جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ کی نمازکے بجائے ظہر کی نماز پڑھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی بندے نے جمعہ کی نماز چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھی، تو کیا اس کی ظہر ہو جائے گی؟
جواب
جس پر جمعہ فرض ہے، اس کے لیے بلاعذر شرعی جمعہ ہونے سے پہلے نماز ظہر پڑھنا، ناجائز و گناہ ہے، جس سے توبہ کرنا لازم ہے، اور جمعہ سے پہلے ظہر پڑھ لی، تو تب بھی جمعہ کے لیے جانا فرض ہے، اور ظہر پڑھ لینے کے بعد جس وقت گھر سے جمعہ کی نیت سے نکلا، اگر اس وقت امام نماز میں ہو، یا ابھی نمازشروع ہی نہیں ہوئی، تو جو پہلے ظہر پڑھی تھی،وہ جاتی رہی، جمعہ مل جائے تو پڑھ لے، ورنہ ظہر کی نماز دوبارہ پڑھے، اگرچہ مسجد دور ہونے کی وجہ سےجمعہ نہ ملا ہو، اور جمعہ ہو جانے کے بعد ظہر پڑھنے میں کراہت نہیں، بلکہ اب تو ظہر ہی پڑھنا فرض ہے، ہاں! اگر جمعہ جان بوجھ کر، بلا عذر شرعی چھوڑا، تو اس کاگناہ ہوگا، جس سے سچے دل سے توبہ کرنا،لازم ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے
و من لا عذر لہ لو صلی الظھر قبلھا کرہ کذا فی الکنز
ترجمہ: جس کو کوئی عذر شرعی نہ ہو، وہ اگر جمعہ کی ادائیگی سے پہلے ظہر پڑھ لے تو ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح کنز میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 148، مطبوعہ: کوئٹہ)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے
(فان فعل ثم) ندم و (سعی)۔۔۔ (الیھا)۔۔۔ بان انفصل عن باب (دارہ)۔۔۔ (بطل) ظھرہ
ترجمہ: اگر جمعہ سے پہلے ظہر کی نماز پڑھ لی پھر نادم ہوا اور جمعہ کےلئےاپنے گھر کے دروازے سے نکل گیا تو اس کی ظہر کی نماز باطل ہوجائے گی۔ اس کے تحت ردالمحتارمیں ہے
قال فی البحر: و اطلق أی:فی البطلان فشمل ما اذا لم یدرکھا لبعد المسافۃ مع کون الامام فیھا وقت الخروج او لم یکن شرع، و ھو قول البلخیین
ترجمہ: بحرمیں فرمایا کہ بُطلان کو مطلق ذکر کیا تو اس میں وہ صورت بھی شامل ہوجائے گی کہ جب اُسے مسافت کے دور ہونے کے سبب جمعہ نہ مل سکے، اگرچہ جمعہ کے لیے نکلتے وقت امام جمعہ کی نماز میں تھا یا ابھی اس نے نماز شروع نہیں کی تھی اور یہ علمائے بلخ کا قول ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 34 - 35، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے جس پر جمعہ فرض ہے اسے شہر میں جمعہ ہوجانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، بلکہ امام ابنِ ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حرام ہے، اور پڑھ لیا جب بھی جمعہ کے لئے جانا فرض ہے، اور جمعہ ہوجانے کے بعد ظہر پڑھنے میں کراہت نہیں بلکہ اب تو ظہر ہی پڑھنا فرض ہے اگر جمعہ دوسری جگہ نہ مل سکے، مگر جمعہ ترک کرنے کا گناہ اس کے سر رہا۔ یہ شخص کہ جمعہ ہونے سے پہلے ظہر پڑھ چکا تھا نادم ہو کر گھر سے جمعہ کی نیت سے نکلا اگر اس وقت امام نماز میں ہو تو نماز ظہر جاتی رہی، جمعہ مل جائے تو پڑھ لے ورنہ ظہر کی نماز پھر پڑھے اگرچہ مسجد دور ہونے کے سبب جمعہ نہ ملا ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 773، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4596
تاریخ اجراء: 11 رجب المرجب 1447ھ / 01 جنوری 2026ء