logo logo
AI Search

مسجد میں سونا جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز کے انتظار میں مسجد میں سونا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر مغرب کی نماز پڑھنے مسجد گئے اور واپس آنے کی بجائے عشا کے لیے وہیں رکنا ہو چونکہ مسجد دور ہے تو کیا وہیں مسجد میں کچھ دیر سو سکتے ہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب نماز مغرب کے لیے مسجد میں جائیں تو نفلی اعتکاف کی نیت کر کے ٹھہریں اور نماز وغیرہ ادا کریں، اس کے بعد چاہیں تو سو سکتے ہیں؛ کیونکہ مسجد میں سونا معتکف کے لیے جائز ہے، اس کے علاوہ کسی کے لیے مسجد میں سونے کی شرعاً اجازت نہیں، پھر جب مسجد سے نکلیں گے تو اعتکاف ختم ہو جائے گا اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ کیونکہ نفلی اعتکاف لمحہ بھر کا بھی ہو سکتا ہے۔ نیز اس صورت میں مسجد میں ہونے کی وجہ سے جماعت یا نماز فوت ہو جانے کا اندیشہ نہیں، لہذا اس وقت میں سونے کی کراہت بھی لاحق نہیں ہوگی۔

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ/1549ء) لکھتے ہیں:

”والنوم فيه لغير المعتكف مكروه“

ترجمہ:  اور غیر معتکف کے لیے مسجد میں سونا مکروہ ہے۔

(غنية المتملی شرح منية المصلي، فصل في احكام المساجد، جلد 2، صفحہ 551، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے کھانے پینے کو نہیں بنیں، تو غیر معتکف کو اُن میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہو جائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی، وکل ما ادی الی محظور محظور (یعنی ہر وہ شے جو ممنوع کا سبب بنے وہ خود ممنوع ہے۔) جو بخیالِ تہجد یا جماعت صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہے کہ اعتکاف کی نیت کر لے کچھ حرج نہیں، کچھ تکلیف نہیں، ایک عبادت بڑھتی ہے، اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 93-94، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں: ”صحیح و معتمد یہ ہے کہ مسجد میں کھانا، پینا، سونا سوا معتکف کے کسی کو جائز نہیں، مسافر یا حضری اگر چاہتا ہے تو اعتکاف کی نیت کیا دشوار ہے، اور اس کے لیے نہ روزہ شرط نہ کوئی مدت مقرر ہے، اعتکافِ نفل ایک ساعت کا ہو سکتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 95، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”مسجد میں کھانا، پینا، سونا، معتکف اور پردیسی کے سوا کسی کو جائز نہیں، لہذا جب کھانے پینے وغیرہ کا ارادہ ہو تو اعتکاف کی نیت کر کے مسجد میں جائے، کچھ ذکر و نماز کے بعد اب کھا پی سکتا ہے، اور بعضوں نے صرف معتکف کا استثنا کیا اور یہی راجح، لہذا غریب الوطن بھی نیتِ اعتکاف کرے کہ خلاف سے بچے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 648، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) نقل کرتے ہیں:

”إنما ‌كره ‌النوم ‌قبلها ‌لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت الجماعة فيها وأما من وكل نفسه إلى من يوقظه فيباح له النوم“

ترجمہ: نماز عشا سے پہلے سونا صرف اس شخص کے لیے مکروہ ہے جسے وقتِ نماز کے نکل جانے یا جماعت فوت ہو جانے کا خوف ہو۔ بہرحال جو شخص اپنے آپ کو کسی ایسے کے سپرد کر دے جو اسے جگا دے گا، تو اس کے لیے (نماز مغرب کے بعد) سونا مباح ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 368، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1067
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب 1447ھ/ 20 جنوری 2026ء