
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد کے امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے آیات بھول جاتے ہیں، تو قرآن پاک میں کسی بھی دوسرے مقام بلکہ کئی پارے آگے سے قراءت شروع کر دیتے ہیں اور پھر اگلی رکعت میں دوبارہ پیچھے وہیں سے قراءت شروع کر دیتے ہیں، جہاں سے بھولے تھے اور وہ نمازوں میں بار بار اس طرح کر رہے ہیں۔ کئی بار ان کے بھولنے پر مقتدیوں کو بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ امام صاحب نے پہلے سے جاری آیات کو چھوڑ کر کہیں اورسے تلاوت شروع کر دی ہے۔ اس بارے میں امام صاحب سے بات کی جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بھی نماز ہو جاتی ہے، اس میں مسئلہ نہیں ہے۔ آپ اس بارے میں درست شرعی مسئلے کے متعلق ہماری رہنمائی فرما دیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کا آیات بھولنے پر آگے سے کوئی سورت یا آیت ملا لینا درست ہے، جبکہ ایسی آیت ملائیں کہ جس سے معنی بگڑ نہ جائیں، کیونکہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر امام صاحب واجب قراءت (یعنی سورۂ فاتحہ کے بعد تین آیات کے برابر تلاوت) مکمل کر چکے ہوں، اس کے بعد بھولیں، تو آگے سے سورت وغیرہ ملانے کی بجائے رکوع کر لینا بہتر ہے۔ نیز جب پہلی رکعت میں بھولنے کے بعد آگے کے کسی مقام سے سورت وغیرہ ملا لی، تو دوسری رکعت میں اس کے بھی آگے سے قراءت کرنا واجب، جبکہ پیچھے سے بھولی ہوئی آیات سے قراءت کرنا، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ نماز میں اور نماز کے علاوہ بھی قرآن پاک خلافِ ترتیب یعنی الٹا پڑھنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے، جس کی امام پر توبہ اور آئندہ ایسا نہ کرنا واجب ہے۔ البتہ اس سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا اور نماز ہو جاتی ہے، کیونکہ قرآن پاک کو ترتیب کے مطابق پڑھنا تلاوت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں، لیکن جان بوجھ کر خلافِ ترتیب قراءت کرنے سے گناہ بہر حال ضرور ہوتا ہے۔
علامہ شہاب الدین احمد ابن رُسلان رحمۃ اللہ علیہ شرح ابو داؤد میں فرماتے ہیں:
عن ابن مسعود أنه سئل عمن يقرأ القرآن منكوسا قال: ”ذلك منكوس القلب“، و فسره أبو عبيد بأن يقرأ سورة، ثم يقرأ بعدها أخرى هي قبلها
ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ سے قرآن پاک اُلٹا پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ایسے شخص کا دل ہی اُلٹا ہے۔ اور حضرت ابو عبید نے اس کی وضاحت میں فرمایا: اس طرح کہ ایک سورت پڑھنے کے بعد اس سے پہلے والی دوسری سورت پڑھنا۔ (شرح سنن أبي داود لابن رسلان، ج 6، ص 303، مطبوعہ دار الفلاح، مصر)
نماز میں اور نماز کے علاوہ بھی ترتیب کے مطابق قرآن پڑھنا تلاوت کے واجبات سے ہے اور خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہ و گناہ ہے۔ چنانچہ درِمختار میں ہے:
یکرہ۔۔۔ ان یقرأ منکوسا
ترجمہ: قرآن کریم کو اُلٹا پڑھنا مکروہ ہے۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
بان یقرأ فی الثانیۃ سورۃ أعلی مما قرأ فی الاولی ، لان ترتیب السور فی القرأۃ من واجبات التلاوۃ
ترجمہ: اس طرح کہ دوسری رکعت میں پہلی رکعت میں پڑھی گئی سورت سے پیچھے والی سورت پڑھے، کیونکہ قرآن پاک پڑھتے ہوئے سورتوں کی ترتیب قائم رکھنا تلاوت کے واجبات میں سے ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 330، مطبوعہ کوئٹہ)
نماز میں خلافِ ترتیب تلاوت کرنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا، کیونکہ یہ نماز کے واجبات میں سے نہیں ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے:
لو قرأ منکوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو، لأن ذلک من واجبات القرأۃ لا من واجبات الصلاۃ
ترجمہ: اگر کسی نے اُلٹا قرآن پڑھا، تو وہ گنہگار ہو گا، لیکن اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہو گا، کیونکہ یہ قراءت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات سے نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 183، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ پہلی رکعت میں سورۃ الناس اور دوسری رکعت میں اس کے پیچھے سے سورۃ الفلق پڑھنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”قصدا ایسا کیا، تو گنہگار ہوگا، نماز ہو گئی۔ سجدۂ سہو اب بھی نہ چاہئے تھا، توبہ کرے۔۔۔ ترتیب اُلٹا کر پڑھنا حرام (ہے)۔ ملخصا“ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 347، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قرآن مجید اُلٹا پڑھنا کہ دوسری رکعت میں پہلی والی سے اوپر کی سورت پڑھے، یہ مکروہِ تحریمی ہے، مثلاً: پہلی میں
﴿قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ﴾
پڑھی اور دوسری میں
﴿اَلَمْ تَرَ کَیْفَ﴾۔
اس کے ليے سخت وعید آئی۔ (حضرت) عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’جو قرآن اُلٹ کر پڑھتا ہے، کیا خوف نہیں کرتا کہ اﷲ اس کا دل اُلٹ دے۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 3، ج 1، ص 549، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام واجب قراءت مکمل کر چکا ہو، اس کے بعد بھولے، تو آگے سے سورت وغیرہ ملانے کی بجائے رکوع کر لینا بہتر ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے:
یکرہ للامام ان یلجئہ الیہ، بل ینتقل الی آیۃ اخری لا یلزم من وصلھا ما یفسد الصلاۃ، او الی سورۃ اخری او یرکع اذا قرأ قدر الفرض کما جزم بہ الزیلعی و غیرہ۔۔۔ و رجح قدر الواجب لشدۃ تأکدہ، ملخصا
ترجمہ: اما م کے لیے مکروہ ہے کہ مقتدی کو لقمہ دینے پر مجبور کرے، بلکہ امام ایسی دوسری آیت شروع کر دے کہ جسے ملانے سے نماز ٹوٹتی نہ ہو، یا دوسری سورت شروع کر دے، یا رکوع کر لے، جب وہ فرض کے برابر قراءت کر چکا ہو، جیسا کہ امام زیلعی وغیرہ نے اس کی صراحت کی ہے اور واجب مقدار کو ترجیح ہے، کیونکہ اتنا پڑھنے کی سخت تاکید ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 462، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”امام کو مکروہ ہے کہ مقتدیوں کو لقمہ دینے پر مجبور کرے، بلکہ کسی دوسری سورت کی طرف منتقل ہو جائے یا دوسری آیت شروع کر دے، بشرطیکہ اس کا وصل مفسدِ نماز نہ ہو (یعنی وہ آیت ملانے سے نماز ٹوٹتی نہ ہو) اور اگر بقدر حاجت پڑھ چکا ہے، تو رکوع کر دے۔ مجبور کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بار بار پڑھے یا ساکت کھڑا رہے۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 3، ج 1، ص 607، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2820
تاریخ اجراء: 20 صفر المظفر 1447ھ / 15 اگست 2025ء