logo logo
AI Search

عشاء کے فرض پڑھے بغیر تراویح پڑھانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عشاء کے فرض پڑھے بغیر تراویح پڑھا سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے حافظ صاحب جو ہمیں تراویح پڑھاتے ہیں وہ بہت دور سے آتے ہیں، ایک دن وہ لیٹ ہوگئے، ہم عشاء کے فرض اور سنتیں پڑھ چکے تھے تب وہ پہنچے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ پہلے آپ ہمیں تراویح پڑھا دیں، آپ عشاء کے فرض سنتیں اور وتر وغیرہ بعد میں پڑھ لیجئے گا، لیکن ہماری مسجد کے امام صاحب نے کہا کہ ایسے نہیں ہوسکتا، حافظ صاحب پہلے اپنی نماز عشاء کے فرض اور سنتیں پڑھیں گے پھر تراویح پڑھائیں گے، امام صاحب کی وجہ سے اس دن تو حافظ صاحب نے ایسا ہی کیا جیسے امام صاحب نےفرمایا۔سوال یہ ہے کہ اگر کبھی آئندہ ایسا ہوجائے تو کیا حافظ صاحب اپنی نماز عشاء پڑھے بغیر ہمیں تراویح پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ تراویح پڑھانے کے بعد وہ اپنے عشاء کے فرض وسنت اور وتر پڑھ لیں گے۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے اور متوارث طریقہ بھی یہی ہے کہ عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد ہی تراویح پڑھائی جائے، اور بلاضرورت اس طرح کی نئی چیزوں میں پڑ کر لوگوں کو تشویش میں ہرگز مبتلا نہ کیا جائے، لہذا تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب کو چاہیے کہ آئندہ بھی جس مسجد میں انہوں نے نماز تراویح کی امامت کرنی ہے، اسی مسجد میں وہ عشاء کی نماز باجماعت ادا کریں، اس کے بعد تراویح کی امامت کریں۔

البتہ اگر متوارث طریقہ کے خلاف، تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب نے، عشاء کے فرض پڑھے بغیر ہی تراویح پڑھا دی تو امام کیلئے تو یہ حکم ہوگا کہ وہ مذکورہ نوافل کو تراویح کی نیت سے نہیں بلکہ نوافل کی نیت سے پڑھے اور بعد میں عشاء کے فرض اور تراویح دوبارہ پڑھے، اور وہ مقتدی جنہوں نے عشاء کے فرض پڑھ لئے تھے، ان کیلئے یہ حکم ہوگا کہ ان کی تراویح کی نماز ادا ہوگئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تراویح کا وقت عشاء کے فرضوں کے بعد سے شروع ہوتا ہے، امام نے جب عشاء کے فرض ہی نہیں پڑھے تو اس کی پڑھائی گئی نماز، اس کے حق میں نفل نماز کہلائے گی، تراویح نہیں کہلائے گی، اس لئے اسے عشاء کے فرضوں کے ساتھ تراویح بھی دوبارہ پڑھنی ہوگی مگر مقتدی چونکہ عشاء کے فرض پڑھ چکے تھے، اس لئے ان کے حق میں صرف اتنا ہوا کہ انہوں نے تراویح کی اقتداء، ایسے امام کے پیچھے کی جو نفل نماز میں تھا اور راجح قول کے مطابق نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے تراویح کی اقتداء ہوسکتی ہے، لہذا مقتدیوں کی تراویح ادا ہوگئی۔

تراویح کا وقت، عشاء کے فرض کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر فرض ادا نہیں ہوئے تو عشاء کے فرضوں کے ساتھ تراویح بھی دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ بدائع الصنائع، مجمع الانہرودیگر کتب فقہ میں ہے:

”واللفظ لمجمع الانھر“ وقت التراويح بعد صلاة العشاء إلى آخر الليل لأنها تبع للعشاء دون الوتر حتى لو ظهر أن العشاء صليت بلا طهارة والتراويح بطهارة أعيدت التراويح مع العشاء“

ترجمہ: تراویح کی نماز کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کررات کے آخر تک ہوتا ہے کیونکہ یہ عشاء کے تابع ہے، وتر کے تابع نہیں ہے، اگر نماز عشاء و تراویح پڑھنے کے بعد ظاہر ہوا کہ عشاء کی نماز بغیر طہارت کے ادا ہوئی ہے اور تراویح طہارت کے ساتھ ادا ہوئی ہے تو عشاء کی نماز کے ساتھ تراویح کو بھی دوبارہ پڑھا جائے گا۔ (مجمع الانہرجلد1، صفحہ202، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”جماعۃ التراویح لاتدعوا من لم یصل الفرض الی الدخول فیھا فان الصحیح المعتمد بطلان التراویح قبل اداء الفرض ولذا قال فی جامع الرموز: اذا دخل واحد فی المسجد والامام فی التراویح یصلی فرض العشاء اولا ثم یتابعہ۔“

