مسجد میں اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھ لی، کیا نماز ادا ہو جائے گی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسجد میں اذان و اقامت کے بنا نماز پڑھ لی، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
گاؤں کی ایک بستی میں مؤذن کے غیر حاضر ہونے اور امام کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اذان و اقامت کے بغیر جماعت قائم ہوگئی۔ بعد میں امام کو معلوم ہوا تو کیا وہ نماز ہوگئی ؟ کیا بستی والے گناہگار ہوئے؟
جواب
پوچھی گئی صورت کے مطابق اگرچہ نماز تو ہوگئی ہے ، اسے دہرانے کی حاجت نہیں ، تاہم جنہوں نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھی ان سب پر توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ ایسا کرنے سے بچنا شرعاً لازم ہے ، کیونکہ مردوں کیلئے مسجد میں فرائض کی جماعتِ اولیٰ اذان و اقامت کے بغیر مکروہ و گناہ ہے ۔
چنانچہ امامِ اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : ’’ نمازِ پنجگانہ سے جونماز وقتی رجال احرار غیرعُراۃ مسجد میں باجماعت اداکریں اس کے لئے سوا بعض صور مستثناۃ کے وقت میں اذان کا پہلے ہولینا سنتِ مؤکدہ قریب بواجب ہے اور بے اس کےجماعت کرلینا مکروہ وگناہ یہاں تک کہ یہ جماعت شرعاً اصلاً معتبر نہیں اس کے بعد جو جماعت باذان واقامت ہوگی وہی پہلی جماعت ہوگی، بلکہ علماء فرماتے ہیں اگر کچھ لوگوں نے آہستہ اذان دے کر جماعت کرلی کہ آوازِ اذان اوروں کو نہ پہنچی تو ایسی جماعت بھی داخل شمار واعتبار نہیں نہ کہ جب سرے سے اذان دی ہی نہ جائے، وجیز امام کردری میں ہے:
ویکرہ للرجال اداء الصلٰوۃ بجماعۃ فی مسجد بلااعلامین لا فی المفازۃ والکروم والبیوت
(یعنی مردوں کے لئے مسجد میں فرائض کی جماعت اذان و اقامت کے بغیر مکروہ ہے، جنگل، گھنے باغوں اور گھروں میں مکروہ نہیں)۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ، جلد7، صفحہ76-77مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاہور )
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2386
تاریخ اجرا: 17صفرالمظفر1447ھ/12اگست2025ء