logo logo
AI Search

فجر کے وقت نفل اور تحیۃ الوضو پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کے وقت میں نفل نماز منع ہے تو پھر تحیۃ الوضو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا فجر کے پورے وقت میں نفل پڑھنا منع ہے؟ تو پھر کیا تحیۃ الوضو بھی نہیں پڑھ سکتے؟ اگر نہیں تو کیا سنتوں میں اس کی نیت شامل کرلیں؟

جواب

احادیث کریمہ کی رو سے فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر سورج نکلنے تک دو رکعت سنتِ فجر کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز قصداً پڑھنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، اور چونکہ تحیۃ الوضو بھی نفل نماز ہے، اس لیے اسے بھی فجر کے وقت میں الگ سے ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم فجر کی سنتوں میں تحیۃ الوضو کی نیت شامل کر سکتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ کیونکہ قوانین شرعیہ کے مطابق اگر ایک آدمی وضو کرنے اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی نماز، خواہ فرض ہو یا سنت، ادا کرے تو اس سے تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور یہ ضمناً ادا ہو جاتی ہیں تو باقاعدہ ان کی نیت شامل کرنے سے بدرجۂ اولیٰ ادا ہو جائیں گی اور احادیث پر عمل کا ثواب بھی حاصل ہوگا۔

صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند احمد اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للبخاري أبا سعيد الخدري يقول: سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقول: لا صلاة بعد الصبح حتى ترتفع الشمس ولا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ (صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب لا يتحرى الصلاة قبل...الخ، جلد 1، صفحہ 212، حدیث 561، دار ابن كثير، دمشق )

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ / 1549ء) لکھتے ہیں:

ما بعد طلوع الفجر إلى أن ترتفع الشمس فإنه يكره في هذا الوقت النوافل كلها إلا سنة الفجر لما روى مسلم عن حفصة رضي اللہ عنها قالت: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم إذا طلع الفجر لا يصلي إلا ركعتين خفيفتين. و في أبي داود و الترمذي و اللفظ له عن ابن عمر رضى اللہ عنه عنه عليه السلام لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين

ترجمہ: طلوعِ فجر کے بعد سے لے کر سورج بلند ہونے تک، پس اس وقت میں تمام نوافل مکروہ ہیں، سوائے سنتِ فجر کے؛ اس حدیث پاک کی وجہ سے جو کہ امام مسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر طلوع ہوتی تو دو خفیف رکعتوں کے سوا کوئی نماز ادا نہ فرماتے تھے۔ اور سنن ابو داؤد اور جامع ترمذی میں ہے، اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فجر کے بعد دو سجدوں (یعنی دو رکعت سنتِ فجر) کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، فصل في الاوقات التي تكره فيها الصلاة، جلد 1، صفحہ 436، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 455، مکتبة المدینہ، کراچی)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: صبح صادق کے طلوع اور فجر کے فرض کے مابین سنت فجر کے علاوہ نفل نماز مکروہ ہے، اور یہ مکروہ مکروہِ تحریمی ہے۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 171، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1606ء) لکھتے ہیں:

لو توضأ في بيته ودخل المسجد فصلى ركعتين سنة الفجر مثلا فقد أتى بشكر الوضوء و تحية المسجد و أداء سنة الصبح

ترجمہ: اگر کوئی اپنے گھر میں وضو کرے اور مسجد میں داخل ہو کر مثلاً دو رکعت سنتِ فجر ادا کرے، تو بلا شبہ اس نے تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد اور سنتِ فجر تینوں نمازیں ادا کرلیں۔ (الحرز الثمين للحصن الحصين، أذكار الخروج إلى المسجد، جلد 2، صفحہ 676، مطبوعه رياض)

علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ / 1983ء) لکھتے ہیں: تحیۃ المسجد سے مطلوب تعظیم مسجد ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی مسجد کے رب جل و علا کی وہ خاص عبادت ادا کی جائے جس کے لیے مسجد بنائی گئی... تو جب ہر نماز ادا کر نے کے ساتھ بلا نیت تحیۃ المسجد ادا ہو جاتا ہے تو اگر اس نماز کی نیت کے ساتھ تحیۃ المسجد کی نیت بھی کر لے تو بطریق اولی ادا ہو جائے گا... فرض اور سنت ادا کرتے وقت ساتھ ہی تحیۃ المسجد کی بھی نیت کر سکتا ہے اور مثلاً قبل الفجر دو رکعت پڑھنے سے سنّۃ الفجر اور تحیۃ المسجد دونوں ادا ہو جائیں گے۔... بہرحال داخلِ مسجد جو نماز بھی پہلے پڑھے اس سے تحیۃ المسجد ادا ہو جاتا ہے نیت کرے یا نہ، مگر ظاہر یہ ہے کہ تحیۃ المسجد کی ادائیگی کا ثواب نیت پر موقوف ہے، اگر نیت تحیۃ المسجد کرے تو اس حدیث پاک پر بھی عمل کا ثواب ملے گا اور اگر نیت نہ کرے تو فقط نماز کا ثواب ہوگا اور اس حدیث پر عمل کا ثواب نہیں ہو گا؛ کیونکہ حدیث صحیح میں ہے:

انما الاعمال بالنیات

(یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے) اور یہ بھی ہے:

انما لامرئ ما نوی

(یعنی آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی)۔… جب تحیۃ المسجد فرض، واجب، سنت کے ساتھ ادا ہو جاتا ہے تو نماز شکر الوضوء بطریق اولی ادا ہو جائے گی؛ کیونکہ وہ مسنون ہے اور صحیح حدیثوں میں اس کا حکم آیا ہے اور جب وہ تبعاً ادا ہو جاتی ہے، تو یہ بطریق اولی ادا ہو جائے گی کہ یہ نماز مستحب ہے ... اور ہے بھی تحیۃ المسجد کی طرح صلاۃ غیر مستقلہ۔… الحاصل وضو یا غسل یا تیمم کرنے والا جب مسجد میں داخل ہو اور فرض نماز یا واجب ادا کرے یا قضا پڑھے یا سنت یا نفل پڑھے تو نماز شکر الوضوء اور تحیۃ المسجد ساتھ ہی ادا ہو جائیں گی۔ ہاں عمل بالاحادیث کا ثواب نیت پر موقوف ہے، نیت تحیۃ اور شکر کی کر لے تو ثواب بڑھ جائے گا۔ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 575 - 580 ملتقطاً، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1140
تاریخ اجراء: 12 شوال المكرم 1447ھ / 01 اپریل 2026ء