بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص لاہور میں پیدا ہوا، پھر وہاں سے دبئی اور دبئی سے یوکے چلا گیا، یعنی اس نے لاہور ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا کہ وہاں واپس آنے اور رہائش اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، یونہی دبئی بھی چھوڑ دیا ہے اور یوکے بھی مستقل رہنے کا ارادہ نہیں، بلکہ نیت یہ ہے کہ مدینے چلا جاؤں گا اور وہاں زندگی گزاروں گا، لیکن ابھی تک مدینہ منورہ گیا نہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ اِس صورت میں اُس شخص کا وطن اصلی کون ساہے ؟
پوچھی گئی صورت میں جب تک وہ شخص لاہور کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کسی اور جگہ کو وطنِ اصلی نہیں بنا لیتا، تب تک لاہور ہی اس کا وطنِ اصلی رہے گا، اگرچہ وہ لاہور سے کسی اور جگہ منتقل بھی ہو چکا ہو۔
اس مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کسی شخص کا وطنِ اصلی وہ جگہ کہلاتی ہے، جہاں اس کی پیدائش ہو یا اس کے گھرکے لوگ وہاں رہتے ہوں یا وہاں اس نے رہائش اختیار کر لی ہو اور ارادہ یہ ہے کہ اب یہاں سے نہیں جائے گا۔ پھر وطنِ اصلی اپنی مِثل دوسرے وطنِ اصلی سے تو باطل ہوسکتا ہے، لیکن محض سفر یا وطنِ اقامت سے باطل نہیں ہوتا، کیونکہ وطنِ اصلی کا مرتبہ سب سے زیادہ ہےکہ یہ اصل ہے اور سفر وغیرہ کا مرتبہ کم ہے کہ یہ عارضی ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ چیز اپنی مثل یا اپنے سے بلند مرتبہ چیز سے تو باطل/منسوخ ہو سکتی ہے، لیکن کم درجہ والی چیز سے نہیں، لہذا وطنِ اصلی اپنی مثل ہی سے ختم ہوگا۔ اب پوچھی گئی صورت میں اُس شخص کی پیدائش لاہور کی ہے، لہذا بنیادی طور پر اُس کا وطنِ اصلی لاہور ہوا اور سوال سے ظاہر ہے کہ ابھی تک اس نے کسی اور جگہ کو وطنِ اصلی نہیں بنایا کہ وہ مستقل رہائش کے ارادے سے کسی جگہ ٹھہرا ہی نہیں، لہذا ابھی تک شرعاً اُس کا وطنِ اصلی لاہور ہی ہے۔
اب رہی یہ بات کہ ’’وہ شخص لاہور کو ہمیشہ کےلیے چھوڑنے کا ارادہ کر کے وہاں سے نکل چکا ہے‘‘ تو یاد رہے کہ اس کی وجہ سے بھی مذکورہ حکمِ شرعی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ محض وطنِ اصلی کو چھوڑ دینا کافی نہیں، بلکہ شرعی اصولوں کے مطابق کسی اور جگہ کو وطنِ اصلی بنا لینا بھی ضروری ہے۔مثال: فقہاء نے اس مسئلہ کی مثال یہ بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص کا وطنِ اصلی کوفہ ہےاور وہ کوفہ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر مکہ کو وطنِ اصلی بنا لیتا ہے، تو کوفہ اس کا وطنِ اصلی نہیں رہے گا، لیکن اگر مکہ کی جانب نکلنے کے بعد اس کا ارادہ خراسان کو وطنِ اصلی بنانے کا بن جاتا ہے اور وہ کوفہ سے گزرتا ہے، تو وہاں پوری نماز ادا کرے گا کہ اگرچہ کوفہ کو ہمیشہ چھوڑنے کے ارادے سے وہ نکل چکا ہے، لیکن ابھی تک اس نے مکہ یا خراسان کو وطنِ اصلی نہیں بنایا، لہذا کوفہ ہی وطنِ اصلی رہا۔ اب ہماری صورت میں بھی جب تک لاہور کے علاوہ کسی اور جگہ کو شرعی تقاضوں کے مطابق وطنِ اصلی بنانا نہیں پایا جاتا، تب تک لاہور ہی وطنِ اصلی باقی رہے گا۔
وطنِ اصلی کے بارے میں درمختار اور رد المحتار میں ہے:
بین القوسین مزیدا من ردالمحتار: ’’الوطن الاصلي(ویسمیٰ بالاھلی ووطن الفطرۃ والقرار) هو موطن ولادته او تاهله(ای تزوجه)او توطنه(ای عزم على القرار فيه وعدم الارتحال)“
ترجمہ: وطن اصلی اور اسے وطنِ اہلی، وطنِ فطرت اور وطنِ قرار بھی کہا جاتا ہے، وہ انسان کی پیدائش کی جگہ ہے یا وہاں اس نے شادی کی ہو یا اس جگہ کو وطن بنالیا ہو، یعنی وہاں مستقل رہنے اور وہاں سے کوچ نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا ہو۔ (درمختار مع رد المحتار، ج2، ص131 ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت(
