logo logo
AI Search

دوسری رکعت کی التحیات میں غلطی سے درود شروع کرلینا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دو سے زائد رکعت والی نماز میں دو سری رکعت میں التحیات کے بعد درود پاک پڑھنے لگ جائے، پھر یاد آنے پر کھڑا ہوجائے، تو اس نماز کا کیا حکم ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی دو سے زیادہ رکعت والی نماز میں دوسری رکعت میں درود شریف پڑھنا شروع کر دے، لیکن یاد آنے پر فوراً رُک جائے اور کھڑا ہو جائے، تو اب اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

ایک سلام سے دو سے زائد رکعت والی نماز اگر فرض، واجب جیسے وتر یا سنت مؤکدہ جیسے ظہر کی پہلی چار سنتیں ہو تو ان نمازوں کے پہلے قعدہ میں التحیات کے فوراً بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے جبکہ درود پاک پڑھنے سے اس میں تاخیر ہوگی، لہٰذا اگر کسی نے بھولے سے درود پاک پڑھ لیا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا اور اگر جان بوجھ کر پڑھا تو نماز کا اعادہ واجب ہوگا، ہاں اگر صرف اللّٰھم صل علی تک پڑھا تھا اور یاد آگیا، پھر مزید پڑھے بغیر فوراً کھڑے ہوگئے تو سجدہ سہو یا اعادہ کچھ واجب نہیں۔

اور اگر وہ نماز نفل یا سنت غیر مؤکدہ یعنی عصر یا عشاء کی پہلی چار سنتیں ہوں تو ان نمازوں کے پہلے قعدہ میں التحیات کے بعد دُرود و دُعا پڑھنی چاہئے، اور اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو۔

بہار شریعت میں واجبات نماز کے بیان میں ہے: فرض و وتر و سنن رواتب (یعنی سنت مؤکدہ) میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا (واجب ہے)۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 518،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے: جو سنت مؤکدہ چار رکعتی ہے اس کے قعدۂ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھے، اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے۔۔۔ اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 667، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں مزید ہے: قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں سجدہ واجب بتایا؟ عرض کی: اس ليے کہ اس نے بھول کر پڑھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے تحسین فرمائی۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 713، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2319
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃالحرام 1446ھ / 17 جون 2025ء