logo logo
AI Search

حطیمِ کعبہ میں نماز اور انبیائے کرام کی قبروں کا مسئلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حطیمِ کعبہ میں نماز پڑھنا کیسا جبکہ وہاں پر انبیائے کرام کی  قبریں موجود ہیں

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حطیم کعبہ میں انبیاء کرام کے مزارات ہیں، تو وہاں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

حطیم اور کعبہ معظمہ کے دیگر حصوں میں نماز پڑھنا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلم سے لے کر  آج تک رائج  ہے، یہاں نماز پڑھنے کی ممانعت کہیں وارد نہیں ہوئی  لہٰذا یہاں نماز پڑھ سکتے ہیں۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ  بحوالہ لمعات نقل فرماتے ہیں :

ان قبر اسمعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام فی الحجر تحت میزاب وان فی الحطیم وبین الحجر الاسود وزمزم قبرسبعین نبیا ولم ینہ احد عن الصلاۃ فیہ

یعنی اسماعیل علیہ السلام کی قبر میزاب کے نیچے ہے اور حطیم اور حجر اسود و زمزم کے درمیان ستر انبیاء کرام کی قبور ہیں  کسی نے بھی وہاں نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد7، صفحہ 304، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2325

تاریخ اجراء:28ذو القعدۃالحرام1446ھ/26مئی2025ء