logo logo
AI Search

صلوٰۃ التسبیح جماعت سے پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مردوں کا صلوٰۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مرد صلوٰۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

فی زمانہ مرد حضرات صلوٰۃ التسبیح، صلوٰۃ التوبہ، تہجد یا دیگر نوافل جماعت کے ساتھ ادا کریں، تو انہیں جماعت سے پڑھنے سے منع نہ کیا جائے، کہ انہیں جماعت سے پڑھنا ناجائز و گناہ نہیں ہے۔ نیز عوام الناس کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہے، اگر منع کیا جائے تو پھر لوگ ان نوافل کو نہیں پڑھیں گے۔

تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ صلوۃ التسبیح نفل نماز ہے اور نفل نماز کی جماعت کی دو صورتیں ہیں: (1) بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا (2) تداعی کے ساتھ جماعت کروانا۔ دونوں صورتوں کا حکم بمع دلائل مندرجہ ذیل ہے:

(1) بغیر تداعی کے نوافل کی جماعت کروانا بالاجماع جائز ہے۔ اصح قول کے مطابق اگر امام کے علاوہ تین یا اس سے کم مقتدی ہوں، تو یہ بغیرتداعی کے ہے۔

(2) اگر نوافل کی جماعت تداعی کے ساتھ ہو، تو نمازِ تراویح اور کسوف و استسقاء یعنی سورج گہن اور طلب بارش کے لیے پڑھے جانے والے نوافل بھی بلا کراہت جائز ہیں، جبکہ ان کے علاوہ دیگر نوافل بطورِ تداعی جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہِ تنزیہی و خلافِ اولی ہے، ناجائز و گناہ نہیں، لہذا اگر لوگ صلوٰۃ التسبیح، صلوٰۃ التوبہ، تہجد یا دیگر نوافل جماعت کے ساتھ ادا کریں، تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ عوام الناس کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہے، اور جو لوگ جماعت کی وجہ سے نوافل ادا کر لیتے ہیں، اگر انہیں بھی منع کر دیا جائے، تو ان کے بالکل ہی نوافل چھوڑ دینے کے امکان زیادہ ہیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے۔

صحیح بخاری و صحیح ابن حبان میں ہے

(و اللفظ للبخاری) قال عتبان: فغدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و ابوبکر حین ارتفع النھار، فاستاذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، فاذنت لہ، فلم یجلس حین دخل البیت، ثم قال: این تحب ان اصلی من بیتک، قال: فاشرت لہ الی ناحیۃ من البیت، فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، فکبر، فقمنا فصففنا، فصلی رکعتین ثم سلم

ترجمہ: حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح دن چڑھے تشریف لائے، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اجازت طلب فرمائی، میں نے اجازت دے دی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر میں تشریف لائے اور بیٹھنے سے پہلے فرمایا: تم اپنے گھر میں کون سی جگہ پسند کرتے ہو، جہاں میں نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھڑے ہوکر تکبیر کہی اور ہم نے کھڑے ہو کر صف بنا لی، پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1014، حدیث: 5401، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس حدیث مبارک کے تحت شرح صحیح البخاری لابن بطال میں ہے

فیہ صلاۃ النافلۃ فی جماعۃ بالنھار

ترجمہ: اس حدیث مبارک میں اس بات کا ثبوت ہے کہ دن میں با جماعت نوافل ادا کرنا، جائز ہے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال، جلد 2، صفحہ 78، مکتبۃ الرشد، الریاض)

درِ مختار میں ہے

یکرہ ذلک لو علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد

ترجمہ: تداعی کے طور پر نوافل کی جماعت مکروہ ہے۔ تداعی کا مطلب یہ ہے کہ چار شخص ایک کی اقتداء کریں۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 604، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے تراویح و کسوف و استسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب معلوم و مشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے۔۔۔ بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چار میں اختلاف نقل و مشائخ، اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں، چار میں ہے، تو مذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں۔۔۔ پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ لمخالف التوارث، نہ تحریمی کہ گناہ و ممنوع ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 430 تا 431، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ و حرام۔ کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں ذکر کردی ہے۔ ت)۔۔۔ بہت اکابر دین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کیے جائیں گے۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 465، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حدیقہ ندیہ میں لوگوں کو باجماعت نوافل ادا کرنے سے روکنے کو اخلاق مذمومہ میں سے شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ علامہ عبد الغنی نابلسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

و من ھذا القبیل نھی الناس عن صلاۃ الرغائب بالجماعۃ و صلاۃ لیلۃ القدر و نحو ذلک و ان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیھا، لا یفتی بذلک للعوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات۔۔۔ صنف فی جوازھا جماعۃ من المتاخرین، فابقاء العوام راغبین فی الصلاۃ اولی من تنفیرھم منھا

ترجمہ: اخلاق مذمومہ کے قبیل سے یہ بھی ہے کہ لوگوں کو صلوٰۃ الرغائب باجماعت ادا کرنے، اور لیلۃ القدر کی رات اور اسی طرح دیگر مواقع پر نوافل ادا کرنے سے منع کر دیا جائے، اگرچہ علما نے تصریح فرمائی ہے کہ باجماعت نوافل ادا کرنا مکروہ ہے مگر لوگوں کو اس کی کراہت کا فتوی نہیں دیا جائے گا، تا کہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، بلکہ علماء متاخرین کی ایک جماعت نے اس کے جواز پر لکھا بھی ہے، لہٰذا عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہے۔ (حدیقہ ندیہ، الخلق الثامن و الاربعون من الاخلاق الستین المذمومۃ، جلد 3، صفحہ 437، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4752
تاریخ اجراء: 02 رمضان المبارک1447ھ / 20 فروری2026ء