کیا جمعہ کا خطبہ سننا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ کا خطبہ سننے کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جمعہ کا خطبہ سننے کا کیا حکم ہے؟ اگر لیٹ ہو گئے اور خطبہ نہیں سنا تو کیا نماز ہو جائے گی؟
جواب
نمازِ جمعہ کے لیے جلدی حاضر ہونے کی حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے اور اس میں خطبہ اپنی اہمیت رکھتا ہے جسے خاموشی اور پوری توجہ سے سننے کا حکم ہے، لہذا بلا عذر اس قدر تاخیر کرنا کہ خطبہ چھوٹ جائے، آدمی کو جمعہ کے کامل ثواب سے محروم کر دیتا ہے، تاہم خطبہ سننا نماز کے صحیح ہونے کی شرط نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص تاخیر کے سبب خطبہ نہ سن سکا لیکن نماز میں امام کے ساتھ شامل ہو گیا تو اس کی نماز جمعہ ادا ہو جائے گی، جبکہ وہاں جماعتِ جمعہ اپنی شرائط کے ساتھ قائم ہوئی ہو۔
صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، مسند احمد وغیرہ میں ہے:
عن أبي هريرة رضي اللہ عنه أن رسول الله صلى اللہ عليه وسلم قال: من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكأنما قرب بدنة و من راح في الساعة الثانية فكأنما قرب بقرة و من راح في الساعة الثالثة فكأنما قرب كبشا أقرن و من راح في الساعة الرابعة فكأنما قرب دجاجة و من راح في الساعة الخامسة فكأنما قرب بيضة فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کرے، پھر (جمعہ کے لیے) جائے تو گویا اس نے اونٹ صدقہ کیا اور جو دوسری ساعت میں جائے تو گویا اس نے گائے صدقہ کی اور جو تیسری ساعت میں جائے تو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو گویا اس نے انڈا صدقہ کیا، پس جب امام (خطبے کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے حاضر ہو کر ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں۔ (صحيح البخاري، كتاب الجمعة، باب فضل الجمعة، جلد 1، صفحہ 301، حدیث 841، دار ابن كثير، دمشق)
علامہ مظہر الدین حسین بن محمود مظہری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 727ھ / 1327ء) لکھتے ہیں:
فإذا خرج الإمام أي: فإذا صعد الخطيب المنبر تطوي الملائكة كتبهم ويحضرون استماع الخطبة يعني من دخل في هذا الوقت يكون ثوابه قليلا ولا تكتبه الملائكة من الذين لهم ثواب كامل
ترجمہ: پس جب امام نکل آتا ہے یعنی جب خطیب منبر پر چڑھتا ہے تو فرشتے اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں، یعنی جو شخص اس وقت داخل ہوتا ہے اس کا ثواب کم ہوتا ہے اور فرشتے اسے اُن لوگوں میں نہیں لکھتے جنہیں کامل ثواب ہوتا ہے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، كتاب الصلاة، باب التنظيف و التبكير، جلد 2، صفحہ 322، دار النوادر، كويت)
علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ خطیب تمرتاشی غزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1004ھ/ 1596ء) لکھتے ہیں:
و من أدركها في تشهد أو سجود سهو يتمها جمعة
ترجمہ: اور جو نمازِ جمعہ کو (امام کے ساتھ) تشہد یا سجدۂ سہو میں پالے، وہ اپنی نماز کو جمعہ ہی کے طور پر مکمل کرے گا۔ (تنوير الأبصار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، صفحہ 30، المکتبہ النبویۃ، مصر)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) سے اس شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے خطبہ نہ سنا، آیا اس کی نماز جمعہ ادا ہوئی یا نہیں تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: جو شخص تشہد میں بھی شریک جماعت ہوا، اس کی نماز جمعہ ادا ہو جائے گی۔ ... لیکن احادیث میں جمعہ کی نماز کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جمعہ کی نماز دس دنوں کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔ اس ثواب سے وہ شخص محروم رہے گا جو خطبہ کی اذان شروع ہونے کے بعد آئے گا۔ حدیث میں فرمایا کہ مسجد کے دروازے پر فرشتے ایک کھاتہ لے کر بیٹھے ہوتے ہیں اور جمعہ کی نماز میں آنے والوں کے نام ترتیب وار لکھتے رہتے ہیں۔ جب امام ممبر کی طرف جانے لگتا ہے تو وہ اپنا کھاتہ بند کر کے خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔… لہذا اس رجسٹر میں بعد میں آنے والوں کا نام نہیں لکھا جاتا۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 161-162، بزم وقار الدین، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1090
تاریخ اجراء: 16 شعبان المعظم 1447ھ / 5 فروری 2026ء