logo logo
AI Search

نماز میں درمیان سے سورت چھوڑ کر پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فرض نماز کی دو رکعتوں میں درمیان سے ایک سورت چھوڑ کر پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورہ نصر اور دوسری رکعت میں سورہ اِخلاص پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سائل: فرحان بٹ (گجرات)

جواب

فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورہ نصر پڑھنا اور دوسری میں سورہ لہب چھوڑ کر سورہ اِخلاص پڑھنا مکروہ تنزیہی اور ناپسندیدہ عمل ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ فرض نمازکی پہلی رکعت میں کوئی سورت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں درمیان سے ایک چھوٹی سورت چھوڑ کر اگلی سورت پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، لیکن اگر درمیان میں ایک سے زائد سورتیں چھوڑی جائیں یا درمیان کی سورت بڑی ہوکہ جسے پڑھنے سے دوسری رکعت کی قراءت پہلی رکعت کی قراءت سے طویل ہوجائےگی، تو پھر درمیان سے ایک بڑی سورت چھوڑ کر اگلی سورت پڑھنا مکروہ نہیں۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں سورہ نصر کے بعد دوسری رکعت میں سورہ لہب پڑھنے سے دوسری رکعت کی قراءت پہلی سے طویل نہیں ہوگی، کیونکہ فقہائے کرام نے طولِ قراءت کی مقدار یہ بیان فرمائی ہے کہ جب آیات چھوٹی بڑی نہ ہوں، بلکہ برابر ہوں، تو دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی بنسبت تین یا تین سے زائد آیات پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے اور اگر آیات چھوٹی بڑی ہوں، تو حروف و کلمات کا اعتبار کیا جائے گا کہ اگر حروف و کلمات میں بہت زیادہ فرق ہو تو کراہت ہے، ورنہ کراہت نہیں۔ اب اس اُصول کی روشنی میں دیکھا جائے، تو سورہ لہب، سورہ نصر سے کچھ زیادہ بڑی نہیں ہے، لہذا فرض نماز میں سورہ نصر کے بعد دوسری رکعت میں سورہ اخلاص کی بجائے سورہ لہب ہی پڑھنی چاہیے۔ البتہ اگر کسی نےفرض نماز میں سورہ نصر کے بعد سورہ اِخلاص پڑھ لی، تو اس کو گناہ نہیں ملے گا اور سجدہ سہو کے بغیر نماز بھی درست ہو جائے گی۔

فرائض میں درمیان سے ایک چھوٹی سورت چھوڑنا مکروہ ہے۔ چنانچہ فتاوی ہندیہ، نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:

یکرہ (فصلہ بسورۃ بین سورتین قراھما فی رکعتین) لما فیہ من شبھۃ التفضیل و الھجر و قال بعضھم: لا یکرہ اذا کانت السورۃ طویلۃ، کما لو کان بینھما سورتان قصیرتان۔۔۔ و فی الخلاصۃ: لایکرہ ھذا فی النفل

ترجمہ: دو سورتیں جن کو دو رکعتوں میں پڑھا، ان کے درمیان والی ایک سورت کو چھوڑنا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں (ایک کو دوسری پر) فضیلت دینے اور (دوسری کو) چھوڑنے کا شبہ ہے۔ اور بعض علماء نے کہا کہ جب درمیان والی سورت طویل ہو، تو مکروہ نہیں، جیسا کہ درمیان والی چھوٹی دو سورتوں کو چھوڑنا (مکروہ نہیں ہے) اور خلاصہ میں ہے کہ نفل میں ایسا کرنا مکروہ نہیں ہے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 181، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

دوسری رکعت کی قراءت پہلی رکعت سے طویل کرنے سے متعلق تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

( اطالة الثانية على الأولى يكرہ) تنزيها (اجماعا ان بثلاث آيات) إن تقاربت طولا و قصرا و إلا اعتبر الحروف و الكلمات

ترجمہ: دوسری رکعت کو پہلی رکعت کی بنسبت تین آیات کے ساتھ لمبا کرنا بالاجماع مکروہ تنزیہی ہے، جبکہ طول و قصر کے اعتبار سے آیات متقارب ہوں، ورنہ حروف و کلمات کا اعتبار کیا جائے گا۔ (تنویر الابصار مع درمختار، جلد 2، صفحہ 322، مطبوعہ، کوئٹہ )

یونہی بہار شریعت میں ہے: دوسری رکعت کی قراءت پہلی سے طویل کرنا مکروہ ہے، جبکہ بین فرق معلوم ہوتا ہو اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اگر دونوں سورتوں کی آیتیں (طول و قصر میں) برابر ہوں، تو تین کی زیادتی سے کراہت ہے اور چھوٹی بڑی ہوں، تو آیتوں کی تعداد کا اعتبار نہیں بلکہ حروف و کلمات کا اعتبار ہے، اگر کلمات و حروف میں بہت تفاوت ہو، کراہت ہے اگرچہ آیتیں گنتی میں برابر ہوں، مثلاً پہلی میں الم نشرح پڑھی اور دوسری میں لم یکن، تو کراہت ہے، اگرچہ دونوں میں آٹھ آٹھ آیتیں ہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 548، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی )

پہلی رکعت میں سورہ نصر پڑھنے کے بعد دوسری میں سورہ اخلاص نہیں پڑھنی چاہیے۔ چنانچہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ نماز میں ایک سُورت چھوڑ کراگلی سورت پڑھنا کیسا ہے؟ آپ علیہ الرحمہ نےجوابا ارشاد فرمایا: اگر متروکہ سورت اتنی لمبی ہے کہ اس کی قراءت سے دوسری رکعت پہلی رکعت سے طویل ہوجائے گی، تو ایسی سورت کو ترک کرکے تیسری سورت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، مثلاً: پہلی رکعت میں سورہ والتین اور دوسری رکعت میں سورہ قدر پڑھے اور اگر ایسی صورت نہیں، تو فرائض میں ایسا کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ سورہ نصر اور سورہ اخلاص کا پڑھنا اور اگر درمیان میں دوسورتیں ہوں، تو پھر کوئی مضائقہ نہیں، مثلاً: سورہ نصر اور سورہ فلق۔ (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 267، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

یونہی بہار شریعت میں ہے: پہلی رکعت میں کوئی سورت پڑھی اور دوسری میں ایک چھوٹی سورت درمیان سے چھوڑ کر پڑھی، تو مکروہ ہے اور اگر وہ درمیان کی سورت بڑی ہے کہ اس کو پڑھے تو دوسری کی قراء ت پہلی سے طویل ہو جائے گی، تو حرج نہیں، جيسے وَ التِّیْنِ کے بعد اِنَّا اَنْزَلْنَا پڑھنے میں حرج نہیں اوراِذَا جَآءَ کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہُ پڑھنا نہ چاہیے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 549، مطبوعہ ،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0103
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1447ھ / 27 فروری 2026ء