اور وطنِ اصلی و اقامت کے بارے میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: ”وطنِ اصلی وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سکونت کر لی اور یہ ارادہ ہے کہ يہاں سے نہ جائے گا۔ وطن اقامت وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا وہاں ارادہ کیا ہو۔ “ (بھار شریعت، ج1، ص750تا751، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )
وطنِ اصلی وطنِ اقامت ہی سے باطل ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’فالوطن الاصلي ينتقض بمثله لا غير وهو ان يتوطن الانسان في بلدة اخرى وينقل الاهل اليها من بلدته، فيخرج الاول من ان يكون وطنا اصليا، حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصير صلاته اربعا واصله ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم والمهاجرين من اصحابه رضي اللہ عنهم كانوا من اهل مكة وكان لهم بها اوطان اصلية، ثم لما هاجروا وتوطنوا بالمدينة وجعلوها دارا لانفسهم انتقض وطنهم الاصلي بمكة، حتى كانوا اذا اتوا مكة يصلون صلاة المسافرين، حتى قال النبي صلى اللہ عليه وسلم حين صلى بهم: اتموا يا اهل مكة!صلاتكم فانا قوم سفر، ولان الشيء جاز ان ينسخ بمثله۔۔ ولا ينتقض الوطن الاصلي بوطن الاقامة ولا بوطن السكنى، لانهما دونه والشيء لا ينسخ بما هو دونه وكذا لا ينتقض بنية السفر والخروج من وطنه، حتى يصير مقيما بالعود اليه من غير نية الاقامة، لما ذكرنا: ان النبي صلى اللہ عليه وسلم كان يخرج من المدينة مسافرا وكان وطنه بها باقيا، حتى يعود مقيما فيها من غير تجديد النية‘‘
ترجمہ: پس وطنِ اصلی اپنی مثل سے ختم ہوگا، اس کے علاوہ نہیں اور مثل سے مراد یہ ہے کہ انسان (اپنے شہر کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر ) کسی دوسرے شہر کو وطن بنا لے اور اہل و عیال کو اپنے شہر سے اس شہر کی جانب لے آئے، تو پہلا شہر وطنِ اصلی ہونے سے نکل جائے گا حتیٰ کہ اگر وہ پہلے شہر میں مسافر ہونے کی حالت میں داخل ہوگا، تو اس کی فرض نماز چار رکعت نہیں ہو گی۔ اور اس کی اصل یہ ہے کہ بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہجرت کرنے والے صحابہ کرام علیہم الرضوان مکہ کے رہنے والے تھے، وہاں ان کا وطنِ اصلی تھا، پھر جب انہوں ہجرت کی اور مدینہ کو وطن بنا کر وہاں اپنا گھر بسا لیا، تو مکہ میں ان کا وطنِ اصلی ختم ہو گیا، جب یہ مکہ آتے، تو سفر والی نماز ادا کرتے حتیٰ کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ مکہ کو نماز پڑھائی، تو فرمایا: اے اہلِ مکہ! اپنی نماز مکمل کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ چیز کا اپنی مثل کے ساتھ ختم ہونا درست ہے۔ اور وطنِ اصلی وطنِ اقامت اور وطنِ سکنٰی سے ختم نہیں ہوگا، کیونکہ ان دونوں کا مرتبہ وطنِ اصلی سے کم ہے اور چیز اپنے سے کم مرتبہ شے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اور اسی طرح وطنِ اصلی محض سفر اور وہاں سے نکلنے سے ختم نہیں ہوگا، یہاں تک کہ اس کی جانب واپس آنے سے بندہ بغیر اقامت کی نیت کے مقیم ہو جائے گا، کیونکہ ہم نے ذکر کر دیا کہ بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے مسافر ہونے کی حالت میں نکلے اور وہاں آپ کا وطنِ اصلی باقی تھا، یہاں تک کہ آپ مدینہ میں بغیر نئی نیت کیے مقیم ہونے کی حالت میں لوٹے۔ (بدائع الصنائع، ج1، ص103تا104، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
وطنِ اصلی کو اگرچہ ترک کرنے کا ارادہ کر لیا ہو، تب بھی دوسری جگہ وطنِ اصلی بنائے بغیر وہ باطل نہیں ہوگا۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے:
’’(ويبطل الوطن الاصلي بمثله لا السفر ووطن الاقامة بمثله والسفر والاصلي) لان الشيء يبطل بما هو مثله لا بما هو دونه، فلا يصلح مبطلا له۔۔والوطن الاصلي هو وطن الانسان في بلدته او بلدة اخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع اهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها، بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير وهو ان يتوطن في بلدة اخرى وينقل الاهل اليها، فيخرج الاول من ان يكون وطنا اصليا، حتى لو دخله مسافرا لا يتم۔۔قيد بقوله" بمثله" لانه لو باع داره ونقل عياله وخرج يريد ان يتوطن بلدة اخرى، ثم بدا له ان لا يتوطن ما قصده اولا ويتوطن بلدة غيرها فمر ببلده الاول، فانه يصلي اربعا، لانه لم يتوطن غيره ‘‘
