logo logo
AI Search

وتر کی نماز کی نیت کا طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وتر کی نیت کرنے کا طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

وتر کی نیت کیسے کریں؟

جواب

وتر کی نماز میں فقط وتر کی نیت بھی کافی ہے جیسے یوں نیت کرے کہ تین رکعت وتر پڑھتا ہوں، البتہ! بہتریہ ہے کہ وترِ واجب کی نیت کی جائے، مثلا یوں نیت کرے کہ تین رکعت وتر واجب پڑھتا ہوں۔ یاد رہے نیت دل کے پکے ارادے کا نام ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں ہے، البتہ!دل میں نیت ہوتے ہوئےزبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔

در مختار میں ہے

ولا بد من التعيين عند النية۔۔۔لفرض۔۔۔وواجب أنه وتر“

ترجمہ: نیت کرتے وقت فرض کی تعیین کرنا ضروری ہے۔یونہی واجب میں تعیین ضروری ہے کہ وہ (مثلا)وتر ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله إنه وتر)۔۔۔ لا يلزمه تعيين الوجوب۔۔۔ إن كان حنفيا ينبغي أن ينويه ليطابق اعتقاده۔“

ترجمہ: (مصنف کا قول: کہ وہ وتر ہے)وتر کی نیت میں وجوب کی تعیین کرنا لازم نہیں، ہاں اگر نیت کرنے والا حنفی ہو، تو اس کے لئے مناسب ہے کہ وجوب کی تعیین بھی کرلے، تاکہ اس کی نیت اس کے اعتقاد کے مطابق ہو جائے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 117 تا 119، مطبوعہ: کوئٹہ)

در مختار میں ہے

(النيةوهي الإرادة)۔۔۔ (والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار“

ترجمہ: نیت ارداہ کو کہتے ہیں اور ارادہ کے وقت زبان سے اس کا تلفظ مستحب ہے، یہی مختار ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 111، 113، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "وتر میں فقط وتر کی نیت کافی ہے، اگرچہ اس کے ساتھ نیتِ وجوب نہ ہو، ہاں نیتِ واجب اولیٰ ہے، البتہ اگر نیتِ عدمِ وجوب ہے تو کافی نہیں۔" (بہار شریعت، ج01، حصہ03، ص498، مکتبۃ المدینہ)

اسی میں ہے: "نیت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہیں۔۔۔زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔" (بہار شریعت، ج1، حصہ 3، ص492، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4593

تاریخ اجراء: 09رجب المرجب1447ھ/30دسمبر2025ء