logo logo
AI Search

سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو قیام اور رکوع کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو قیام اور رکوع کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسائل کے بارے میں کہ

(1)سجدے پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں کیا قیام و رکوع دونوں ہی ساقط ہوجاتے ہیں یا صرف قیام ؟

(2)سجدے پر قدرت کے ہوتے ہوئے نفل میں قیام ساقط ہے تو کیا یہاں بھی رکوع ساقط ہے کہ اشارے سے کرلیں یا رکوعِ حقیقی یعنی مع الانحناء ضروری ہے؟

(3) جو شخص حقیقی سجدہ کرکے نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو اور وہ سجدے کیلئے اشارہ کرکے نماز پڑھے تو ایسی صورت میں کیا اُسے رکوعِ حقیقی کرنا ہوگا، یعنی سر اور کمر دونوں کے جھکانے کے ساتھ رکوع کرنا ہوگا، یا رکوع بالاشارۃ یعنی مطلقاً کمر کو جھکائے بغیر صرف گردن کی حرکت کے ذریعے سر کو جھکانے کے ساتھ رکوع کے اشارے سے نماز ادا کرسکتا ہے؟

جواب

1) نماز میں سجدہ اصل مقصود ہے اور قیام و رکوع اُس کے تابع اور وسیلہ ہیں، تو جب اصل ساقط ہو جائے تو اس کے تابع بھی ساقط ہو جاتے ہیں، لہذا جب کوئی شخص حقیقی سجدے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اُس سے حقیقی سجدہ ساقط ہوکر سجدے کا اشارہ کافی ہو جاتا ہے اور حقیقی سجدہ ساقط ہونے کے ضمن میں قیام اور رکوعِ حقیقی دونوں ہی ساقط ہو جاتے ہیں جس کی صورت یہ بنتی ہے کہ قیام کی جگہ تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور رکوع میں حقیقی رکوع یعنی سر اور کمر جھکانے کی جگہ صرف رکوع کا اشارہ یعنی صرف سر جھکانا، کافی ہوجاتا ہے۔

چنانچہ حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی میں ہے:

’’ان السجود في الصلاة أصل وسائر الأركان كالتابع له، لأن الصلاة مبناها الخضوع وأصله يوجد بالقيام ويزداد بالركوع ويتناهى بالسجود، ولهذا كان السجود معتبراً بدون القيام كما في سجدة التلاوة، وليس القيام معتبراً بدون السجود، فإذا سقط الأصل سقط التابع ضرورة، ولهذا سقط الركوع عمن سقط عنه السجود‘‘

ترجمہ: نماز میں سجدہ اصل ہے اور باقی تمام ارکان اس کے تابع کی مانند ہیں، کیونکہ نماز کی بنیاد عاجزی اور خشوع پر ہے، اور اس کی اصل قیام سے پائی جاتی ہے، رکوع سے بڑھتی ہے اور سجدے میں اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔اور اسی لیے سجدہ قیام کے بغیر بھی معتبر ہوتا ہے، جیسے سجدۂ تلاوت میں، جبکہ قیام سجدے کے بغیر معتبر نہیں ہوتا۔ پس جب اصل ساقط ہو جائے تو تابع بھی لازماً ساقط ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے جس شخص سے سجدہ ساقط ہو جائے اس سے رکوع بھی ساقط ہو جاتا ہے۔ (حلبۃ المجلی، جلد 2، صفحہ 30، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’ولأن السجود أصل وسائر الأركان كالتابع له، ولهذا كان السجود معتبرا بدون القيام كما في سجدة التلاوة، وليس القيام معتبرا بدون السجود بل لم يشرع بدونه، فإذا سقط الأصل سقط التابع ضرورة، ولهذا سقط الركوع عمن سقط عنه السجود، وإن كان ‌قادرا ‌على ‌الركوع، وكان الركوع بمنزلة التابع له، فكذا القيام بل أولى؛ لأن الركوع أشد تعظيما وإظهارا لذل العبودية من القيام، ثم لما جعل تابعا له وسقط بسقوطه فالقيام أولى‘‘

