logo logo
AI Search

عصر کے بعد وتر کی قضا یا منت کی نماز ادا کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عصر کے بعد وتر کی قضا یا منت کی نماز پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیاعصر کی نماز کے بعد کوئی واجب نماز پڑھ سکتے ہیں جیسے منت یا قضاوتر؟

جواب

عصر کی نماز پڑھنے کے بعد مکروہ وقت (آخری بیس منٹ) شروع ہونے سے پہلے وتر کی قضا پڑھ سکتے ہیں البتہ منت کی نماز نہیں پڑھ سکتے۔

درمختار میں ہے:

” (وکرہ نفل) قصداً (وکل ما کان واجباً لغیرہ کمنذور ورکعتی طواف والذی شرع فیہ ثم افسد بعد صلاۃ فجر وعصر، لا) یکرہ (قضاء فائتۃ و) لو وتراً او (سجدۃ تلاوۃ وصلاۃ جنازۃ، وکذا) الحکم من کراھۃ نفل و واجب لغیرہ لا فرض وواجب لعینہ (بعد طلوع فجر سوی سنتہ)“

یعنی: بعد فجر و عصر قصداً نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، یونہی ہر وہ نماز جو واجب لغیرہٖ ہو، جیسے منت، طواف کی دو رکعات اور ایسی نفل نماز جسے شروع کر کے فاسد کر دیا ہو۔ البتہ طلوعِ فجر کے بعد سنتِ فجر، یونہی فوت شدہ نمازوں کی قضا مکروہ نہیں، اگرچہ وتر ہو یا سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ۔ کراہت کا یہ حکم نوافل اور واجب لغیرہٖ میں ہے، نہ کہ فرض اور واجب لعینہٖ میں۔ (الدرالمختار مع رد المحتار ملتقطاً ، ج 2، ص 44، 45،دار عالم الکتب)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

”ويكره التنفل بعد طلوع الفجراي قصدا، ومثل النافلة فی هذا الحكم الواجب لغيره كالمنذور وركعتی الطواف وقضاء نفل افسده، اما الواجب لعينه فلا كراهة فيه“

یعنی طلوعِ فجر کے بعد قصداً نوافل شروع کرنا، مکروہ ہے اور اس حکم میں واجب لغیرہٖ بھی نفل کی مثل ہے، جیسے منت، طواف کی دو رکعات اور نفل کی قضا، جسے فاسد کر دیا تھا، بہرحال جو واجب لعینہٖ ہو، اس کی ادائیگی میں کوئی کراہت نہیں۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 188، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2391

تاریخ اجرا: 20صفرالمظفر1447ھ/15اگست2025ء