logo logo
AI Search

سنت غیر مؤکدہ کے قعدہ اولی میں درود اور تیسری رکعت میں ثناء کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نوافل اور سنت غیر مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں درود پاک اور تیسری رکعت میں ثناء پڑھنے کا حکم ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

چار رکعت سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کے پہلے قعدہ میں درود پاک اور تیسری رکعت میں ثناء پڑھنے کا کہا جاتا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا نوافل اور سنت غیر مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں درود پاک اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناء پڑھنا بھی سنت مؤکدہ ہے یا صرف مستحب ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

چار رکعت سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کے پہلے قعدہ میں درود پاک و دعا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناءو تعوذ پڑھنا مستحب و بہتر ہے۔

مسئلہ کی تفصیل:  

 قوانین شرعیہ کے مطابق چار رکعت سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کا ہر شفع (دو رکعتیں) کئی اعتبارات سے ایک مستقل نماز ہوتا ہے، اسی وجہ سے  فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نےان کے پہلے قعدہ میں تشہد کے بعد درود پاک و دعا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثنا ء و تعوذ پڑھنے کا فرمایا ہے، لیکن چونکہ ان چار رکعات کا ہر شفع ہر اعتبار سے الگ نماز  کے حکم میں نہیں ہوتا، بلکہ کئی اعتبارات سے وہ مکمل چار رکعات ایک نماز ہی شمار ہوتی ہے، لہذا درود پاک اور ثناء کا وہ حکم جو ایک مستقل نماز میں ہے، یعنی سنت مؤکدہ ہونے والا، وہ یہاں نہیں ہے، بلکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق یہاں ان کا حکم مستحب و بہتر کا ہے۔

بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:

نوافل کا ہر شفع ایک الگ نماز ہوتا ہے، لہذا اس کے پہلے قعدہ میں درود پاک اور تیسری رکعت میں ثناء پڑھنا بہتر ہے، چنانچہ ملک العلماء علامہ کاسانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

”لأن كل شفع من التطوع صلاة على حدة، ولهذا قالوا: ‌إن ‌المتنفل ‌إذا ‌قام ‌إلى ‌الثالث ‌لقصد ‌الأداء ينبغي أن يستفتح فيقول: سبحانك اللهم وبحمدك إلخ كما يستفتح في الابتداء؛ لأن هذا بناء الافتتاح، وفي كل ركعتين من النفل صلاة على حدة“

ترجمہ: کیونکہ نوافل کا ہر شفع ایک الگ نماز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا: جب نفل پڑھنے والا تیسری رکعت کی ادائیگی کے لیے کھڑا ہوگا، تو بہتر ہے کہ وہ ثناء(سبحنک اللھم)پڑھے، جیسے شروع میں اس نے پڑھی تھی، کیونکہ یہ (تیسری رکعت نئے شفع کے) افتتاح کی بنیاد ہے، اور نفل نماز کی ہر دو رکعتیں ایک الگ نماز ہوتی ہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد01، صفحہ 292، دار الكتب العلمية)

چار رکعات نوافل اور سنت غیر مؤکدہ کا ہر شفع، ہر اعتبار سے الگ نماز کے حکم میں نہیں ہوتا، چنانچہ اس پر تفصیلی کلام کرنے کے بعد اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابراہیم بن محمد الحلبی الحنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ/1549ء) لکھتے ہیں:

”والحاصل: ان کل رکعتین من النفل صلاۃ علی حدۃ من وجہ دون وجہ، فاعتبر کونہ صلاۃ علی حدۃ فی حق القراءۃ، للاحتیاط۔۔۔واما فی غیر ھذہ الاحکام فالاولی: ان یعتبر کون الکل صلاۃ واحدۃ، لکونہ الاصل للاتصال واتحاد التحریمۃ، ولذا لایقال: انہ صلی صلاتین، بل صلاۃ واحدۃ، ومسالۃ الاستفتاح ونحوہ لیست مرویۃ عن الائمۃ المتقدمین، وانما ھی اختیار بعض المتاخرین، واللہ سبحانہ اعلم“

ترجمہ: اور خلاصہ کلا م یہ ہے کہ: بے شک نوافل کی ہر دو رکعتیں بعض اعتبارات سے ایک الگ نماز ہوتی ہے (اور بعض اعتبارات سے وہ مکمل رکعتیں ایک ہی نماز شمار ہوتی ہیں)، ہر دو رکعت کے الگ نماز ہونے کا اعتبار قراءت کے حق میں احتیاط کے سبب کیا گیا، اور بہر حال ان احکام کے علاوہ  اولی یہی ہے کہ اصل میں اتصال اور ایک ہی تحریمہ ہونے کے سبب تمام نوافل کو ایک ہی رکعت شمار کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ چار رکعت نوافل پڑھنے والے کو یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے دو نمازیں پڑھیں ہیں، بلکہ ایک ہی نماز کہا جاتا ہے، اور ثناء اور اس کی مثل دوسری چیزوں کا مسئلہ متقدمین فقہائے کرام سے مروی نہیں ہے، بے شک اسے بعض متاخرین فقہائے کرام نے اختیار فرمایا ہے ، اور اللہ تعالی زیادہ جاننے والا ہے۔ (غنیۃ المتملی، جلد 02، صفحہ 67، مطبوعہ کوئٹہ)

استحباب کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ ابن امیر الحاج رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لکھتے ہیں:

”اذا کانت الصلاۃ الرباعیۃ التی یصلیھا نافلۃ۔۔۔فقام من القعدۃ الاولیٰ الی الرکعۃ الثالثۃ فانہ یستحب لہ ان یبتدی الثالثۃ بالاستفتاح والتعوذ“

ترجمہ: جب چار رکعت نفل نماز پڑھی جائے، تو جب اس کے قعدہ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، تو نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ تیسری رکعت کو ثناء اور تعوذ کے ساتھ شروع کرے۔ (حلبۃ المجلی، جلد 02، صفحہ 182، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ چار رکعت نوافل ایک ساتھ پڑھنے کی صورت میں قعدہ اولی میں درود شریف و دعا اور تیسری رکعت میں سبحٰنک اللھم پڑھے یا نہیں؟

آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”پڑھنا بہتر ہے۔“   (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 443، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ/2001ء) بھی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”اس کا پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ بہتر ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں: چار رکعت تراویح یا نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں درود شریف و دعا اور تیسری رکعت میں سبحانک اللھم پڑھنا بہتر ہے۔ لہٰذا نفل یا سنت غیرمؤکدہ کی چار رکعت والی نماز میں اگر کسی نے دو رکعت پر درود شریف اور تیسری رکعت پر ثنا نہ پڑھی تو اس نماز کا اعادہ واجب نہیں۔ وھو تعالٰی اعلم“ (فتاوی فیض رسول، جلد 01، صفحہ 266، نشان منزل پبلی کیشنز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0247
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1447 ھ/01 اپریل 2026ء