logo logo
AI Search

نماز کے انتظار میں بیٹھے شخص کا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے شخص کا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملانا حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے، تو کیا وہ حدیث شریف کا ریفرنس مل سکتا ہے؟

جواب

تشبیک یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا ویسے تو جائز ہی ہے، البتہ نماز کے دوران یا نماز کیلئے جاتے ہوئے یا نماز کے انتظار میں مکروہ تحریمی ہے۔ حدیث نماز کی ان ہی صورتوں کےمتعلق ہے۔ حدیث پاک ریفرنس کے ساتھ درج ذیل ہے:

چنانچہ تشبیک کی ممانعت سے متعلق جامع ترمذی کی حدیث مبارکہ ہے:

’’عن كعب بن عجرة، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: «إذا توضأ أحدكم فأحسن وضوءه، ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن بين أصابعه، فإنه في صلاة»‘‘

ترجمہ: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے توخوب اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کی طرف ارادہ کرکے نکلے، تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرے(یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں نہ ڈالے) کیونکہ وہ (وضو کے بعد مسجد کی طرف جاتے ہوئے) نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی، جلد2، صفحہ228، رقم الحدیث: 386، مطبوعہ مصر)

تشبیک یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، تو یہ نماز میں، نماز کیلئے جاتے ہوئے اور نماز کے انتظار میں مکروہ تحریمی ہے، چنانچہ بہار شریعت میں ہے: ’’(نماز میں) اُنگلیاں چٹکانا، انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، مکروہ تحریمی ہے۔ نما زکے ليے جاتے وقت اور نماز کے انتظار میں بھی یہ دونوں چیزیں مکروہ ہیں اور اگر نہ نماز میں ہے، نہ توابع نماز میں تو کراہت نہیں، جب کہ کسی حاجت کے ليے ہوں‘‘۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ3، صفحہ625، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-981

تاریخ اجراء21 جمادی الاولی1447ھ/13 نومبر 2025ء