logo logo
AI Search

کرسی پر نماز پڑھنے والے کے لیے سجدہ کا طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کرسی پر نماز پڑھتے ہوئے سجدہ کرنے کا طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر بہت بوڑھی ہونے کی وجہ سے والدہ کرسی پر نماز پڑھیں، تو اس میں کرسی کے سامنے ٹیبل وغیرہ رکھ لیا جائے جس پر وہ سجدہ کر سکیں، یا پھر وہ والی کرسی لانا ضروری ہے، جس پر سجدے کی جگہ بنی ہوتی ہے؟

جواب

اگر والدہ سجدہ حقیقی پر قادر نہیں ہیں ( یعنی نہ زمین پرسجدہ کرسکتی ہیں اور نہ زمین پر رکھی ہوئی، کسی ایسی چیزپر سجدہ کرسکتی ہیں، جو بارہ انگل سے زیادہ اونچی نہ ہو) توایسی صورت میں ان کے لیے اشارے سے سجدہ کرنے کاحکم ہے، کسی چیزپرسجدہ کرنے کاحکم نہیں ہے، اور اشارے سے سجدہ کرنے میں لازم ہے کہ سجدے کے اشارے میں رکوع کے اشارے سے زیادہ سر کو جھکایا جائے، لہذا اس صورت میں بلند چیز پر سجدہ کرنا بے جا و فضول ہے، بلکہ اگر اس بلند چیز پر سجدہ کرنے میں رکوع سے زیادہ جھکنا نہ پایا گیا، تو اشارے والا سجدہ بھی درست نہیں ہوگا، تو یوں نہ حقیقی سجدہ پایا گیا، نہ اشارے والا، تو سرے سے سجدہ ہی نہ پایا جائے گا، تو نماز ہی درست نہیں ہوگی۔

رد المحتار میں ہے

”ان کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلا ولم یزد علی قدر لبنۃ اور لبنتین فھو سجود حقیقی۔۔۔ بل یظھر لی انہ لو کان قادرا علی وضع شیئ علی الارض مما یصح السجود علیہ انہ یلزم ذلک لانہ قادر علی الرکوع والسجود حقیقۃً

یعنی: اگر وہ زمین پر رکھی چیز ایسی ہے کہ جس پر سجدہ کرنا درست ہے مثلا پتھر پر کیا اور وہ ایک یا دو اینٹوں سے زیادہ بلند بھی نہیں تو اس پر کیا جانے والا سجدہ حقیقی سجدہ ہے۔ بلکہ میرے لئے تو یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ اگر کوئی شخص زمین پر ایسی چیز کہ جس پر سجدہ صحیح ہو، رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے تو اس پر ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ وہ رکوع و سجود پر حقیقتاً قادر ہے۔ (رد المحتار، جلد2، صفحہ686، مطبوعہ: کوئٹہ)

در مختار میں ہے

”(ویجعل سجودہ اخفض من رکوعہ) لزوما

ترجمہ: اور (اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے میں) سجدے کا اشارہ رکوع سے پست ہونا لازمی ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد2، صفحہ685، مطبوعہ: کوئٹہ)

شیخ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ/1549ء) لکھتے ہیں:

”ولا يرفع إلى وجهه شيئاً يسجد عليه من وسادة أو غيرها لقوله عليه الصلاة والسلام لمريض عاده فرآه يصلي على وسادة فأخذها فرمى بها فأخذ عودًا ليصلي عليه فأخذه فرمى به وقال: صل على الأرض إن استطعت وإلا فأوم إيماء، واجعل سجودك أخفض من ركوعك۔۔۔ ولو رفع إلى وجهه شيئا فسجد عليه فإن كان يخفض رأسه صح، ويكون صلاته بالإيماء لا بالركوع والسجود

ترجمہ: اور نمازی اپنے چہرے کی طرف کوئی شے نہ اٹھائے کہ جس پر وہ سجدہ کرے، جیسے تکیہ یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مریض کے لیے اس فرمان کی وجہ سے جس کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیادت فرمائی تو اسے دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تکیہ لے کر پھینک دیا۔ پھر اس نے ایک لکڑی لی تاکہ اس پر نماز پڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بھی لے کر پھینک دی اور فرمایا: "زمین پر نماز پڑھو اگر تمہیں استطاعت ہو، ورنہ اشارے سے پڑھو، اور اپنے سجدے (کے اشارے) کو اپنے رکوع سے زیادہ پست رکھو۔" اور اگر نمازی نے اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز اٹھائی اور اس پر سجدہ کیا تو اگر وہ اپنا سر جھکاتا ہے تو نماز درست ہو جائے گی اور اس کی نماز اشارے کے ساتھ ہی شمار ہو گی، (حقیقی) رکوع اور سجدے کے ساتھ نہیں۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، باب فرائض الصلاة، صفحہ229، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) تحریرفرماتےہیں: ”اگر کوئی اونچی چیز زمین پر رکھی ہوئی ہے اُس پر سجدہ کیا اور رکوع کے لیے صرف اشارہ نہ ہوا بلکہ پیٹھ بھی جھکائی تو صحیح ہے بشرطیکہ سجدہ کے شرائط پائے جائیں مثلاً اس چیز کا سخت ہونا جس پر سجدہ کیا کہ اس قدر پیشانی دب گئی ہو کہ پھر دبانے سے نہ دبے اور اس کی اونچائی بارہ اُنگل سے زیادہ نہ ہو۔ ان شرائط کے پائے جانے کے بعد حقیقۃً رکوع و سجود پائے گئے، اشارہ سے پڑھنے والا اسے نہ کہیں گے اور کھڑا ہو کر پڑھنے والا اس کی اقتدا کر سکتا ہے اور یہ شخص جب اس طرح رکوع و سجود کرسکتا ہے اور قیام پر قادر ہے تو اس پر قیام فرض ہے یا اثنائے نماز میں قیام پر قادر ہو گیا تو جو باقی ہے اسے کھڑے ہو کر پڑھنا فرض ہے لہٰذا جو شخص زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا مگر شرائط مذکورہ کے ساتھ کوئی چیز زمین پر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے، اس پر فرض ہے کہ اسی طرح سجدہ کرے اشارہ جائز نہیں اور اگر وہ چیز جس پر سجدہ کیا ایسی نہیں تو حقیقۃً سجود نہ پایا گیا بلکہ سجدہ کے لیے اشارہ ہوا لہٰذا کھڑا ہونے والا اس کی اقتدا نہیں کر سکتا اور اگر یہ شخص اثنائے نماز میں قیام پر قادر ہوا تو سرے سے پڑھے۔“ (بہارِ شریعت، جلد1، حصہ4، صفحہ722، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مزید فرماتے ہیں: ”کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں کر سکتا مثلاً حلق وغیرہ میں پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے، بلکہ یہی بہتر ہے ۔۔۔ اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے، مگر یہ ضرور نہیں کہ سر کو بالکل زمین سے قریب کر دے۔ سجدہ کے لیے تکیہ وغیرہ کوئی چیز پیشانی کے قریب اٹھا کراس پر سجدہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ خود اسی نے وہ چیز اٹھائی ہو یا دوسرے نے۔ “  (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 721، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4607

تاریخ اجراء: 13رجب المرجب1447ھ/03جنوری2026ء