ترجمہ: جس نے ابھی عشاء کے فرض نہ پڑھے ہوں، تراویح کی جماعت اسے تراویح میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دیتی، کیونکہ صحیح معتمد قول کے مطابق عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے تراویح ادا کرنا باطل ہے، اسی وجہ سے جامع الرموز میں فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور امام تراویح پڑھا رہا ہو تو آنے والا پہلے اپنے عشاء کے فرض ادا کرے گا پھر امام کی اتباع میں تراویح میں شامل ہوگا۔ (فتاوی رضویہ جلد 7، صفحہ 544، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

جب عشاء کے فرض ادا نہ ہوں تو تراویح کی نیت سے پڑھی گئی نماز، نفل نماز کہلاتی ہے۔ مراقی الفلاح اور امداد الفتاح میں ہے:

واللفظ للآخر: ” لوتبین فساد العشاء دون الوتر والتراویح أعادو العشاء ثم التراویح دون الوتر عند أبی حنیفۃ، لأنھا تبع للعشاء فتکون التی فعلھا بعد فساد العشاء نافلۃ مطلقۃ لیست واقعۃ عن التراویح لکونھا لیست فی محلھا فتعاد أی تصلی فی موضعھا“

ترجمہ: جب یہ ظاہر ہو کہ عشاء کی نماز فاسد ہوگئی تھی مگروتر اور تراویح فاسد نہیں ہوئے تھے تو پہلے عشاء کی نماز دوبارہ پڑھی جائے گی پھر تراویح دوبارہ پڑھی جائے گی، وتر دوبارہ نہیں پڑھے جائیں گے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تراویح، عشاء کے تابع ہے، عشاء کی نماز فاسد ہونے کےبعد اس نے جو نماز، تراویح کی نیت سے پڑھی، وہ نفل نماز بن جائے گی، تراویح نہیں کہلائے گی کیونکہ وہ نماز، تراویح کے محل میں واقع نہیں ہوئی، لہذا تراویح کو دوبارہ اپنے محل میں پڑھا جائے گا۔ (امداد الفتاح، صفحہ 457، مطبوعہ لاہور)

نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے، تراویح پڑھنے والا اقتداء کرسکتا ہے۔ امام اہلسنت امام احمدرضا خان رحمہ اللہ سے سوال ہوا: ایک شخص، ایک مسجد میں فرض جماعت سے پڑھا کر تراویح بیس رکعت پڑھاتا ہے، پھر وہی شخص دوسری مسجد میں تراویح بیس رکعت جماعت سے پڑھاتا ہے، آیا یہ امامت اس کی صحیح ہے یا نہیں؟ اور مقتدیان ِمسجدِ دیگر کی تراویح ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟

اس کے جواب میں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: مذہبِ راجح میں امامت صحیح ہے، تراویح ہوجاتی ہے، مگر خلافِ علماء واختلافِ تصحیح ومخالفت ِ طریقہ متوارثہ سے بچنے کیلئے بے ضرورت اس سے احتراز کیا جائے۔

”فی الخانیۃ والخلاصۃ والظھیریۃ وغیرھا: اذا صلی التراویح مقتدیا بمن یصلی المکتوبۃ أو بمن یصلی نافلۃ غیرالتراویح اختلفوا فیہ، والصحیح أنہ لایجوز۔۔۔۔۔۔الخ “

(اس کے بعد امام اہلسنت رحمہ اللہ نےمزید عدم جواز والے جزئیات ذکرفرمانے کے بعد فرمایا)”فی رد المحتار: أن ما ذکرہ المصنف ھھنا مخالف لما قدمہ فی شروط الصلاۃ بقولہ: وکفی مطلق نیۃ الصلاۃ لنفل وسنۃ وتراویح، وذکر الشارح ھناک أنہ المعتمد ونقلنا ھناک عن البحر: أنہ ظاھرالروایہ وقول عامۃ المشائخ وصححہ فی الھدایۃ وغیرھا ورجحہ فی الفتح ونسبہ الی المحققین۔اھ والفتوی متی اختلف رجح ظاھرالروایہ، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ جلد7، صفحہ 463، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR -0238
تاریخ اجراء: 20 رمضان المبارک 1447ھ/10 مارچ 2026 ء