ترجمہ: اور وطنِ اصلی اپنی مثل سے باطل ہوتا ہے، سفر سے نہیں اور وطنِ اقامت اپنی مثل، سفر اور وطنِ اصلی سے باطل ہوجاتا ہے، کیونکہ چیز اپنی مثل سے تو باطل ہو سکتی ہے، لیکن اپنے سے کم مرتبہ چیز سے نہیں، لہذا کم مرتبہ والی چیز اسے باطل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔اور وطنِ اصلی: وہ انسان کا اپنے شہر والا وطن ہےیا دوسرے شہر کا وطن کہ جہاں اس نے گھر بسا لیا، بیوی بچوں کے ساتھ وہاں رہنا شروع کر دیااور اس کا وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ نہیں، بلکہ وہاں ہی زندگی گزارے گا۔یہ وطن اپنی مثل سے باطل ہوگا، اس کے علاوہ سے نہیں۔ اور مثل سے مراد یہ ہے کہ انسان (اپنے شہر کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر) کسی دوسرے شہر کو وطن بنا لے اور اہل و عیال کو وہاں لے جائے، پس پہلا شہر وطنِ اصلی ہونے سے نکل جائے گا، یہاں تک کہ اگر اس میں مسافر ہونے کی حالت میں داخل ہوا، تو پوری نماز نہیں پڑھے گا۔ یہاں اپنی مثل سے باطل ہونے کی قید لگائی گئی ہے، کیونکہ اگر کسی نے اپنا گھر بیچ کر اہل و عیال کو ساتھ لے لیا اور کسی دوسرے شہر کو وطن بنانے کے ارادے سے نکل پڑا، پھر اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اس دوسرے شہر کو وطن نہیں بنائے گا، بلکہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ کو بنائے گا، پس وہ اپنے پہلے والے شہر سے گزرا، تو چار رکعت نماز ادا کرے گا، کیونکہ ابھی تک اس نے اپنے شہر کے علاوہ کسی اور جگہ کو وطن نہیں بنایا۔ (البحر الرائق، ج2، ص147، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
اسی بارے میں در مختار مع رد المحتار میں ہے:
بین القوسین مزیدا من رد المحتار:
’’الوطن الاصلي۔۔يبطل بمثله۔۔لا غير(قيد بقوله "بمثله"لانه لو انتقل منه قاصدا غيره، ثم بدا له ان يتوطن في مكان آخر، فمر بالاول اتم، لانه لم يتوطن غيره )‘‘
ترجمہ: وطنِ اصلی اپنی مثل سے باطل ہو گا، اس کے علاوہ نہیں۔یہاں مثل کی قید لگائی گئی ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص وطنِ اصلی سے کسی اور جگہ کا ارادہ کرتے ہوئے منتقل ہو، پھر اس کا ارادہ کسی تیسری جگہ کو وطن بنانے کا بن جائے اور وہ اپنے پہلے والے وطن سے گزرے، تو پوری نماز ادا کرے گا، کیونکہ ابھی تک اس نے اس کے علاوہ کسی جگہ کو وطن نہیں بنایا۔ (درمختار مع رد المحتار، ج2، ص131، مطبوعہ دار الفکر، بیروت(
اس کی مزید وضاحت الہدایہ اور اس کی شرح البنایہ میں یوں ہے:
بین القوسین من الھدایہ: ’’(ان الاصل ان الوطن الاصلي يبطل بمثله) وهو الذی انتقل اليه باهله وصورته رجل وطنه بالكوفة وخرج الى مكة فاستوطنها، ثم بدا له ان ينتقل باستيطانه بمكة واتخاذها دارا، فلو انه لم يتوطن بمكة، ثم بدا له ان يرجع ويتخذ خراسان دارا فمر بالكوفة يصلي بها اربعا‘‘
ترجمہ: قاعدہ یہ ہے کہ وطنِ اصلی اپنی مثل ہی سے باطل ہوگااور مثل سے مراد یہ ہے کہ انسان اس کی جانب اہل و عیال سمیت منتقل ہو جائے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص کا وطنِ اصلی کوفہ میں ہے اور وہ مکہ کی جانب نکلا اور اسے وطن بنانا چاہا، پھر اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ مکہ کو وطن بنانے اور وہیں گھر بسانے کے طور پر منتقل ہو گا (تو ایسی صورت میں مکہ اس کا وطنِ اصلی ہو جائے گا)۔ پس اگر یہی شخص مکہ کو وطنِ اصلی نہ بنائے، پھر ارادہ کر لے کہ لوٹ کر خراسان میں گھر بسائے گا اور وہ کوفہ سے گزرے، تو چار رکعت نماز ادا کرے گا۔ (البنایہ مع الھدایہ، ج3، ص31، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد فرحان افضل عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0074
تاریخ اجراء: 30جمادی الاولیٰ1447ھ22نومبر2025ء