logo logo
AI Search

ایک مسجد میں دو جمعہ کروانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک مسجد میں دو جمعہ کروانے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کچھ مساجد میں جمعہ کی دو جماعتیں قائم ہو رہی ہیں، جس کے لیے دونوں جماعتوں کے وقت میں کافی فرق رکھا جاتا ہے، یونہی دونوں جماعتوں کے امام بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن علاقوں میں آبادی بہت زیادہ ہو، لیکن جامع مسجد ایک ہو اور باقی مساجد بہت دور ہوں اور آبادی کی کثرت کی وجہ سے سب لوگ وہاں ایک وقت میں جمعہ ادا نہ کر سکتے ہوں یا پھر وہ ناقابلِ امامت شخص کے پیچھے جمعہ پڑھنے چلے جاتے ہوں، تو کیا ایسی صورت میں ایک ہی مسجد میں وقفے وقفے سے دو جمعے قائم کیے جا سکتے ہیں کہ جیسے ایک جمعہ ایک بجے اور دوسرا تین بجے رکھا جائے تاکہ سب لوگ صحیح العقیدہ امام کے پیچھے جمعہ پڑھیں؟

جواب

کسی صحیح ضرورت کے بغیر ایک مسجد میں دو مرتبہ جمعہ کی نماز قائم کرنا، ناجائز ہے، جیسے عام مسلمان جمعہ کی نماز ادا کرچکے ہوں، اب باقی رہ جانے والے کچھ لوگ نیا جمعہ قائم کرلیں، یہ ناجائز ہے کیونکہ جب کسی مسجد میں جمعہ کے لیے مقرر امام مقررہ وقت میں نمازِ جمعہ پڑھا دے، تو وہاں کے عام مسلمانوں کی ضرورتِ جمعہ پوری ہو جاتی ہے اور امام عام لوگوں کی ضرورت ہی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے اور مسجد میں مقررہ وقت پر جمعہ ادا ہو جانے کے بعد کوئی دوسرا شخص امام کا نائب نہیں بن سکتا۔ لہٰذا سستی و غفلت کی وجہ سے جمعہ سے رہ جانے والے بعض افراد کے لیے دوسرا جمعہ قائم کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ انہیں دوسری مسجد وغیرہ میں جا کر جامعِ شرائط امام کے پیچھے جمعہ ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی ایک مسجد میں واقعی دو جمعے قائم کرنے کی صحیح ضرورت ہو، جیسا کہ سوال میں بیان کی گئی صورت میں جہاں آبادی بہت ہو اور وہاں ایک ہی جامع مسجد ہونے یا دوسری مساجد کے بھی نماز جمعہ میں بھر جانے کی وجہ سے تمام مسلمان ایک وقت میں جمعہ ادا نہ کر سکتے ہوں اور کثیر لوگوں کا جمعہ خطرے میں پڑ جاتا ہو، جیسے ماہِ رمضان میں کئی بڑے شہروں میں بعض جگہوں پر ایسا ہوتا ہے اور غیر مسلم ممالک میں مساجد کی قلت کی وجہ سے بھی ایسا ہونا مشاہدے میں ہے تو فقہی اعتبار سے ایسی ضرورت کی صورت میں ان شرائط کے ساتھ ایک مسجد میں دو جمعوں کی اجازت ہے کہ مسجد کمیٹی دونوں جماعتوں کے لیے الگ الگ امام مقرر کرے اور ایک ہی امام دو جمعے نہ پڑھائے، کیونکہ جب امام پہلا جمعہ ادا کر چکا، تو اس کا فرض ادا ہو گیا، اب دوسرا جمعہ اس کے حق میں نفل ہو گا اور نفل پڑھنے والا فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا، لہٰذا دونوں جماعتوں کے امام الگ مقرر کیے جائیں اور وہ دونوں الگ الگ جمعہ پڑھائیں۔

جمعہ کون پڑھا سکتا ہے، اس کے متعلق تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے:

(یشترط لصحتھا السلطان او مامورة باقامتھا او القاضی المأذون لہ فی ذلک و نصب العامة غیر معتبر مع وجود من ذکر، امامع عدمھم فیجوز) للضرورة، ملخصا