ترجمہ: اور اس لیے کہ سجدہ اصل ہے اور باقی تمام ارکان اس کے تابع کی مانند ہیں، اسی وجہ سے سجدہ قیام کے بغیر بھی معتبر ہے جیسا کہ سجدۂ تلاوت میں، جبکہ قیام سجدے کے بغیر معتبر نہیں بلکہ اس کے بغیر مشروع ہی نہیں۔ پس جب اصل ساقط ہو جائے تو تابع کا ساقط ہونا لازمی ہے، اسی بنا پر جس سے سجدہ ساقط ہو جائے اس سے رکوع بھی ساقط ہو جاتا ہے اگرچہ وہ رکوع پر قادر ہو، کیونکہ رکوع سجدے کے تابع کے درجہ میں ہے، تو قیام کا ساقط ہونا بدرجۂ اولیٰ ہوگا؛ کیونکہ رکوع، قیام کے مقابلے میں زیادہ تعظیم والا اور بندگی کی عاجزی کو زیادہ ظاہر کرنے والا عمل ہے۔ پھر جب اسے سجدے کا تابع قرار دیا گیا اور سجدے کے ساقط ہونے سے وہ بھی ساقط ہو گیا تو قیام کا ساقط ہونا بدرجۂ اولیٰ ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 107، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

بحر الرائق میں بھی بدائع کے حوالے سے اِسے ذکر کیا گیا ہے۔ (بحرالرائق، جلد 2، صفحہ 122، دار الكتاب الإسلامي)

(2)سجدے پر قدرت کے باوجود نفل نماز میں قیام ساقط ہو نے سے رکوع حقیقی ہرگز ساقط نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرنی ہوتی ہے، کیونکہ نفل نما زمیں بندے کو کھڑے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں تو اختیار ہوتا ہے لیکن حقیقی سجدے اور اشارے میں کوئی اختیار نہیں ہوتا، لہذا نفل نماز میں حقیقی سجدہ ہی کرنا ہوتا ہے اور جب حقیقی سجدہ ساقط نہیں تو اس کا تابع اور اس کا وسیلہ یعنی رکوع حقیقی بھی ساقط نہیں ہوگا بلکہ حقیقی رکوع ہی ضروری ہوگا۔

چنانچہ بحر الرائق میں ہے:

’’أن ‌المتنفل ‌يتخير ‌بين ‌القيام والقعود ولا يتخير بين الإيماء والسجود‘‘

ترجمہ: نفل پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے کے درمیان اختیار ہوتا ہے، (لیکن) اشارے سے سجدہ کرنے اور حقیقی سجدہ کرنے کے درمیان اختیار نہیں ہوتا۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 387، دارالکتاب الاسلامی، بیروت)

اسی طرح کتبِ فقہ میں قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی تو رخصت ہے اور قیام ساقط ہے لیکن قیام ساقط ہونے کی وجہ سے رکوع و سجود کے ساقط ہونے کا حکم ہرگز نہیں بلکہ حقیقی رکوع (یعنی سر کے ساتھ کمر کے جھکانے) اور حقیقی سجدے پر قدرت ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ ہی نماز پڑھنے کا حکم ہے، اشارے کی اجازت نہیں۔

چنانچہ تنویر الابصار میں ہے:

’’(من تعذر عليه القيام)۔۔۔(صلى قاعدابركوع وسجود)‘‘

ترجمہ: جس پر قیام متعذر ہوجائے تو وہ رکوع و سجود کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھے گا۔ (تنوير الابصار، جلد 2، صفحہ 681-683، دارالمعرفۃ، بیروت)

ملتقی الابحر میں ہے:

’’عجز عن القيام أو خاف زيادة المرض بسببه صلى قاعدا يركع ويسجد‘‘

ترجمہ: اگر وہ کھڑے ہونے سے عاجز ہو جائے، یا اس کی وجہ سے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، رکوع اور سجدہ کرے۔ (ملتقی الابحر، صفحہ 228، 227، دار الكتب العلمية، بيروت)

(3)جو شخص حقیقی سجدہ پر قادر نہ ہو، تو اس کے لئے حقیقی رکوع کرنے کی اجازت تو ہے، جیسے کھڑے ہو کر پورا رکوع کرلے اور بیٹھ کر سجدہ کرتے ہوئے صرف سر کا اشارہ کر لے، مگر اسی طریقہ کو اپنانا لازمی و ضروری نہیں، بلکہ ایسا شخص رکوع اور سجدہ دونوں کیلئے ہی صرف سَر سے اشارہ کرسکتا ہے جیسے نماز پڑھتے ہوئے بیٹھ کر رکوع و سجدہ کرے اور دونوں کے لئے سر سے اشارہ کرے، البتہ اُسے سجدے کا اشارہ، رکوع کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ کرنا ہوگا یعنی سجدے کے اشارے میں رکوع کے مقابلے میں سر کو زیادہ جھکائے گا۔ نیز سجدے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں رکوع کیلئے اشارہ کرنے میں یہ قید نہیں کہ وہ حقیقی رکوع کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو رکوع کا اشارہ کرے گا، بلکہ چاہے حقیقی رکوع کرسکتا ہو یا نہیں، یعنی کمر کے جھکانے پر قدرت ہو یا نہیں، بہر صورت اُسے صرف سر کے اشارے سے رکوع کیلئے اشارہ کرنا، کافی ہوگا اور نماز ہوجائے گی۔

