمائی فرما دیں کہ کیا عورتوں کے پہننے کےلئے سونےیا چاندی کی عینک بیچ سکتے ہیں ؟سائل:محمد افتخار(چونگی امرسدھو،لاہور)
جواب
عورتوں کےپہننے کےلئے بھی سونے چاندی(Gold/Silver) کی عینک(Glasses) بیچنا جائز نہیں ہے ۔
تفصیل اس مسئلہ کی کچھ یوں ہے کہ عورتوں کے لیے سونا چاندی میں صرف” تحلی“ یعنی بطورِ زیور استعمال کرناجائز ہے ، زیور کے علاوہ کسی اور طرح سے سونا چاندی کااستعمال عورتوں کے لئے بھی حرام ہے۔ اور عینک کو دیکھنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتاہے،جو زیور کے علاوہ سونے کا استعمال ہےاور یہ ناجائز ہے۔اس مسئلے کی نظیر"آرسی" (انگوٹھی کی شکل کا زیور، جس پر آئینہ لگا ہوتا ہے) کا مسئلہ ہے کہ آرسی انگوٹھی پہننا اگرچہ بطورِ زیور عورت کے لیے جائز ہے، لیکن اگر وہ اسے منہ دیکھنے کے لیے استعمال کرے ،تو یہ ناجائز ہوگا؛ کیونکہ یہ سونا ، چاندی کا غیرِ زیور میں استعمال ہے۔ جبکہ عینک میں تو تقریباً یہ محال ہے کہ عینک لگائی جائے اور اس سےدیکھنے کاکام نہ لیا جائے،توجب آرسی میں محض منہ دیکھنے جیسا وقتی اور عارضی استعمال بھی ناجائز ہے ، توسونے چاندی کی عینک کہ جس کااستعمال ہوتا ہی”دیکھنے“کے لئے ہے، بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوگی ۔
لہذاجب یہ ثابت ہوگیا کہ سونے چاندی کی عینک پہننا ناجائزہے، توپہننے کے لئےاس کا بنانااور بیچنا بھی ناجائزوگناہ ہے؛کیونکہ انہیں بنانے اور بیچنے میں ناجائزوگناہ کے کام پر مدد کرنا پایا جاتا ہے اورشرعی طور پرناجائزکام پرمددکرنابھی ناجائزہے۔
سونے چاندی کا ”غیر تحلی“ میں استعمال عورتوں کے لیے بھی حرام ہے:
عورت کے لئے سونا چاندی کا استعمال صرف بطورِ زیور جائز ہے۔چنانچہ سننِ ابن ماجہ میں ہے: ’’اخذ رسول اللہ صلى اللہ عليه وآلہ وسلم حريرا بشماله وذهبا بيمينه، ثم رفع بهما يديه، فقال:ان هذين حرام على ذكور امتی،حل لاناثهم‘‘ ترجمہ:حضور اکرم صلى اللہ عليه وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشم پکڑ کر ہاتھ بلند کر کے فرمایا:یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔(سنن ابن ماجۃ،ج2، ص 1189، مطبوعہ، دار احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)
جبکہ زیور کے علاوہ سونا چاندی کے استعمال کے بارے رسول اکرم صلى اللہ عليه وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم، متفق عليه، وفي رواية لمسلم:إن الذي يأكل ويشرب في آنية الفضة والذهب “ ترجمہ: جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کھولاتا ہے، یہ متفق علیہ روایت ہے اور مسلم شریف کی روایت میں یوں ہے کہ جو چاندی سونے کے برتن میں کھاتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح ، کتاب الاطعمۃ ، باب الاشربۃ ، ج02،ص1231، المكتب الإسلامي ، بيروت)
فتح الباری میں ان احادیث پر کلام کرتے ہوئےفرمایا: ”في هذه الأحاديث تحريم الأكل والشرب في آنية الذهب والفضة على كل مكلف رجلا كان أو امرأة، ولا يلتحق ذلك بالحلي للنساء ؛لأنه ليس من التزين الذي أبيح لها في شيء، قال القرطبي وغيره: في الحديث تحريم استعمال أواني الذهب والفضة في الأكل والشرب، ويلحق بهما ما في معناهما، مثل التطيب والتكحل، وسائر وجوه الاستعمالات “ ترجمہ:ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر مکلف پر چاہے مرد ہو یاعورت ،سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا اور پینا حرام ہے اور یہ حرمت عورتوں کے حق میں زینت اختیار کرنے سے لاحق نہیں ہوگی ؛ کیونکہ یہ(سونے چاندی کے برتن میں کھاناپینا) اس تزین میں سے نہیں کہ جو عورتوں کے لیے جائز ہو ۔ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں حدیث میں سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا اورپینا حرام قراردیا گیا ہے اور ان دونوں کے ساتھ حرام ہونے میں وہ چیزیں بھی لاحق ہوں گی ،جو ان کے معنی میں ہیں جیسا کہ خوشبو لگانا، سرمہ لگانا اور ان کے علاوہ بقیہ تمام طرح کے استعمالات(بھی حرام ہونگے۔)(فتح الباری ، کتاب الاشربۃ، جلد 10،صفحہ 97، المكتبة السلفية ،مصر)
