نيت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہيں، نماز کی نیت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اگر اس وقت کوئی پوچھے، کون سی نماز پڑھتا ہے؟ تو فوراً بلا تأمل بتا دے، نیت کے حوالے سے چند چیزیں یاد رہیں: (1) فرض نماز میں نیتِ فرض بھی ضروری ہے، مطلق نماز یا نفل وغیرہ کی نیت کافی نہیں۔ (2) فرض میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس خاص نماز مثلاً ظہر یا عصر کی نیت کرے يا مثلاً آج کے ظہر یا اس وقت جو نماز فرض ہے اس کی نیت وقت میں کرے یہ بھی کافی ہے لیکن جمعہ میں فرض وقت کی نیت کافی نہیں، خاص جمعہ کی نیت ضروری ہے۔ (3) نفل و سنت و تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے، مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح اور باقی سنتوں میں سنت يا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی متابعت کی نیت کرے، اس ليے کہ بعض مشائخ ان میں مطلق نیت کو کافی نہیں سمجھتے۔ (4) نیت میں تعدادِ رکعات کی ضرورت نہیں البتہ افضل ہےلہٰذا اگر تعداد رکعات میں غلطی واقع ہوئی مثلاً ظہر میں غلطی سے تین کی نیت کرلی بھی نماز ہو جائے گی جبکہ ادا چاررکعت ہی کی ہوں۔
مزید معلومات کے لیے بہار شریعت، جلد 1، حصہ3 سے نماز کی شرط پنجم’’ نیت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2328
تاریخ اجراء:30ذو القعدۃالحرام1446ھ/28مئی2025ء