ترجمہ: جمعہ درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ بادشاہِ اسلام یا اس کا اجازت یافتہ شخص یا وہ قاضی جسے جمعہ قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہو، جمعہ پڑھائے اور ان ذکر کیے گئے افراد کے ہوتے ہوئے عام لوگوں کا کسی کو جمعہ کا امام مقرر کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بہر حال جب یہ افراد موجود نہ ہوں، تو ضرورت کی وجہ سے (عام لوگوں کا کسی کو جمعہ کا امام مقرر کرنا) جائز ہے۔ (رد المحتار عی الدر المختار، ج 3، ص 6 ۔ 16، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ جمعہ کے دن چند آدمیوں نے مل کر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی، بعدہ اور دس بارہ آدمی آگئے، انہوں نے بھی اذان و اقامت خطبہ کے ساتھ اسی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی، پھر دس بارہ آدمی آگئے، انہوں نے بھی ایسا کیا، تو دوسری تیسری جماعت والوں کا جمعہ ادا ہو لیا یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : نمازِ جمعہ و عیدین مثل عام نمازوں کے نہیں کہ جسے امام کردیا، نماز ہو گئی، ان کے لئے ضرور ہے کہ امام خود سلطانِ اسلام ہو یا اس کا مقرر کردہ اور یہ نہ ہوں، تو بضرورت وہاں کے عام مسلمانوں نے جسے امامتِ جمعہ کے لیے معیّن و مقرر کیا ہو، تو ان تینوں جماعتوں میں جس کا امام، امامِ معیّن ومقرر کردہ جمعہ تھا، اس کی اور اس کے مقتدیوں کی نماز ہوگئی، باقیوں کی نہیں اور اگر کسی کا امام ایسا نہ تھا، تو کسی کی نہ ہوئی۔ مثلاً سَرِ راہ مسجد ہے، دس بارہ راہگیر گزرے، ایک نے آگے ہو کر نمازِ جمعہ پڑھائی، پھر کچھ اور آئے، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا، یوں ہی دس بیس جماعتیں ہوئیں، جمعہ ایک کا بھی نہ ہوا اور فرضِ ظہر سب کے ذمہ رہا۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 8، ص 396، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صحیح ضرورت کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں الگ الگ وقت میں دو جمعے قائم کرنا، جائز ہے۔ چنانچہ امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: مسجدِ واحد کے لئے وقتِ واحد میں دو امام کی ہرگز ضرورت نہیں، تو جب پہلا امام معیَّنِ جمعہ ہے، دوسرا ضرور اُس کی لیاقت سے دور و مہجور، تو اُس کے پیچھے نمازِ جمعہ باطل و محذور۔ البتہ اگر امام معیّن نے براہِ شرارت، خواہ اپنی کسی خاص حاجت (ضرورت) کے سبب جلدی کی اور وقتِ معہود (مقررہ وقت) سے پہلے معدودے چند (کچھ لوگوں) کے ساتھ نماز پڑھ لی، عامہ جماعتِ مسلمین وقتِ معیّن پر حاضر ہوئی (یعنی عام مسلمان جمعہ کے لیے پہلے سے مقرر کیے ہوئے وقت پر جمعہ پڑھنے آئے)، تو اب ظاہراً مقتضائے نظرِ فقہی یہ ہے کہ اُنہیں جائز ہو کہ دوسرے شخص کو باتفاقِ عام مسلمین امام مقرر کریں اور نمازِ جمعہ پڑھیں،

لحصول الضرورۃ بالضرورۃ و لم تند فع بما فعل الامام بل لم یحصل من فعلہ ما کان نصبہ لہ، فما نصب الا للعامۃ لا لعدۃ نفر کما لایخفی، و لیحرر

(کیونکہ یہاں لازمی طور پر ضرورت پائی گئی اور وہ ضرورت امام کے فعل سے پوری نہیں ہوئی بلکہ اس کے فعل سے وہ مقصد حاصل ہی نہیں ہوا کہ جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا تھا، کیونکہ اسے تو عام لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا، نہ کہ چند لوگوں کے لیے، جیسا کہ مخفی نہیں، اس مسئلے کو لکھ لینا چاہئے)۔ ملخصا (فتاوٰی رضویہ، ج8، ص 361 ۔ 362، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2918
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ /09 مارچ 2026ء