چنانچہ ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے:

’’(وإن تعذر الركوع أو السجود ‌أومأ ‌برأسه) أي يشير إلى الركوع والسجود (قاعدا) إن قدر على القعود لأنه وسعه (وجعل سجوده) بالإيماء (أخفض من ركوعه) لأن نفس السجود أخفض من الركوع فكذا الإيماء به ‘‘

ترجمہ: اور اگر رکوع یا سجدہ ممکن نہ ہو تو وہ بیٹھ کر سر کے اشارے سے رکوع اور سجدہ کرے، اگر بیٹھنے پر قادر ہو، کیونکہ یہی اس کی استطاعت ہے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ جھکاؤ والا کرے، کیونکہ حقیقی سجدہ، رکوع سے زیادہ پست ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اشارہ بھی۔ (ملتقی الابحر مع مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 154، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

اور رکوع کا ایماء یعنی اشارہ یہی ہے کہ صرف سر کو جھکاکر اشارہ ہو، کمر کو اصلاً نہ جھکایا جائے کیونکہ اگر کمر بھی جھکائی تو یہ رکوع حقیقی ہوجائے گا، رکوع کااشارہ نہیں کہلائے گا۔

رد المحتار میں ہے:

’’إن كان ركوعه بمجرد إيماء الرأس من غير انحناء وميل الظهر فهذا ‌إيماء، لا رکوع۔۔۔وإن كان مع الانحناء كان ركوعا معتبرا‘‘

ترجمہ: اگر اس کا رکوع صرف سر کے اشارے سے ہو، بغیر جسم کے جھکاؤ اور پیٹھ کے میل کے، تو یہ ایماء ہے، رکوع (حقیقی)نہیں۔ اور اگر وہ جھکاؤ کے ساتھ ہو تو وہ معتبر رکوع ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 686، دارالمعرفۃ، بیروت)

سجدے پر عدمِ قدرت کی صورت میں اگرچہ کمر کو جھکانے پر قدرت ہو، پھر بھی رکوع کیلئے صرف سر کا اشارہ ہی کافی ہوگا، چنانچہ رد المحتار میں ہے:

’’رجل بحلقه خراج إن سجد سال و هو قادر على الركوع و القيام و القراءة يصلي قاعدا يومئ؛ و لو صلى قائما بركوع و قعد و أومأ بالسجود أجزأه، و الأول أفضل لأن القيام و الركوع ‌لم ‌يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا و سيلتين إلى السجود‘‘

ترجمہ: ایک آدمی جس کے حلق میں پھوڑا ہو کہ اگر وہ سجدہ کرے تو اس سے رِسنے لگے، اور وہ رکوع، قیام اور قراءت پر قادر ہو، تو وہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے۔ اور اگر وہ کھڑے ہو کر رکوع کرے پھر بیٹھ جائے اور سجدے کا اشارہ کرے تو بھی اس کی نماز درست ہو جائے گی، لیکن پہلی صورت افضل ہے، کیونکہ قیام اور رکوع بذاتِ خود مقصود نہیں ہیں، بلکہ انہیں اس لیے مشروع کیا گیا ہے کہ وہ سجدے تک پہنچنے کے وسائل بنیں۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 684، دارالمعرفۃ، بیروت)

یہاں رکوع حقیقی پر قدرت کے باوجود چونکہ وہ سجدے پر قادر نہیں تو اس سے حقیقی رکوع کو ساقط کردیا گیا ہے، اور اشارے کی اجازت دی گئی، لہذا حقیقی رکوع پر قدرت کے باوجود رکوع کیلئے اشارے کی اجازت ہوگی، ہاں اگر  رکوع حقیقی کرنا چاہے تو منع بھی نہیں، کرسکتا ہے مگر لازم نہیں۔

نوٹ: فتوی نمبر Fsd-9116: میں رکوع حقیقی کو ضروری قرار دیا گیا تھا جبکہ صحیح حکم شرعی وہ ہے جو اس فتوے میں بیان کیا گیا ہے یعنی سجدے پر قدرت نہ ہو اور  اس کے لئے اشارہ کرنا ہے تو تو رکوع کے لئے بھی اشارہ ہی کافی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1065
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب 1447ھ/17 جنوری 2026ء