سونے چاندی کاہر وہ استعمال جو غیر زیور میں ہو، مرد وعورت دونو ں کے لئےنا جائز ہے۔ تحفۃ الملوک میں ہے: ” استعمال الذهب والفضة، ويحرم الأكل والشرب والإدهان والتطيب في آنية الذهب والفضة للرجال والنساء، وكذا كل استعمال“ ترجمہ: سونے اور چاندی کا استعمال(حرام ہے)اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا، پینا ، تیل لگانا اور خوشبو لگانا مرد و عورت دونوں کے لیےحرام ہے اور اسی طرح ہر استعمال (حرام ہے۔)
منحۃ السلوک شرح تحفۃ الملوک میں اس عبارت ”كذا كل استعمال“ کے تحت ہے: ”وكذا يحرم كل استعمال: كالأكل بملعقة الفضة، والاكتحال بميلها أي بميل الفضة واتخاذ المكحلة، والمرآة، والأدوات من الفضة، وما أشبه ذلك من الاستعمال“ ترجمہ:اور اسی طرح ہر استعمال حرام ہے جیسا کہ چاندی کےچمچ سے کھانا اور چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا، سرمہ دانی ،شیشہ ،چاندی کے آلات و اوزار ،اور جو اس سے ملتے جلتے استعمال ہیں ( سب حرام ہیں ۔)(منحۃ السلوک شرح تحفۃ الملوک ،کتاب الکراھیۃ ، صفحہ 400 ، مطبوعہ،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، قطر)
سونے چاندی کا ایسا استعمال مرد وعورت دونو ں کے حق میں مکروہ ہےکہ جس کی منفعت جسم کی طرف لوٹتی ہو۔ بدائع الصنائع میں ہے: ” والأصل أن استعمال الذهب فيما يرجع إلى التزين مكروه في حق الرجل دون المرأة ۔۔۔ واستعماله فيما ترجع منفعته إلى البدن، مكروه في حق الرجل والمرأة جميعا، حتى يكره الأكل والشرب والأدهان والتطيب من مجامر الذهب للرجل والمرأة، لقول النبي عليه الصلاة والسلام :إن الذي يشرب من آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم ۔۔۔كذلك الاكتحال بمكحلة الذهب أو بميل من ذهب مكروه للرجل والمرأة جميعا؛ لأن منفعته عائدة إلى البدن، فأشبه الأكل والشرب “ ترجمہ: قاعد ہ یہ ہے کہ سونے کا ہر وہ استعمال کہ جس سے مقصود تزین ہو مردوں کے حق میں مکروہ وممنوع ہے نہ کہ عورت کے حق میں۔ جبکہ (سونےچاندی کا) ایسا استعمال مرد وعورت دونو ں کے حق میں مکروہ ہےکہ جس کی منفعت جسم کی طرف لوٹتی ہو ،حتی کہ کھانا ، پینا ، تیل لگانا اور سونے کی انگیٹھیوں سے خوشبو حاصل کرنا مرد و عورت دونوں کے لیے مکروہ ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ جو چاندی کے برتن سے پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں نارِ جہنم بھرتا ہے ۔یونہی سونے کی سرمہ دانی یا سلائی سے سرمہ آنکھ میں ڈالنا مردوعورت دونوں کے لئےمکروہ ہے ؛کیونکہ اس کا نفع بدن کی طرف لوٹ رہا ہے ،لہذا یہ کھانے اور پینے کے مشابہ ہو گیا ۔(بدائع الصنائع ، کتاب الاشربۃ ، جلد 05،صفحہ 132، دار الكتب العلمية،بیروت)
اسے مزیدتفصیل سے بیان کرتے ہوئے جد الممتار میں لکھا : ”أنّ المراد بالانتفاع مع بقاء عينه انتفاعاً يعود إلى البدن، أي: لا يقوم إلاّ به، أي: لا بدّ له من التعلّق بالبدن حال وقوعه وجوداً وبقاءً، بشرط أن لا يكون قليلاً تابعاً، فهذا كلّه حرامٌ في النقدين إلاّ ما تثبت الرخصة فيه شرعاً ۔۔۔ والرهن والارتهان والتجمّل وإن كان كلّ منها انتفاعاً مع بقاء العين، لكن لا بحيث لا يقوم إلاّ بالبدن بالمعنَى المذكور ،ففي التجمّل وإن احتيج إلى البدن حين الوضع والترتيب، لكن ذلك مقدّمة التجمّل، والتجمّل إنّما يحصل بعده، ولا تعلّق له، إذ ذلك بالبدن، والأخذ باليد للحفظ والذهاب به إلى موضع ليس من باب الانتفاع أصلاً، واتّخاذ الأنف من الذهب وإن اجتمعت فيه الأمور جميعاً، فقد وردت فيه رخصة شرعية، والقلم ينتفع به بالكتابة وكذا الدواة، فلا يقوم الانتفاع بهما إلاّ بالبدن، ولا رخصة فيحرم “ ترجمہ: انتفاع سے مراد ایسا نفع اٹھاناہے کہ جو عین کو باقی رکھنے کے ساتھ جسم کی طرف راجع ہو، یعنی جسم کے ساتھ قائم ہونے سے نفع ہوتا ہو یعنی وجوداً و بقاءً جب نفع واقع ہو تو اس کا تعلق جسم کے ساتھ ضرور ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نفع قلیل و تابع نہ ہو ، تو نفع اٹھانے کی یہ تمام صورتیں سونے چاندی میں حرام ہیں ماسوائے جس میں رخصت شرعی ثابت ہو ۔جبکہ رہن کے طورپر دینا لینا اور تجمّل و زینت کے طورپر(گھر وغیرہ میں سونے چاندی کی اشیاء) رکھنا، اگرچہ ان صورتوں میں سے ہر ایک میں عین کوہی باقی رہتے ہوئے نفع اٹھانا پایا جاتا ہے، لیکن یہ نفع اٹھانابیان کردہ معنی یعنی بدن کے ساتھ ہی قائم ہونے کی طرح نہیں ہے۔ یہ اس لئے کہ تجمّل و زینت کے طورپر (گھر وغیرہ میں سونے چاندی کی اشیاء) رکھنے اور ترتیب دینے میں اگرچہ جسم کی حاجت ہو تی ہے لیکن یہ تجمّل و زینت کا مقدمہ ہے ، جبکہ تجمّل و زینت تو اس کے بعد حاصل ہوتی ہے، جس کا جسم سے کوئی تعلق نہیں ،کیونکہ تجمّل و زینت توجسم کے ساتھ قائم ہونے سےحاصل ہوگی(جو کہ یہاں پائی نہیں گئی،لہذا جائز ہے ۔) اور حفاظت کے لیے (سونے چاندی کو ) ہاتھ میں پکڑنااور دوسری جگہ منتقل کرنا اصلاً حصول نفع کی قبیل سے نہیں ہے ۔اور سونے کی ناک بنوانے میں اگرچہ یہ تمام امور پائے جاتے ہیں، لیکن اس کےمتعلق رخصت شرعی وارد ہوچکی ہے (لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔) جبکہ قلم سے لکھنے کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے ،اسی طرح دوات ہے ،توان دونوں سے حاصل ہونے والے نفع کا تعلق جسم سے ہی ہے اور چونکہ ان میں رخصت شرعی وارد نہیں، لہذا ان کا استعمال حرام ہے ۔(جد الممتار ، کتا ب الحظر والاباحۃ ، جلد 07،صفحہ11 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:” عورتوں کو ان کے زیور پہننے کی اجازت ہے،زیور کے سِوا دوسری طرح سونے چاندی کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے۔“ (بھارِ شریعت ، ج3،ح 16، ص395،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)
آرسی میں منہ دیکھنا "غیر تحلی" میں استعمال ہونے کی وجہ سے عورتوں کے لئے بھی ناجائز ہے۔اعلی حضرت،الشاہ، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں:”آرسی پہننے میں عورت کے لئے کوئی حرج نہیں اور اس میں منہ دیکھنا حرام(؛کیونکہ)چاندی سونا صرف پہننا عورت کے لئے حلال ہے،باقی طرقِ استعمال اس کے لئے بھی حرام ہیں۔“ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص328،مطبوعہ،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’سونے چاندی کی آرسی پہننا عورت کے لیے جائز ہے، مگر اس آرسی میں مونھ دیکھنا عورت کے لیے بھی ناجائز ہے۔‘‘(بہارِ شریعت،ج3،ص395،مطبوعہ،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
گناہ کےکام پرمعاونت جائزنہیں ہے:
چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشادفرماتاہے: ﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ کنز الایمان:”نیکی اورپرہیزگاری پرایک دوسرے کی مددکرواورگناہ اورزیادتی پرباہم مددنہ کرو۔ “(القرآن الکریم ،پارہ6،سورۃ المائدۃ،آیت:2)
اس آیت کے تحت امام ابو بکر احمد الجصاص رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ” نهي عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالى“ ترجمہ: آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی نافرمانی والے کاموں میں دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 429، مطبوعہ کراچی)
ناجائز کام پر مدد کرنے والی چیزیں بنانے اور فروخت کرنے کے ناجائز ہونے کے بارے میں در مختار میں ہے: ”فاذا ثبت کراھۃ لبسھا للتختم، ثبت کراھۃ بیعھا وصیغھا، لما فیہ من الاعانۃ علی ما لایجوز، و کل ماأدی الی ما لا یجوز، لا یجوز“ ترجمہ: جب ان (مرد کے لیے سونے ،پیتل اور تانبےکی) چیزوں کی انگوٹھیاں پہننے کی ممانعت ثابت ہوگئی، تو اس کے بیچنے اور بنانے کی کراہت بھی ثابت ہوگئی؛ کیونکہ اس میں ناجائز کام پر مدد کرنا ہے اور ہر وہ کام جو ناجائز کام کی طرف لے جائے، وہ بھی ناجائز ہوتا ہے۔(در مختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،جلد 9، صفحہ595، مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0203
تاریخ اجرا: 19ربیع الاول1447 ھ/13ستمبر2025ء